خالد مقبول صدیقی کا کابینہ سے علیحدگی کا اعلان لیکن دراصل ایم کیوایم وفاقی حکومت سے کیا چاہتی ہے؟ مقامی اخبار نے بھانڈا پھوڑ دیا

خالد مقبول صدیقی کا کابینہ سے علیحدگی کا اعلان لیکن دراصل ایم کیوایم وفاقی ...
خالد مقبول صدیقی کا کابینہ سے علیحدگی کا اعلان لیکن دراصل ایم کیوایم وفاقی حکومت سے کیا چاہتی ہے؟ مقامی اخبار نے بھانڈا پھوڑ دیا

  



کراچی (ویب ڈیسک) بلدیاتی الیکشن سے قبل دفاتر کھلوانے اور میئر کے لیے براہ راست فوری فنڈز کے حصول کے لیے متحدہ سرگرم ہوگئی، وفاق میں ایک اور وزارت اور رہنماﺅں کے خلاف جاری مقدمات میں ریلیف کے لیے بھی بلیک میلنگ شروع کردی گئی۔ متحدہ کے ایک وزیر خالد مقبول نے استعفیٰ صدر کو پیش کرنے کے بجائے ماضی کے ڈراموں کی یاد تازہ کرتے ہوئے اتوا رکو پریس کانفرنس میں مستعفی ہونے کا اعلان کیا جبکہ دوسرے وزیر قانون فروغ نسیم کے حوالے سے خاموشی اختیار کرلی، متحدہ نے پیپلزپارٹی کی جانب سے سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت کو پی ٹی آئی کے ساتھ سودے بازی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

روزنامہ امت کے مطابق   اگست میں بلدیاتی اداروں کی مدت مکمل ہورہی ہے، جس کے بعد نئے الیکشن متوقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق متحدہ کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگست کے بعد اس سے میئر شپ بھی چھن جائے گی اور عام انتخابات کی طرح بلدیہ بھی تحریک انصاف کے پاس جاسکتی ہے، متحدہ قیادت کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کا راستہ وہ اسی طرح روک سکتی ہے، جب اسے دفاتر کھولنے کی اجازت مل جائے، دفاتر کھلنے سے متحدہ ماضی کی طرح شہر پر اپنی گرفت قائم کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے، جس کے بعد کسی اور جماعت کے لیے کراچی میں الیکشن جیتنا مشکل ہوجائے گا۔

اخباری ذرائع کے مطابق متحدہ نے دفاتر کھلوانے کے حوالے سے وفاقی حکومت اور اہم اداروں سے کئی بار رابطے کئے ہیں تاہم سکیورٹی ادارے متحدہ کے دفاتر کھولنے کے مخالف ہیں، سکیورٹی اداروں کو یقین ہے کہ اگر ایک بار متحدہ کے پرانے دفاتر کھل گئے تو شہرمیں امن و امان برقرار رکھنا چیلنج بن جائے گا، جبکہ الطاف گروپ کے لیے بھی متحدہ کارکنوں سے کھلے رابطوں اور کنٹرول کا راستہ کھل جائے گا، جس سے متحدہ پاکستان کی موجودہ قیادت بھی غیر اہم ہوسکتی ہے، ایسی صورتحال میں ملک کے لیے نئے سکیورٹی چیلنجز پیدا ہوسکتے ہیں، اس لئے سکیورٹی ادارے کسی صورت متحدہ دفاتر کھولنے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

دوسری طرف پی ٹی آئی بھی سمجھتی ہے کہ متحدہ دفاتر کھلنے سے اس کے لیے شہرمیں سیاست کرنا ماضی کی طرح مشکل ہوسکتا ہے، تاہم متحدہ پاکستان کی قیادت اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے دفاتر کو ضروری قرار دے رہی ہے، متحدہ کی کوشش ہے کہ اگر دفاتر کھولنے کی اجازت نہ بھی ملے تو دباﺅ ڈال کر وفاقی سے یہ یقین دہانی لے لی جائے کہ آئندہ میئر بھی ان کی جماعت کا ہوگا، استعفے کا تازہ ڈرامہ بھی اسی سلسلے کی کڑی بتایا جاتا ہے۔رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ  وسیم اختر شہری مسائل پر بری طرح ناکام ہوئے ہیں اور متحدہ قیادت کو خوف ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں وہ اس کارکردگی کے ساتھ ووٹرز کا سامنا نہیں کر پائے گی، اس لئے متحدہ کی کوشش ہے کہ اگست سے پہلے کیئر کے لیے براہ راست فنڈز بھی حاصل کئے جائیں تاکہ باقی چند ماہ میں کچھ ترقیاتی کام کرواکے عوام کو دکھائے جاسکیں،

