ٹرمپ نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم جون میں دیدیا تھا، امریکی ٹی وی کا انکشاف

  ٹرمپ نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم جون میں دیدیا تھا، امریکی ٹی وی کا ...

  



واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) مشرق وسطیٰ میں شیعہ قوت کے محور ایرانی انقلابی گارڈز ”اقدس فورس“ کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو صدر ٹرمپ کے حکم پر 2جنوری کو بغداد میں ایک میزائل حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا لیکن باقی دنیا کی طرح امریکی میڈیا میں بھی اس کی بازگشت ابھی تک جاری ہے۔ ”این بی سی“ ٹیلیویژن نے سوموار کے روز اس کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ نشر کی ہے جس میں موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان کو قتل کرنے کے منصوبے کی جون میں ہی اس وقت منظوری دیدی تھی جب ایران نے ایک امریکی ڈرون طیارے کو مارگرایا تھا۔ تاہم یہ واضح کیا گیا تھا کہ اگر آئندہ سلیمانی کے ہاتھوں ایک بھی امریکی ہلاک وہ تو ان کے قتل کے منصوبے پر فوری طور پر عمل کردیا جائے۔ اس وقت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن نے امریکی ڈرون کو گرائے جانے کے بعد صدرٹرمپ کو مشورہ دیا تھا کہ اس کا بدلہ لینے کیلئے جنرل سلیمانی کو ہلاک کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ اس ٹی وی چینل کے مطابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی اس وقت ایسا ہی آپریشن کرنے کی حمایت کی تھی۔ این بی سی کے نشریئے کے مطابق ایک سینئر امریکی حکام نے اسے بتایا کہ ”وقتاً فوقتاً صدر کے سامنے بہت سی آپشنز پیش کی جاتی رہیں اور ایران کی جارحیت کا جواب دینے کیلئے جو کارروائیاں تجویز کی گئیں ان میں جنرل سلیمانی کا قتل بھی تھا“۔ تاہم صدرٹرمپ نے جون میں اس تجویز سے جزوی اتفاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اب ایران کسی امریکی کو ہلاک، سرخ لائن عبور کرتا ہے تو پھر جنرل سلیمانی کو قتل کردیں گے۔ تاہم ”این بی سی“ کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی کا کئی سالوں سے پیچھا کیا جارہا تھا اور موجودہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے قبل ازیں جب وہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر تھے صدر پر زور دیا تھا کہ وہ سلیمانی کے خلاف زیادہ جارحانہ کارروائی کریں۔ سلیمانی کو قتل کرنے کا موضوع 2017ء میں بھی زیر بحث آیا تھا جب اس وقت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر جنرل (ر) ایچ آر میکماسٹر وائٹ ہاؤس کے دوسرے اعلیٰ حکام سے بات چیت کر رہے تھے۔ ٹرمپ کے ایک سابق انتظامی افسر نے ”این بی سی“ کو بتایا کہ جنرل سلیمانی کو ہلاک کرنا صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کے ایک عنصر کے طور پر ہمیشہ سے موجود رہی ہے اور ایسا نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ نے پہلی مرتبہ انہیں ہلاک کرنے کے بارے میں سوچا ہو۔ صدرٹرمپ نے آخری مرتبہ انہیں ہلاک کرنے کی منظوری بغداد میں امریکی سفارتخانے پر دھاوا بولنے کے بعد دی۔ جس کا آغاز 31دسمبر کو ہوا اور جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ ایرانی ملیشیا نے یہ کارروائی جنرل سلیمانی کی ہدایت پر کی تھی۔ جب امریکی سفارتخانے پر حملے میں ایک امریکی کنٹریکٹر کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملی تو پھر امریکہ نے عراق اور شام میں ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانوں پر حملے کئے تھے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے بعد میں گزشتہ ہفتے یہ بیان جاری کیا تھا کہ سلیمانی کو اس لئے ہلاک کیا گیا تھا کیونکہ انٹیلی جنس نے اطلاع دی تھی کہ اس کی طرف سے شدید خطرات لاحق تھے اور مزید چار سفارتخانے بھی اس کی ہدایت پر ہونیوالے حملوں کی زد میں آسکتے تھے۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے ایک تازہ بیان میں عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران امریکہ سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ان کا بیان ان کے سکیورٹی ایڈوائزر رابرٹ اوبرائن کے اس تبصرے کے بعد آیا ہے کہ ایران پر اب اتنا دباؤ پڑ رہا ہے کہ اس کے پاس مذاکرات کی میز پر آنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا۔

سلیمانی کاقتل 

مزید : صفحہ اول