مقدمات کا سو فیصد اندراج یقینی بناؤں گا

مقدمات کا سو فیصد اندراج یقینی بناؤں گا

  



پولیس کا بنیادی مقصد عوام کو امن و امان کی ایسی فضا فراہم کرنا ہے جس میں وہ کسی بھی خوف اور مشکل کے بغیر اپنے روزمرہ کے فرائض انجام دے سکیں۔ پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک میں پولیس کے بارے میں روایتی تصور ابھی تک تبدیل نہیں ہوسکا۔ حالانکہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پنجاب پولیس ایشیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی کو کئی شعبوں میں اپنایا گیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں کسی جگہ پر اتنے کم وسائل کے باوجود انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا جاسکا۔ شروع شروع میں اسے وقت یا وسائل کا ضیاع قرار دیا گیا لیکن اب اس دانشمندانہ اقدام کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ٹیکنالوجی بیسڈ پولیسنگ کو دنیا بھر میں مسلسل پذیرائی مل رہی ہے

پولیس کا محکمہ ملک کی اندرونی صورتحال یعنی امن و امان برقراررکھنے کے لیے حکومت کا سب سے اہم شعبہ تصور ہوتا ہے۔ ہم یوں بھی کہہ

سکتے ہیں کہ پولیس کا محکمہ اندرونی سرحدوں کا محافظ ہوتا ہے۔پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور پولیس کے افسر اور نوجوان اپنی جانوں کا نذرانہ مادر وطن پر نچھاور کر رہے ہیں اِس لیے پولیس کی قربانیوں کے حوالے سے کوئی دو آراء نہیں ہیں۔ پولیس کی ذمہ د اری کسی بھی معا شرے میں امن وامان قائم رکھنا ہے۔ معاشرے کے مجبور طبقات کی مدد کرنا۔باثر افراد کی چیرہ دستیوں سے مظلوم ہر بے کس افراد کو بچانا۔ پولیس در حقیقت ریاست کی طرف سے ایک ایسے کام پر مامور ہے جس طرح اللہ پاک فرشتوں کو اپنی مخلوق کی مدد کے لیے بھیجتا ہیجن لوگوں نے خاص عہدوں پر رہ کراپنے فرائض خوش اسلوبی،ایمانداری اور فرض شناسی سے سرانجام دیتے ہوئے اپنے ضمیر کی آواز کوسنااور حق وسچ کی صداپر بلاخوف وخطر لبیک کہا وہ لوگ اللہ کے فضل وکرم سے دنیاکے ہرمیدان میں فتح یاب اور سرخروہوئے محکمہ پولیس سے وابستہ اعلیٰ افسران (آئی جی پولیس) سے لیکرکانسٹیپل تک تمام عہدیداران اگر اپنے فرائض ایمانداری اور خلوص نیت سے انجام دیں توکوئی وجہ ایسی نہیں کہ معاشر ے سے جرائم کی بیخ کنی ہونے سے ایک مثالی،خوشگواراور پرامن ماحول کا قیام عمل میں نہ لایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس رائے بابر سعیدنے اپنے دفتر میں روز نامہ پاکستان کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کیا ہے۔ رائے بابر سعید نے بتایا کہ ان کا تعلق ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی علاقہ کمالیہ سے ہے۔ وہ ایک معروف استاد کے صاحبزادے ہیں جو کہ لاہور کے اے کیٹگری کالجز میں پرنسپل رہ چکے ہیں انھوں نے عام بچوں کی طرح ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جی سی لا ہور سے گریجوکیشن کے بعد قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے اور بعد ازاں سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے انھوں نے 28ویں کامن میں بطور اے ایس پی محکمہ پولیس کو جوائن کیا۔ نیشنل پولیس آف اکیڈیمی اسلام آباد سے ٹریننگ حاصل کی۔تین سال تک اسلام آباد میں ٹریننگ کا دورانیہ مکمل کر نے کے بعد انھیں پہلی تعیناتی کے لیے بلوچستان بھجوایا گیا جہاں وہ کئی ماہ تک بطور اے ایس پی کام کرتے رہے۔ بعد ازاں وفاق سے پنجاب آنے پر انھیں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بطور اے ایس پی کام کرنے کے فرائض سونپ دیے گئے۔جہاں کچھ عرصہ کام کر نے کے بعدانھیں گوجرانوالہ ایس پی تعینات کیاگیا۔ایس پی کی سیٹ پر کچھ عرصہ کام کرنے اور بہترین کار کردگی کے پیش نظر بعد ازاں انھیں ڈی پی او نارووال، ڈی پی او جھنگ اور ڈی پی او قصور تعینات کیا گیا بطور ڈی پی او ایک عرصہ تک عوام کی خدمت کے بعد وہ سی پی او آفس میں بطور اے آئی جی لاجسٹک،مانیٹرنگ بھی فرائض سر انجام دیتے رہے وہ ناصر درانی اور احمد رضاطاہر کی قیادت میں سپیشل برانچ میں بھی ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ فیلڈ میں تعیناتی کے دوران انھوں نے ریکارڈ کامیابیاں حاصل کی ہیں اورکئی خطرناک مجرمان گروہوں کا جہاں قلعہ قمع کیا وہاں ان سے اربوں روپے لوٹی گئی رقم اور دیگر سامان بھی برآمد کر کے شہر کو امن کا گہوارہ بنایا جس پر اس وقت کے آئی جی پو لیس نے ان کی کارکر دگی سراہتے ہوئے انھیں خصوصی انعام سے نوازا۔نئے آئی جی پولیس شعیب دستگیرنے اب انھیں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے بطور ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشن آفیسر لاہور تعینات کیاہے۔ جہاں پرانھوں نے چارج لیا تو علاقے میں بڑھتے ہو ئے جرائم کی شر ح کو کنٹرول کر نے کے ساتھ شہر میں بااثر مافیا گروپوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور ان کی گرفتاریوں کاعمل یقینی بنانے کی حکمت عملی کو سراہتے ہو ئے آئی جی پو لیس نے دیگر ریجن کو بھی ان سے مشاورت کر کے انکی پالیسی کو ملحوظ خاطر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سیکیورٹی کے اعلی انتظامات اور خطر نا ک بد معاش، قمار باز اور منشیات گینگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر سے بھتہ خوری،قبضہ گروپوں سمیت دیگر مافیاکا خاتمہ کر نا ان کی اولین تر جیحات میں شامل ہے اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے کئی بااثر ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ آئی جی پولیس پنجاب کے ویژن کے مطابق وہ فورس کو غیر سیاسی بنانا چاہتے ہیں۔ وہ شہر سے غنڈہ گردی اور فورس سے پولیس گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں لاہورمیں انھوں نے امن کو یقینی بنا نے کے لیے تمام ڈویژنل ایس پیز، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو ایمانداری اور بغیر کسی دباؤکے کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے اپنی تر جیحات کا اعلان کر تے ہو ئے بتایا ہے کہ شہر کے تما م تھانوں میں بغیرکسی مشکل کے شہریوں کے مقدمات کے اندارج کو یقینی بنایا جائیگا۔جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے آپریشن ڈیوٹیز اور مقدمات کا اندراج سائنسی معیار پر یقینی بنائیں گے۔اپنے تمام افسران کے ساتھ مل کر لاہور کے باسیوں کی خدمت کریں گے۔شہر کے اَمن وامان کو ہر صورت یقینی بنا کر لاہوریوں کو پْر امن ماحول فراہم کریں گے۔ شہر سے بھتہ خوری،قبضہ گروپوں سمیت دیگر مافیاکا خاتمہ کر نا ان کی اولین تر جیحات میں شامل ہے۔محکمے سے کالی بھیڑوں کی بھی بھرپورحوصلہ شکنی کی جارہی ہے تاکہ انکو راہ راست پر لاکر پولیس ڈیپارٹمنٹ کوعوامی امنگوں کا حقیقی ترجمان بنایاجاسکے۔ لاہور میں جرائم بڑھنے کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ شہر میں ڈاکوؤں کے سرگرم گروہوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جس سے اب جرائم کی شرح میں بتدریج کمی ہو گی یہ بھی نہیں کہاجاسکتاکہ لاہور سے جرم بالکل ختم ہوگیاہے کیونکہ دنیاکے ہر مہذب سے مہذب معاشرے میں بھی جرم پایا جاتاہے۔ خواہ وہ معمولی نوعیت کا کیوں نہ ہو کیونکہ کسی بھی معاشرے میں تمام انسانوں کا ایک اچھایا براہونا ناممکن بات ہے۔