تاہم دوسری طرف پی ٹی آئی قیادت کو بھی صورتحال کا ادراک ہے اور وہ متحدہ کے براہ راست فنڈنگ کے مطالبے کو ٹالتے آرہے ہیں، ان کی کوشش ہے کہ نیا بلدیاتی سیٹ اپ آنے تک اس معاملے کو لٹکایا جائے اور پھر اپنا میئر لانے کی کوشش کر کے اسے فنڈز دئیے جائیں۔ ذرائع کے مطابق متحدہ وفاق کے کراچی پیکج پر بھی اپنا ٹھپہ لگوانا چاہتی ہے لیکن اس سلسلے میں بھی اسے مشکلات کا سامنا ہے، کراچی ترقیاتی کمیٹی میں اس کا نمائندہ شامل ہے لیکن اس کی سربراہی تحریک انصاف نے اپنے پاس رکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق متحدہ وفاق میں ایک اور وزارت کا مطالبہ بھی کررہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ دو وزارتوں کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم فروغ نسیم کو متحدہ اپنے کوٹے کا وزیر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور اس کا کہنا ہے کہ وزیر قانون کو اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے عہدہ دیا گیا ہے لہٰذا اسے ایک وزارت مزید دی جائے۔

اخبار  کا ذرائع کے حوالے سے کہنا تھا کہ الطاف سے علیحدگی کے باوجود متحدہ نے پرانے ہتھکنڈے ترک نہیں کئے اور خالد مقبول صدیقی کی پریس کانفرنس بھی پارٹی کی ماضی کی بلیک میلنگ کی سیاست کا تسلسل تھی، حیرت انگیز طور پر صدر کو استعفیٰ پیش کرنے کے بجائے متحدہ کے وزیر پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرتے رہے،متحدہ سمجھتی ہے کہ بلاول کی طرف سے سندھ حکومت میں شمولیت کی پیشکش کے بعد وفاق سے سودے بازی کے لیے ان کی پوزیشن کچھ مضبوط ہوئی ہے اور وہ اسی پوزیشن کو کیش کرانے کی کوشش کررہی ہے، خالد مقبول کی پریس کانفرنس بھی اس کا حصہ تھی، اگرچہ متحدہ کو علم ہے کہ وہ اس وقت پیپلزپارٹی کے ساتھ جانے کی پوزیشن میں نہیں  اور جب تک بااثر طاقتیں نہ چاہیں وہ وفاقی حکومت کی حمایت پر بھی مجبور ہے، لیکن اس کی کوشش ہے کہ بلدیاتی الیکشن سے قبل دباﺅ بڑھا کر دفاتر کھولنے کی اجازت، فنڈز، وفاق میں ایک وزارت اور مستقبل کے میئر کے حوالے سے یقین دہانیاں حاصل کرلے۔

ادھر خالد مقبول صدیقی کی پریس کانفرنس پر معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ایم کیو ایم ہماری اہم اتحادی جماعت ہے اور رہے گی۔ خالد مقبول صدیقی نے اپنا استعفیٰ براہ راست حکومت کو نہیں بھیجا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ اتحادی سیاست میں اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ایم کیو ایم کا بیان سنا ہے، اتحادیوں کے کچھ تحفظات ہوتے ہی ہیں، سال 2020ءتبدیلی کا نہیں، ترقی کا سال ہے۔ اس دوران وزیراعظم کی ہدایت پر گورنر سندھ نے متحدہ قیادت سے رابطہ کیا ہے جبکہ اسد عمر کی سربراہی میں وفد آج کراچی میں متحدہ قیادت سے ملاقات بھی کرے گا، گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی متحدہ رہنما خالد مقبول کو ٹیلی فون کر کے یقین دہانی کرا ئی ہے کہ متحدہ کے مطالبات جائز ہیں، ان کے حل کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر متحدہ کے سینئر رہنما کنور نوید جمیل نے کہا کہ استعفیٰ کے حوالے سے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ وفاقی حکومت ہمارے تحفظات ختم نہیں کرپارہی اور عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ پی ٹی آئی کا وفد آرہا ہے یا نہیں اس کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا، یہ باتوں کا نہیں عمل کا وقت ہے ۔ ہمارے اعلان کو پی پی کی پیشکش سے منسلک نہ کیا جائے یہ الگ معاملہ ہے۔ پی پی پی ہو یا پی ٹی آئی ہم نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے ہیں۔

علاوہ ازیں سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے تمام اتحادی ان سے ناراض ہیں، ایم کیو ایم کے لیے پیپلزپارٹی کی پیشکش اب بھی برقرار ہے۔ سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پی پی پی کھلے دل کے ساتھ متحدہ کو سندھ حکومت میں شمولیت کی پیشکش کرچکی ہے اب متحدہ کی باری ہے۔ متحدہ اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ وزارتوں سے استعفیٰ دے چکی ہے اور پھر واپس بھی لے چکی ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ متحدہ پہلے خود کو ذہنی طور پر تیار کر لے۔ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے ہم متحدہ کے ساتھ نہ صرف بیٹھنے کے لئے تیار ہیں بلکہ مشترکہ طور پر عملی اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہا کہ متحدہ کو یہ فیصلہ بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ وفاقی حکومت نے نہ صرف عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے اتحادیوں سے کئے گئے وعدوں کو بھی بھلا دیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلزپارٹی کے کہنے پر وفاقی کابینہ کو نہیں چھوڑا بلکہ یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی /سیاست


loading...