سانحہ بلدیہ متاثرین کو یکمشت ادائیگی میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں: حافظ نعیم الرحمن

سانحہ بلدیہ متاثرین کو یکمشت ادائیگی میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں: حافظ نعیم ...

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 7سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے شہداء کے لواحقین کو انصاف اور متاثرین کو ان کا حق نہیں مل سکا۔ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور تحریک انصاف تینوں اقتدار میں رہنے کے باوجودمتاثرین کے مسائل حل نہ کر سکیں۔ لواحقین کو رقم کی یکمشت ادائیگی میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ جماعت اسلامی متاثرین کے ساتھ روزِ اوّل سے ہے۔ ہم ان کے حق کے لیے عدالت میں بھی گئے اور ان کے ساتھ مدد اور تعاون انصاف اور حق کے حصول تک جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کے تحت سانحہ بلدیہ فیکٹری کے اہل خانہ اور متاثرین کے لیے گرم کپڑے کمبل اور دیگر امدادی اشیاء کے تحائف دینے کے موقع پر شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر سیف الدین ایڈوکیٹ اور سیکریٹری نجیب ایوبی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، سانحہ بلدیہ کیس کی پیروی کرنے والے عثمان فاروق ایڈوکیٹ، محمد صابر، عمران شاہد، نصیر اللہ حسینی اور دیگر بھی موجود تھے۔ تقریب ِ تحائف میں مرد، خواتین، بچوں نے شر کت کی اور جماعت اسلامی کی کوششوں اور تعاون پر اظہار تشکر کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے سخت سرد موسم کے حوالے سے اہل کراچی اور اہل خیر سے اپیل کی کہ وہ غریبوں، مستحقین، مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو سردی سے بچاؤ کے سلسلے میں بڑھ چڑھ کر تعاون کریں۔ خیر کے اس کام میں جو افراد اور ادارے مصروف عمل ہیں ان کو عطیات دیں اور خود بھی گھروں سے گرم کپڑے، کمبل وغیرہ لے کر نکلیں، غریب بستیوں، ہسپتالوں اور فٹ پاتھوں پر جو لوگ ان چیزوں سے محروم ہیں ان کی مدد اپنا فرض سمجھ کر کریں اس سے معاشرے میں محبت والوں، ہمدردی اور رواداری کو فروغ ملے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جب بھی سانحہ بلدیہ کا تذکرہ ہو تا ہے یا اس کے متاثرین سے ملاقات ہوتی ہے تو فیکٹری میں آتش زدگی کے دلخراش مناظر آنکھوں میں گھوم جاتے ہیں۔ 259افراد زندہ جلا دیئے گئے، ان کے خاندان اُجڑ گئے،ان کا سب کچھ ختم ہو گیا، اُن پر بڑا ظلم ڈھایا گیا لیکن افسوس کہ اس میں ملوث مجرم اور قاتلوں کو آج تک سزا نہ مل سکی۔ لواحقین آج بھی انصاف اور حق سے محروم ہیں۔ تمام حکومتوں نے وعدے تو بہت کیے مگر عملاً کسی نے کچھ نہیں کیا۔ سیف الدین ایڈ وکیٹ نے کہا کہ تمام متاثرین اور لواحقین کا حق ہے کہ ان کو جتنی بھی رقم ملنی ہے وہ یکمشت ادا کی جائے۔ اس رقم کو بینک میں جمع کرکے اس پر سود کھانا اور ان کو چند ہزار روپے قسطوں میں ادا کرنا ان کے ساتھ سراسر ظلم و زیادتی اور نا انصافی ہے۔ حکومت اور اس کی سرپرستی میں بعض این جی اوز یکمشت ادائیگی میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں لیکن ہم متاثرین کے حقوق کی فراہمی تک ان کے ساتھ ہیں اور ان کا حق ان کو ضرور دلوائیں گے۔ امید ہے کہ عدالت سے بھی متاثرین کو انصاف اور ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے احکامات کیے جائیں گے۔ نجیب ایوبی نے کہا کہ پبلک ایڈ کمیٹی 259متاثرین سے مکمل رابطے میں ہے۔ ان کو ایک خاندان سمجھتے ہیں اور ان کی جو بھی مدد اور تعاون کرتے ہیں وہ ان کو اپنا بھائی اور بہن سمجھ کر ہی کرتے ہیں ان کے غموں اور مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

مزید : صفحہ اول