قابل ذکر امریہ ہے کہ جس ٹیم کا کپتان چاقوچوبند،نیک،مشقت کواپنی عادت اور جہدمسلسل کواپنا اشعاربنانے والاہواس ٹیم کے ہرکھلاڑی کے اندر جیتنے کی سپرٹ ضرورموجودہوتی ہے۔ لیکن جس ٹیم کا کپتان ہی سست وکاہل اور کام چورہووہ کھبی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ڈی آئی جی پو لیس لاہور رائے بابر سعید وہ کپتان ہیں جس کی زیرقیادت تمام اہلکاراپنی زمہ داریاں فرض شناسی سے سرانجام دینے پر مجبورہوچکے ہیں موصوف ایک ایسے دلیر،جرات مند،دانشورمردقلندراور محب وطن آفیسرہیں جومحکمہ پولیس کو عوامی امنگوں کا ترجمان بنانے کی خاطر شب وروز مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ ڈی آئی جی لاہور رائے بابر سعید کے بارے میں مشہورہے کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض جس ایمانداری سے سرانجام دیتے ہیں کہ اگر ان کے حقیقی بھائی یا کوئی بھی رشتے دار ان سے سفارش کروا نا چا ہیں تو و ہ انھیں خاطر میں نہیں لا تے۔ وہ صرف اور صرف قا نو ن کی با لا دستی اورمیرٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔ انھو ں نے ایک صا ف ستھر ی ٹیم تشکیل دے رکھی ہے جو ہمہ وقت خد مت میں مصروف عمل دکھا ئی دیتی ہے۔ رائے بابر سعید کی جا ں فشا نی پر نظر دوڑائی جا ئے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک انتہائی قا بل،خو ش گفتار، زہین اورمحنتی ہو نے کے سا تھ سا تھ پیشہ ور انہ مہارت کے حامل آفیسرہیں۔جب بھی کو ئی ان کے دفتر داخل ہو تا ہے۔تو معلو م ہو تا ہے کہ وہ اپنے کا م میں مصروف ہیں۔ یقینا محکمے کی فلا ح اوتر قی کے لیے کا م کر تے دکھا ئی دیتے ہیں۔یا وہ کسی نہ کسی مجبور اور بے کس کی مشکل کو آسان کر نے کی تدبیر کے متلا شی نظر آتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1