بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائر بریگیڈ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

        بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائر بریگیڈ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائر بریگیڈ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا، فائر بریگیڈ کی 10 سال سے 250 اسامیاں خالی ہیں، نئے فائرٹینڈرز آخری بار25 سال پہلے خریدے گئے تھے، ڈیزل کی عدم دستیابی اور فائر ٹینڈرز کی مرمت نہ ہونے کے باعث شہر قائد کے 16 فائر اسٹیشن غیر فعال ہوگئے ہیں، سردی کے خشک موسم میں تیز ہواؤں سے آتشزدگی کے بڑھتے واقعات پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق فائر ٹینڈرز نہ ملنے اور وسائل کی شدید کمی سے بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائربریگیڈ تباہی سے دوچار ہے، محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیوروں کی 242 اسامیاں خالی ہیں محکمے میں آخری بار سال2009 میں بھرتیاں ہوئی تھیں جس کے بعد سے اب تک 10سال گزرگئے کوئی اپائٹمنٹ نہیں ہوا ہے، ہر سال 20 سے 25 ملازمین رٹائرڈ ہوجاتے ہیں، ذرائع کے مطابق محکمہ فائر بریگیڈ کے لیے آخری بار فائرٹینڈرز 25 سال پہلے خریدے گئے تھے، فائر ٹینڈر کا عالمی معیار یہ ہے کہ اس کی زندگی صرف 10سال ہوتی ہے کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر فائر ٹینڈرز جلد ہی خراب ہوجاتے ہیں، فائربریگیڈ کے لیے نئے فائر ٹینڈرز خریدنے کے دعوے اور شور کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے، سال2017 اور 2019 میں وفاق اور سندھ حکومت کی جانب سے 50 فائر ٹینڈرز خریدنے کے لیے ٹینڈر جاری کیے گئے لیکن فائر بریگیڈ کو اب تک ایک بھی فائر ٹینڈر نہیں مل سکا۔اس وقت فائر بریگیڈ کے48 فائر ٹینڈرز کے فلیٹ میں سے محض32 فائر ٹینڈرز کو ہی کسی نہ کسی صورت قابل استعمال بناکر چلایا جارہا ہے، شہر قائد میں محکمہ فائربریگیڈ کے محض7 فائر اسٹیشن ہی مکمل طور پر فعال ہیں جن میں سینٹرل فائر اسٹیشن، صدر، ناظم آباد، سائٹ، بلدیہ ٹان، بولٹن مارکیٹ اور سوک سینٹرل فائر اسٹیشن شامل ہیں۔ڈیزل نہ ہونے کے باعث لانڈھی فائر اسٹیشن، گلستان مصطفی، سہراب گوٹھ، اورنگی ٹان، نارتھ کراچی، ملیر، گلشن اقبال، احسن آباد اور سائٹ سپر ہائی وے انڈسٹریل ایریا فائر اسٹیشن غیر فعال تھے، فائر ٹینڈرز کی مرمت نہ ہونے سے لیاری فائر اسٹیشن، شاہ فیصل کالونی، منظور کالونی، گلستان جوہر، بھینس کالونی، گلشن معمار اور سپر ہائی وے فائر اسٹیشن مکمل طور پر غیر فعال ہیں، موسم سرما میں تیز ہواں سے آگ لگنے کے واقعات بڑھ جاتے ہیں ایسے میں محکمہ فائر بریگیڈ کو متحرک رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، شہر میں کسی بڑی آتشزدگی کی صورت میں دور دراز کے فائر اسٹیشنوں سے فائر ٹینڈرز آگ لگنے کے مقام پر پہنچتے ہیں جس سے وقت ضائع ہوجاتا ہے اور آتشزدگی سے قیمتی مالی اور جانی نقصان ہوجاتا ہے، فائر بریگیڈ کو اس وقت خود ریسکیو کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر