رانا توْ تو گیو

رانا توْ تو گیو
رانا توْ تو گیو

  



پوری قوم کو مبارک ہو ہماریہر دل عزیز کمانڈو پرویز مشرف کے حق میں ایک معتبر گواہی آ ہی گئی،موت کی سزا بھی ٹلی اور خصوصی عدالت کی حیثیت بھی۔دل کر رہا ہے کہ ”کنگی شنگی وا کے،جیل شیل لا کے“ اور گدا ڈالوں آئیں آپ بھی مل کر گائیں ”لڈی ہے جمالو پاؤ لڈی ہے جمالو“ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک عرصہ بعد ”اچھا بچہ“ بننے والی (ن) لیگ کیا کہتی ہے۔رانا تے فیر رانا اے اس نے پٹھا سیدھا بولنا ہے۔اس لئے رانا ثناء اللہ کے کمنٹس کو بالکل سیریس نہیں لینا چاہیے۔وہ ایک تو فیصل آبادیئے ہیں اور دوسرے پورے راجپوت،لندن میں ان کا بھی عاق نامہ تیار ہو رہا ہے خواجہ آصف کے بعد اب ان کی باری ہے۔فیصلے سے پرویز مشرف سابق مرد آہن اب وہ بستر علالت سے اٹھ کے مہندی وہندی پر تھوڑا بہت لچک سکتے ہیں۔فیصلے کے بعد انکے ساتھیوں کا ٹولہ موجاں مارے گا انہیں کروٹ کروٹ سکون ملے گا۔ وہیں ان کی کابینہ جو آجکل عمران خان کے آنگن میں چھپا چھپی کھیل رہے ہیں کی آتما کو شانتی مل گئی ہو گی۔ٹیچر نے لکھ کر بھیجا بچے کو نہلا دھلا کر بھیجا کریں اس سے سخت بدبو آتی ہے۔سنتا سنگھ نے جواب میں لکھا میرا بچہ کوئی گلاب کا پھول نہیں اسے پڑھائیں اینو سنگھن دی کوئی لوڑ نئیں۔فیصلوں کو تسلیم کرنا چاہیے انہیں سونگھیں گے تو ڈانٹ پڑے گی پھٹکار بھی پڑنے کا امکان ہے یہ کیا کم ہے کے فیصلے ہو رہے ہیں۔سنتا سنگھ کی گائے درد سے کراہ رہی تھی اس نے گاؤں میں مْکھیا بنتا سنگھ سے پوچھا وہ بولا میری مج کی طبیعت خراب ہوئی تو میں نے اسے مٹی کا تیل پلایا تھا،سنتا نے بھی پلادیا گائے مر گئی،وہ روتا ہوا آیا اور بولا گائے مرگئی ہے،مْکھیا بنتا سنگھ بولا تے میری کیڑی بچ گئی سی۔اس مْکھیا کے فیصلے پر عمل نا کرو تو 'توہین مْکھیا' اور کرو تو گائے مرجائے۔بہتر سال سے ہم تو مْکھیا کی بات مان رہے ہیں چاہے ہمارا قانون انصاف اور آئین کی مج مر جائے۔چلیں اچھی بات ہے بڑے لوگوں کی زندگیاں محفوظ رہنی چاہیں۔اس میں ہم سے سب کا بھلا ہے۔ہم تو ویسے بھی بین الاقوامی گلی محلوں میں آوازیں لگاتے ہیں ”جو دے اس کابھی بھلا،جو نہ دے اس کا بھی بھلا“۔

