سرکاری افسرخادم بن کر مسائل حل کریں!

سرکاری افسرخادم بن کر مسائل حل کریں!

  



کرائم سٹوری

(محمد ارشد شیخ بیوروچیف)

ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ سدرہ یونس کے چارج سنبھالنے کے بعدایک طرف اداروں کی کارکردگی میں بہتری آتی دکھائی دے رہی ہے تودوسری طرف عوام اور افسران میں فاصلے بھی کم ہوتے نظر آرہے ہیں اور ڈپٹی کمشنر آفس کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو رانا شکیل اسلم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل واصف بشیر کھوکھر، اسسٹنٹ کمشنرز شبیر حسین بٹ، عرفان انور، جاوید اقبال چوہان، ملک شاہد اعوان، سید اظہر عباس گیلانی اور چیف آفیسر چوہدری احسن عنایت سندھو سمیت مختلف اداروں کے افسران کے دفاتر میں عام شہریوں کی رسائی ممکن ہوئی ہے اسی طرح ڈپٹی کمشنر کے ماتحت اداروں کے افسران سے بھی محکمانہ امور کی خاطر شہریوں کا مل پانا آسان ہوتا جارہا ہے، ڈپٹی کمشنر سدرہ یونس ضلعی اداروں کے افسران سے میٹنگز کا سلسلہ اپنی تعیناتی کے روز سے اب تک مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں افسران اپنے اپنے اداروں کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے اور عوامی شکایات کے اذالہ کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہیں جس سے ایک طرف تو ڈپٹی کمشنر کو اداروں کی صورتحال سے آگاہی مل رہی ہے تو دوسری طرف ادارتی کارکردگی میں بہتری کیلئے موثر اقدامات اٹھانے میں انہیں مدد مل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ انکی ٹھوس پالیسیوں او ر جامع لائحہ عمل کے باعث ادارے روز بروز فعال ہورہے ہیں، ڈی سی شیخوپورہ کی طرف سے تمام محکموں کے افسرا ن و ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری اداروں کے افسران و ملازمین عوام کے خادم بن کر ان کے مسائل حل کریں اس میں کسی طرح کی کوتاہی یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی کرپٹ نااہل کام چور ملازمین بھی اپنا قبلہ درست کرلیں ورنہ اپنے خلاف کاروائی کیلئے تیار رہیں، خاتون ڈپٹی کمشنر نے بطور ڈی سی اپنے تعارفی اجلاس میں ہی تمام سرکاری محکموں کے افسران پر واضح کردیا تھا کہ وہ کرپشن، رشوت ستانی،کام چوری، بدعنوانی، نا اہلی و عدم توجہی سمیت کوئی بھی ایسا عمل برداشت نہیں کرتیں جس سے ادارو ں کے وقار پر آنچ آتی ہو یا ادارے عوام کو ریلیف کی فراہمی کی بجائے عوامی مشکلات میں اضافہ کا سبب بنتے ہوں لہذاٰ انہوں نے اپنے اس مستحسن عزم کو برقرار رکھتے ہوئے اداروں کی کارکردگی میں بہتری کے کئی ایک اقدامات اٹھائے ہیں جن کے سراہتے ہوئے شہری انہیں خراج تحسین پیش کررہے ہیں، موجودہ حالات کے تناظر میں اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ عوامی استحصال کی شکایات یوں تو سبھی محکموں کے افسران و ملازمین کی طرف سے سامنے آتی رہتی ہیں جنہیں ماضی میں پوری طرح ایڈریس نہیں کیا گیا جس سے شہریوں میں مایوسی پھیلی مگر اب صورتحال یکسر مختلف ہے کیونکہ ضلعی انتظامیہ کرپشن کے خاتمہ کی منزل کی جانب گامزن ہے دوسری طرف وہ افسران یا ملازمین جن کے خلاف نئی شکایات آئی ہیں یا ماضی میں کسی شہری کی طرف سے جس کسی آفیسر یا ملازم کے خلاف کرپشن کے الزامات لگے ان کے خلاف انکوائریاں جاری ہیں جنہیں تیزی سے نمٹایا جارہا