عراق میں امریکی ایئر بیس پرخوفناک ایرانی حملہ،میزائلوں کی برسات کب تک ہوئی اور امریکی فوجیوں نے کیسے جان بچائی،امریکی میڈیا حقائق سامنے لے آیا

عراق میں امریکی ایئر بیس پرخوفناک ایرانی حملہ،میزائلوں کی برسات کب تک ہوئی ...
عراق میں امریکی ایئر بیس پرخوفناک ایرانی حملہ،میزائلوں کی برسات کب تک ہوئی اور امریکی فوجیوں نے کیسے جان بچائی،امریکی میڈیا حقائق سامنے لے آیا

  



بغداد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران کی جانب سے عراق میں موجود امریکی اڈوں پر کئے گئے حملوں کی تفصیلات آہستہ آہستہ سامنے آرہی ہیں۔عراق میں امریکی ایئر بیس پرخوفناک ایرانی حملہ،میزائلوں کی برسات کب تک ہوئی اور امریکی فوجیوں نے کیسے جان بچائی،امریکی میڈیا حقائق سامنے لے آیا۔سی این این کے مطابق امریکی اڈے پر موجود فوجیوں کا کہنا ہے کہ حملہ ان کی توقع سے کہیں زیادہ شدید تھاتاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

عراق کے مغربی علاقہ انبار میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی فضائیہ کی افسر اور صحرا میں جنگی محاذ کی قیادت کرنے والی لیفٹیننٹ کرنل سٹیکی کولیمین کاکہنا تھاکہ یہ معجزے سے کم نہیں کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔انہوں نے کہا یہ تصور کرنا ہی محال ہے کہ ان پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ ہواور وہ بچ جائیں۔

رپورٹ کے مطابق ایئربیس پر موجود امریکی اہلکار ٹومی کالڈ ویل نے بتایاکہ حملے سے چند گھنٹے قبل ہی انہیں ایک نوٹی فکیشن موصول ہوا تھاکہ بیس پر حملے کا خدشہ ہے اس لیے فوری طور پر یہاں سے ساز و سامان منتقل کیا جائے۔لیفٹیننٹ کرنل کولیمین کے مطابق رات 10 بجے ہی تمام اسٹاف حملے سے بچنے کیلئے محفوظ مقام پر منتقل ہو گیا تھا اور لوگوں نے اسے بہت سنجیدگی سے لیا تھا۔ان کے بقول، اہلکاروں کے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے بعد میزائلوں کی برسات شروع ہوگئی جو دو گھنٹے تک جاری رہی۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل سے کئے گئے حملوں میں عین الاسد بیس کی مضبوط دیواروں،ہیلی کاپٹرہینگرز، کنٹینرز اور دیگر سامان کو نقصان پہنچا جبکہ فوجیوں کے زیر استعمال سائیکلزاور فرنیچر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ایئربیس پر موجود کئی فوجیوں نے بتایا کہ جن دیواروں کے عقب میں انہوں نے پناہ لے رکھی تھی وہ حملے میں تباہ ہو چکی ہیں۔

یاد رہے کہ ایران نے ایک درجن سے زائد میزائل داغے تھے جب کہ عراقی فوج کے مطابق ایران نے 22 میزائل داغے جن میں سے 17 عین الاسد ایئربیس پر داغے گئے۔

اسٹاف سارجنٹ آرمنڈو مارٹینیز بیلسٹک میزائل کے حملوں کے بعد جانی نقصان کا جائزہ لینے کے لیے بنکر سے باہر نکلے۔ ان کے بقول، راکٹ حملے الگ ہوتے ہیں لیکن جب بیلسٹک میزائل سے حملہ ہو تو یہ انتہائی خوف ناک ہوتا ہے۔کینتھ گڈون نے بتایا کہ ہم بنکروں میں پانچ گھنٹے سے زائد وقت تک رہے اور شاید سات سے آٹھ گھنٹے تک وہیں قیام کرنا پڑا۔

لیفٹیننٹ کرنل کولیمین نے کہا کہ ایران کے میزائل حملوں سے قبل ہم نے سنا تھا کہ ملیشیا کی جانب سے ممکنہ طور پر راکٹ داغے جا سکتے ہیں جس کا ہمیں کوئی خوف نہیں تھا لیکن بیلسٹک میزائلوں سے حملہ واقعی حیران کن تھا۔ایران کے حملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران تہران کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے اس پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی ڈرون حملے میں ایرانی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردِ عمل میں ایران نے عراق میں عین الاسد بیس اور اربیل میں امریکی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا تھا جہاں امریکی فوجی موجود تھے۔

مزید : بین الاقوامی /عرب دنیا


loading...