شہید حکیم سعید نے قومی فلاح و بہبود پر دل کھول کر خرچ کیا: گورنر سندھ 

شہید حکیم سعید نے قومی فلاح و بہبود پر دل کھول کر خرچ کیا: گورنر سندھ 

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ حکیم محمد سعید یقینا ایک بڑے آدمی تھے، انہوں نے قومی فلاح و بہبود پر دل کھول کر خرچ کیا اور بڑے لوگ وہی ہوتے ہیں جو عوامی فلاح و بہبود پر دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ وہ گزشتہ روز بطور مہمان خصوصی حکیم محمد سعید کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر ہمدرد پاکستان کے زیر اہتمام دوسرے ”حکیم محمد سعید ایوارڈز 2020‘ کی تقریب سے مہٹّہ پیلس، کراچی میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے تقریر کرنا کبھی مشکل نہیں رہا لیکن آج کی تقریب میں، جہاں مختلف شعبوں میں ملک کے لیے اعلیٰ خدمات انجام دینے والے قومی ہیروز اور بڑے بڑے لوگ بیٹھے ہیں، ان سے مزید بولا نہیں جا رہا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے ہمدرد لیباریٹریز (وقف) کی چیئرپرسن اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کے ہمراہ پاکستان کے قومی ہیروز، کھیل کے میدان میں اسکوائش میں شاندار فتوحات پر جہانگیر خان اور ہاکی میں شاندار کارکردگی (260 گول) پر سہیل عباس کو، تعلیم کے لیے گرانقدر خدمات پر مشتاق چھاپرا کو، فن و صحافت اور تھیٹر کے میدان میں اعلیٰ کارکردگی پر عمران اسلم کو، فن اداکاری میں بے مثال کارکردگی پرثمینہ احمد کو، غریب و نادار افراد کی دنیا میں ہمدردی کا اجالا پھیلانے پر پروین سعید کو، بعد از مرگ اپنے فن میں یکتا  معین اختر کو (جو ان کے بیٹے منصور اختر نے وصول کیا)، اپنی تمامتر زندگی اردو اداب کے لیے وقف کرنے والے مصنف اور سفرنامہ نگار مستنصر حسین تارڑکو، علم کی شمع کا اجالا غریب بچوں تک پہنچانے پر ماسٹر ایوب کو اور شجاعت کے میدان میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر معصوم بچوں کی جان بچانے میں جام شہادت نوش کرنے والی شہید طاہرہ قاضی کو (بعد از مرگ) دیا گیا، جو ان کے بیٹے احمد قاضی نے وصول کیا۔ محترمہ سعدیہ راشد نے مہمانان گرامی کو خوش آمدید کہتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ ان کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہوگی کہ آج ہم سب شہید پاکستان کا سوسالہ یوم ولادت منانے اور ان کی روایتوں کو آگے بڑھانے کے لیے یکجا ہوئے ہیں، دراصل خدمت خلق، خدمت وطن اور ترویج و اشاعتِ تعلیم و علم کے لیے کچھ غیرمعمولی کام کرنے پر حوصلہ افزائی کی صورت نکالنا، حکیم صاحب ہی کی قائم کردہ روایات ہیں جن کی آج ہم پیروی کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک ایوارڈ ”محبت“ کے اظہار، صلاحیتوں کے اعتراف اور شاباش کی وصولیابی ہی ہے اور شاباش سے بڑا کوئی اعزاز نہیں ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں ”نوبل پرائز“ لینن پرائز، شاہ فیصل ایوارڈ اور گولڈن گلوب“ جیسی مستحکم روایات ہرگز قائم نہ ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج کے انعام یافتگان کو محبت، عقیدت اور دعاؤں کے ساتھ اپنے اور اپنے ادارے کی جانب سے ”شاباش“ پیش کرتی ہیں اور آج کے نونہالوں اور نوجوانوں پر زوردیتی ہیں کہ وہ ان بڑے لوگوں، بطور خاص شہید حکیم محمد سعید، کی زندگیوں، کاموں اور کارناموں کا مطالعہ کریں، ان سے تحریک حاصل کریں اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ حکیم صاحب کی پوری زندگی خلق خدا کی خدمت، بھلائی اور خیرخواہی اور پاکستان کے استحکام و خوشحالی کے لیے سعی و جہد کرتے گزری ہے۔ جہانگیر خان اس وقت لندن میں ہیں، ان کا ایوارڈ انور مقصود نے ان کی جانب سے وصول کیا۔ اس موقع پر جہانگیر خان نے وڈیو پیغام میں کہا (جو تقریب میں دکھایا گیا) کہ نہوں نے زندگی میں بہت سے ایوارڈز حاصل کیے ہیں لیکن حکیم محمد سعید ایوارڈ ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے، یہ ایسے عظیم شخص کے نام پر ہے جو پاکستان کا بہت بڑا نام ہے۔ اس موقع پر گورنر سندھ عمران اسماعیل نے محترمہ سعدیہ راشد کے ہمراہ حکیم محمد سعید کی 100 ویں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا۔ محترمہ سعدیہ راشد نے مہمان خصوصی گورنر سندھ کو عکس مہر نبوی ؐ کی شیلڈ پیش کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض انور مقصود نے ادا کیے اور اپنے دلچسپ جملوں سے محفل کو کشتِ زعفران بنائے رکھا۔ مشہور قوال فرید ایاز، ابو محمد اور ہمنوا نے اپنی قوالی سے حاضرین کوبہت محظوظ کیا۔ تقریب میں مہمانان گرامی، اعلیٰ حکام، ہمدرد کے افسران اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مزید : صفحہ اول