ملک بھر میں بارش، بلوچستان اور بالائی علاقوں میں برفباری جاری، 23افراد جاں بحق

        ملک بھر میں بارش، بلوچستان اور بالائی علاقوں میں برفباری جاری، 23افراد ...

  



اسلام آباد،سکھر،کوئٹہ،لاہور(لیڈی رپورٹر،نمائندگان آئی این پی) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد،لاہور،کوئٹہ  اور سکھر سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارش اور برف باری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا، بالائی علاقوں میں شدید برفباری، 16افراد جاں بحق،کوئٹہ میں تمام پروازیں منسوخ،، سکھر میں  میں بوسیدہ مکان کی چھت گرنے سے بچی جاں بحق، خواتین اور بچوں سمیت 8 افراد زخمی ہو گئے جن میں سے 2 کی حالت نازک بتائی گئی ہے، لاش اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور، فیصل آباد ، قصور شیخو پورہ سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بادل خوب گرجے برسے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ کراچی میں رم جھم نے خنکی بڑھا دی۔ جیکب آباد، سکھر سمیت سندھ میں بارش سے جاتی سردی پھر لوٹ آئی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی بارش کی جھڑی (آج)تک وقفے وقفے سے جاری رہے گی جبکہ پہاڑوں پر مزید برفباری کا بھی امکان ہے۔کہیں بوندا باندی تو کہیں تیز بارش، جنوری ٹھنڈا ٹھار ہو گیا۔ لاہور میں پیر کو  صبح کے وقت کالی بدلیاں چھائیں اور پھر چھما چھم برسات ہوئی۔ گڑھی شاہو، دھرم پورہ، ایئر پورٹ، گلبرگ، فیروز پور روڈ، جوہر ٹان سمیت شہر کے مختلف حصوں میں بھی تیز بارش ہوئی جس سے خنکی میں اضافہ ہو گیا۔فیصل آباد، قصور، چکوال، ننکانہ صاحب، شکر گڑھ، سرگودھا، جھنگ، خانیوال، ہارون آباد، رحیم یار خان، خان پور، اوچ شریف سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں ابر کرم خوب برسا جس سے جاتی سردی پھر لوٹ آئی۔کراچی میں بھی بوندا باندی سے سردی بڑھ گئی۔ جیکب آباد، سکھر سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔ سکھراور گردونواح میں گذشتہ روز سے جاری بارشوں کے باعث سکھر کے علاقے نیو پنڈ میں رشید شیخ نامی شخص کے کرائے کے مکان کی چھت اچانک دھماکے سے مکینوں پر آگری جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے۔حادثے کی اطلاع پر پولیس، ایدھی اور دیگر اداروں کی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور انہوں نے زخمیوں کو ملبے سے نکال کر فوری طور پر شہر کے ہسپتالوں میں پہنچایا جہاں پر زخمیوں میں شامل ایک چار سالہ بچی علیشا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔چھت گرنے کے باعث گھر میں رکھا ہوا ہزاروں روپے مالیت کا سامان بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا، زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جن میں نازیہ، عبدالحمید، عبدالمجید، راشد، زوہیب حسن، ماجد علی،عبدالرشید شیخ و دیگر شامل ہیں۔واضح رہے کہ سکھر میں گذشتہ ایک سے ڈیڑھ ماہ کے دوران عمارت اور چھتیں گرنے کا یہ چوتھا واقعہ ہے جن میں چودہ افراد جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔دریں اثناجام پور کی قریبی بستی میں بارش سے مکان کی چھت گر نے سے 3 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے، زخمیوں کو ٹی ایچ کیو جام پور منتقل کر دیا گیا۔جھنگ میں بھی بارش سے چھت گری، ملبے تلے دب کر ایک لڑکی جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوگئے۔ ننکانہ واربرٹن، کھوکھراں گاوں میں بھی چھت گرنے سے 3 افراد زخمی ہو گئے۔