میری ہاتھ جوڑ کے بنتی ہے عمران خان ٹینشن نہ لیں ایم کیو ایم کی کھوتی بوڑہ تھلے ہی آئے گی۔اس کے ڈی این اے میں اپوزیشن شامل نہیں ہے بس تھوڑا بہت 'ریٹ' بڑھے گا اور کچھ نہیں۔ہم تو کب سے کہہ رہے ہیں عمران خان کے ہاتھ بندھے ہیں وہ سر ڈھانپیں تو پاؤں ننگے ہو جاتے ہیں اور پاؤ ں ڈھانپیں تو سر،جوتا چاہے کتنا ہی قیمتی ہو اگر اس میں ٹکے کی اینٹ کا کنکر آجائے تو چلنا محال ہو جاتا ہے۔خان صاحب کو بدو بدی ایسے جوتے پہنا دیئے گئے ہیں جن پر کمپرومائز کے تسمے اور مخالف مزاج کے کنکر بھی شامل ہیں۔یہی پاکستانی جمہوریت کا المیہ ہے گو 1947ء سے یہاں کسی کو بھی حسب آرزو نہ ملا لیکن اس بار تو خاصی 'انہی پے گئی ہے'۔دنیا ایک خوفناک کرائسس سے گزر رہی ہے۔آرما گوڈن سر پر منڈلا رہا ہے اور ہمارے سیاستدان رسی ووہٹی وانگ ہر روز گھر سے بھاگنے کی تڑیاں لگا رہے ہیں۔یہ اچانک اتحادیوں سے ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت کسی گڑبڑ کی طرف اشارہ کررہی ہے۔۔اچانک بہت سوں کے پیٹ میں 'ٹھڈ پیڑ'شروع ہوگئی ہے بھائی پہلے تسلی سے گاجراں تو کھا لو۔جب عمران خان حالات کو تھوڑا سنبھالتے ہیں انکی اپنی گود میں۔بیٹھے داڑھی پٹنا شروع کردیتے ہیں۔کوئی پوچھے کراچی کا بیڑہ غرق کس نے کیا مودی نے کیا تھا یا ولادیمر پیوٹن نے۔ایم کیو ایم،پیپلز پارٹی پچھلے 40سال سے اس کی مالک ہے اور کسی کو چھاپے میں ہاتھ بھی مارنے نہیں دیتی۔اس لئے عمران خان کو فی الحال سب برداشت کرنا ہو گا انہیں اپنے پانچ سال اسی طرح ہنسی خوشی گزارنے ہوں گے۔اطلاعی گھنٹی بجی،صاحب خانہ کے دوست آئے تھے،سنتا سنگھ بولے جناب صاحب جی گھر پر نہیں وہ مری گئے ہیں، دوست بولا اچھا اچھا سیرو تفریح کرنے آرام کرنے گئے ہیں،سنتا سنگھ بولا نہیں سر جی بیگم صاحبہ وی نال گئے نے۔ایم کیو ایم کے ہوتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ میں سیرو تفریح نہیں کر سکتی۔جتنا میں عمران خان کو جانتا ہوں وہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے برداشت کے امتحان سے گزر رہے ہیں۔یہ بھی میرا یقین ہے اگر ایک بار وہ ملک کی اقتصادی حالت بہتر کر گئے تو کڈ کڑاکے دیں گے اور جس دن ایسا ہوا ملک میں 'نوئے نکور' فیصلے ہوں گے۔میرا یقین ہے پاکستان آنے والے دنوں میں تگڑا ہو گا۔غیر ملکی گرائپ واٹر آئی ایم ایف دیگر خیراتی اداروں کی چوسنی کے بغیر فٹ فاٹ ہوگا۔

لوجی بھائیو! سب دعا کرو لگتا ہے سیاسی بیماروں کی حالت بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے۔کافی دن سے زرداری صاحب کے حوالے سے بھی سکون ہے اور بری خبر تو لندن کو 'لیڈی ولینگٹن ہسپتال' بنانے والوں کی بھی آرہی۔ بڑے سوٹ شوٹ پاکے ہوٹلوں میں گروپ موج میلا چل رہاہے۔شکر ہے ان کی صحتیں جو پاکستانی جیلوں میں تھوڑی ڈانوں ڈول تھیں فٹ فاٹ ہو گئی ہیں۔سنتا سنگھ کی شوگر بہت ہائی آئی کوئی چھ سو سے اوپر،سنتا سنگھ گھبرا کے ڈاکٹر سے بولا سر جی چیک کرو کدرے پچھلے مہینے دی وی نہ لگ کے آگئی ہو۔یہ تو ڈاکٹر یاسمین راشد ہی بتا سکتی ہیں کہ لاہور میں کس نے پچھلے مہینوں کی رپورٹیں لگا کر وزیر اعظم کو دی تھیں۔لیکن مٹی پاؤ یہ قانون،یہ آئین تگڑوں کا ”لنگوٹیا یار“ ہے۔انکے لیے گنجائشیں نکل ہی آتی ہیں۔اور رہی عوام اور کمزور مخلوق،تو اتنا کافی ہے کہ جب تک وہ خود اکتا کر مر نہیں جاتے انہیں جینے کا حق دیا جاتا ہے۔بنتاسنگھ ڈاکٹر سے بولا آپ بغیر درد کے دانت نکال سکتے ہیں وہ بولا نہیں،بنتا سنگھ بولا میں نکال سکتا ہوں،ڈاکٹر نے کہا کیسے بنتا سنگھ بولا اے ویکھ ہی ہی ہی۔ہماراطاقتور طبقہ بنتا سنگھ سے کہیں کم ہے بھلا وہ بغیر درد کے رو بھی سکتا ہے۔دہائیاں بھی دے سکتا ہے۔ہن مریا،ہن گیا کا ٹوپی ڈارامہ بھی کر سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...