ہے، جن جن اداروں میں بڑے پیمانے پر منظم کرپشن کی جارہی ہے ان کا بغور جائزہ لیتے ہوئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو ڈپٹی کمشنر سدرہ یونس نے تو مضبوط بنیادوں پراٹھائے ہیں مگر ماضی میں صاحب اختیار افسران کی اس طرف توجہ مبذول نہیں ہوئی اور عوام نہ صرف سرکاری اداروں کے کرپٹ افسران و ملازمین کے ہاتھوں لٹتے رہے بلکہ اپنی شکایات کے اذالہ کیلئے بھی انہیں کوئی پلیٹ فارم میسر نہیں تھا ذرائع کے مطابق سرکاری محکموں کے بعض ملازمین ایسے ہیں جو دیکھتے ہی دیکھتے ککھ پتی سے لکھ پتی بنے ہیں جن کا محاسبہ قدرے آسان ہے کیونکہ ان کی جائیدادوں کی تفصیل آسانی سے میسر آسکتی ہے اگر ڈپٹی کمشنر سدرہ یونس ابتداء ایسے افسران و ملازمین سے کریں تو رشوت ستانی اور کرپشن کے مرتکب افسران و ملازمین کا گھیرا تنگ کرنے کا عمل باخوبی شروع ہوسکتا ہے، بلاشبہ سرکاری اداروں سے کرپشن کا آناً فاناً خاتمہ ممکن نہیں یہی وجہ ہے کہ اداروں میں کرپشن کے خاتمہ اور سرکاری افسران و ملازمین کی کارکردگی موثر بنانے کی خاطر شہریوں کی نظریں ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ سدرہ یونس پر لگی ہیں جنہوں نے سرکاری اداروں سے کرپشن کے خاتمہ کے عزم کا اظہار کرکے مایوس شہریوں کو نئی امید دلائی ہے، دوسری طرف ضلع پولیس کی کارکردگی کا مختصر جائزہ لیا جائے تو حالیہ چند ماہ میں ضلع پولیس نے ہزاروں ملزمان کو گرفتار کیا ہے ڈکیتی چوری و راہزانی کی واراداتوں کے ملوث گرفتار ملزمان سے کروڑوں روپے مالیت کا مسروقہ سامان اور بھاری نقدی برآمد کی ہے،گرفتار کئے گئے اشتہاری مجرمان کی تعداد بھی غیر معمولی ہے جبکہ قتل، اقدام قتل، اغواء برائے تاوان اور گینگ ریپ کی وارداتوں سمیت دیگر مختلف جرائم میں ملوث ملزمان کی گرفتاریاں عمل میں لاکر قانون کی بالادستی اور گڈ گورننس کی نئی مثال رقم کی ہے گرفتار ملزمان میں بعض ایسے ملزمان بھی شامل ہیں جو پولیس کو ایک عرصہ سے مختلف مقدمات میں مطلوب تھے ان میں سے بعض ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس افسران اور اہلکاروں کو سر دھڑ کی بازی لگانا پڑی اور کئی ایک وارداتوں میں ملزمان سے مقابلہ کے دوران فائرنگ کے تبادلہ میں پولیس ملازمین نے جام شہادت بھی نوش کیا ہے جن کی فہرست خاصی طویل ہے ڈی پی او شیخوپورہ غازی محمد صلاح الدین کی قیادت میں ضلع پولیس کے کرائم فائٹرز آفیسرزظفر اقبال، فیصل عباس چدھڑ، رانا محمد اقبال، عبداللہ یوسف علی پاشا،عمر شیراز گھمن، عامر محبوب وئینس،جہانگیر بیگ،شاہد رفیق مجرموں کی گرفتاریوں کیلئے نہ صرف سرگرم ہے بلکہ پولیس نے جرائم پیشہ عناصر پر واضح کررکھا ہے کہ مجرم پاتال میں بھی چھپ جائے ڈھونڈ نکالیں گے،ڈی پی او شیخوپورہ کا کہنا ہے کہ پولیس افسران اور ملازمین جان ہتھیلی پر رکھ کر امور ذمہ داری کی انجام دہی یقینی بنارہے ہیں پولیس نے فرض کی ادائیگی کی راہ میں جانیں قربان کی ہیں جن کے اہل خانہ جتنا ان پر نازاں ہیں اتنا محکمہ پولیس بھی اپنے شہید جری و بہادر افسران و ملازمین پر فخر کرتا ہے یہ حقیقی معنوں میں پولیس کے ماتھے کا جھومر ہیں اورانکی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں محکمہ پولیس کے شہداء کی فہرست فقط چند افسران و ملازمین پرمشتمل نہیں بلکہ لاتعداد افسران اور ملازمین نے فرض کی