اٹک کے گاؤں شکردرہ محلہ ڈھوک ذوالفقاریاں میں گیس لیکیج نے گھر کی چھت گرا دی، حادثے میں میاں بیوی شدید زخمی ہو گئے، خانیوال کے علاقے ممدال میں مکان کی چھت گر گئی۔ ملبے تلے دب کر دو لڑکیاں موقع پر جاں بحق ہو گئیں۔ چھت گرنے سے 2 بھینسیں بھی ماری گئیں۔قصور کے علاقے کلچہ معدونا میں بارش مکان کی چھت کو لے بیٹھی۔ تین افراد ملبے تلے دبنے سے زخمی ہو گئے، بچی کی حالت تشویش ناک ہے۔سرگودھا روڈ کی آبادی خانقاہ ڈوگراں میں بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی ملبے تلے دب کر ایک شخص جاں بحق ہو گیا بتایا گیا ہے کہ صفدرآباد روڈ پر ایک مکان جو کہ زیرِتعمیر تھا، گذشتہ رات کو ہونے والی بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی اور اس مکان کی چھت کے نیچے آ کر ایک شخص ملبے تلے دب گیا جسے نکالنے کے لیئے اہل علاقہ نے سر توڑ کوشیشیں کیں مگر وقاص نامی نوجوان جاں بحق ہو چکا تھا،  جس کی نعش پویس نے ضروری کاروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی ہے۔ ادھر  بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دو روز سے جاری برف باری اور بارشوں نے تباہی مچادی ہے  جس دوران حادثات میں  15 افراد جاں بحق ہوگئے۔بلوچستان کے بالائی علاقوں میں 3 سے4 فٹ تک برف پڑ چکی ہے، شدید برف باری سے زیارت،مستونگ، قلعہ سیف اللہ،قلعہ عبداللہ،ہرنائی اور بولان میں کئی جگہ رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق مختلف حادثات میں قلعہ عبداللہ میں 6، ژوب میں 6 جب کہ پشین میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔دوسری جانب کوئٹہ میں برف باری اور موسم کی خراب صورت حال کے باعث اندرون ملک سے کوئٹہ آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں، برف باری کے باعث 10 فیڈر بند ہونے سے شہر کے بیشترعلاقوں میں بجلی غائب ہوگئی ہے۔شدید برف باری کے باعث صوبائی حکومت نے 7 اضلاع میں اسنو ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔علاوہ ازیں مکران کے علاقوں تمپ، مند، زعمران اور بلیدہ سمیت ملحقہ علاقوں میں موسلادھار بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی آنے سے کئی مکانوں اور فصلوں کونقصان پہنچا جب کہ زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔تربت اور گرد و نواح میں شدید بارشوں سے سیلابی ریلا دریائے کیچ میں داخل ہوگیا جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی سے سیلابی ریلے نے قریبی آبادیوں کو نقصان پہنچایاہے۔بلوچستان کی صورتحال پر وزیراعلی جام کمال خان کا کہنا ہے کہ سڑکیں کھلوانے اور عوام کو ہرممکن امداد پہنچانے کیلئے صوبائی حکومت مکمل متحرک ہے۔ لاہور میں موسلادھار بارش کے بعد لیسکو کا ترسیلی نظام متاثر، 130 فیڈرز ٹرپ ہونے سے کئی علاقوں میں بجلی غائب، معمولات زندگی متاثر ہونے سے شہری پریشان کا شکار ہو گئے۔،لاہور میں بارش کے بعد ریلوے روڈ، چوبرجی، بسطامی روڈ، بادامی باغ میں بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی، شہریوں کیلئے دفاتر اور طلبا کیلئے سکول کالج جانا مشکل ہو گیا، اکثر لاہوریوں کو بغیر ناشتہ گھروں سے نکلنا پڑا۔شہر کے 130 فیڈرز ٹرپ ہونے سے لیسکو کا ترسیلی نظام بیٹھ گیا، ساندہ روڈ، راج گڑھ، اسلام پورہ، گڑھی شاہو میں بھی بجلی غائب رہی۔ عامر روڈ، مغلپورہ اور شالیمار کے علاقوں میں بجلی کی وولٹیج میں کمی اور بار بار آمد و رفت شہریوں کی پریشانی میں اضافہ کرتی رہی۔

بارش برف باری

مزید : صفحہ اول