ادائیگی کی راہ میں جام شہادت نوش کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ پولیس میں موجود بعض کالی بھیڑیں ہی محکمہ یا چہرہ نہیں بلکہ اس ڈیپارٹمنٹ میں ایسے جری بہادر نڈر اور فرض شناس و ایماندار افسران و ملازمین بھی موجود ہیں جوجرائم کی بیخ کنی کی راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے، لہذاٰ مذکورہ پولیس کارکردگی ثابت کررہی ہے کہ ضلع پولیس جرائم کے قلع قمع اورجرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے ہوئے ہے جس کا تمام تر کریڈٹ بلاشبہ ڈی پی او غازی محمد صلاح الدین سیالوی کے سر ہے جنہوں نے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف جرائم کے خلاف مشنری جذبہ کے تحت کاروائیاں کیں بلکہ تھانہ کلچر کی بہتری بھی ممکن بنائی یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جہاں شہری مثالی پولیس کارکردگی کے خواہاں ہیں وہاں پولیس کاروائیوں کو سراہتے ہوئے اظہار اطمینان بھی کررہے ہیں جو یقینا ایک نہایت حوصلہ افزاء امر ہے کیونکہ اگر شہری پولیس کردار پر مطمئن ہوں گے تو یقینا جرائم کے خاتمہ میں پولیس کا بھرپور ساتھ بھی دیں جس سے جرائم میں خاطر خواہ کمی کا عنصر مزید سود مند ہوتا چلا جائیگا یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ضلع پولیس میں جزاء اور سزاء کا عمل بھی جاری ہے جس کے تحت گرشتہ روز ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شیخوپورہ غازی محمد صلاح الدین نے جزاء اور سزا کے نظام پر یکساں طورپر عملدرآمد کرتے ہوئے دی پی او آفس میں پولیس ملازمین کا اردل روم کیاجس میں ڈی پی ا و شیخوپورہ نے ڈیوٹی میں غفلت لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے، نا قض تفتیش، کرپشن، اور ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے ملازمان کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کو عمل میں لاتے ہوئے ان کو مختلف سزائیں دی اور پولیس ملازمین کو اچھی کا رگردگی پر انعامات بھی دیئے،ڈی پی او نے کرپشن ڈیوٹی میں کوتاہی اور غفلت برتنے پر اردل روم میں 12 پولیس ملازمان کو سخت سزائیں دی گئیں جن میں غلام مرتضیASIکو ناقص تفتیش کرنے پر ایک سال سروس ضبط کی سزا، محمد افضل ASIکو ناقض تفتیش کرنے اور غفلت اور لاپرواہی کرنے پر ایک سال کیلئے پرموشن روکے جانے کی سزا سنائی، فیض رسول ASIکی ناقض تفتیش کرنے پر ایک سال کے لیے انکرمنٹ سٹاپ کردی گئی غلام مصطفی ASI، محمد سرور ASI، محمد اعجاز ASIِکو ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر جرمانے کی سزا دی گئی ہیڈ کنسٹبل محمد حفیظ، کنسٹبل بلال حسین،کنسٹبل عبدالستار، کنسٹبل وسیم اسلم، کنسٹبل محمد عبدالستار کو بھی ڈیوٹی میں غفلت لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے پر جرمانے کی سزا دی گئی دوسری طرف ضلعی انتظامیہ اور ضلع پولیس کو صوبائی وزیر قدرتی آفات میاں خالد محمود کا بھرپور تعاون میسر ہونے سے بھی انتظامی حالات تیزی سے بہتر ہورہے ہیں، میاں خالدمحمود جب سے صوبائی وزیر بنے ہیں اس وقت سے اب تک وہ ایک د ن بھی چین سے نہیں بیٹھے جس کے باعث شہریوں کی شکایات کا اذالہ تیزی سے جاری ہے جس پر شہری حلقوں کی طرف سے خوشی واطمینان کا اظہار کیاجارہا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...