دنیا بھر کے سمندروں میں تبدیلی، وہ خطرناک کام ہوگیا جو تاریخ میں کبھی نہ ہوا تھا

دنیا بھر کے سمندروں میں تبدیلی، وہ خطرناک کام ہوگیا جو تاریخ میں کبھی نہ ہوا ...
دنیا بھر کے سمندروں میں تبدیلی، وہ خطرناک کام ہوگیا جو تاریخ میں کبھی نہ ہوا تھا

  



نیویاک(مانیٹرنگ ڈیسک) ماہرین تیزی سے رونما ہوتی موسمیاتی تبدیلیوں کو دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں اور اب اس حوالے سے مزید ہولناک انکشاف منظرعام پر آ گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ اس وقت سمندروں کا درجہ حرارت معلوم تاریخ میں سب سے بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ 1981ءسے 2010ءتک تین دہائیوں میں سمندروں کا جتنا درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا اس کی نسبت گزشتہ سال 0.075زیادہ تھا۔

درجہ حرارت میں یہ اضافہ اعداد میں تو بہت کم لگ رہا ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر ہم اسے توانائی کی صورت میں دیکھیں تو اتنی توانائی پیدا کرنے کے لیے جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرائے گئے بم جیسے 3ارب 60کروڑ بم پھوڑے جائیں تو اتنی توانائی ہو گی۔ حالیہ سال کے اس قدر اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندروں کا درجہ حرارت بڑھے کی شرح خطرناک حد تک تیز ہو چکی ہے۔

سائنسدان جو 1950ءسے سمندروں کا درجہ حرارت ناپتے آ رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اب تک جتنا درجہ حرارت بڑھ چکا ہے اس سے سمندری حیات کی کئی اقسام لگ بھگ ناپید ہو چکی ہیں اور سمندر گرم ہونے سے 10کروڑ سے زائد کاڈ مچھلیاں ہلاک ہو چکی ہیں۔ امریکہ کی سینٹ تھامس یونیورسٹی کے پروفیسر جان ابراہم کا کہنا ہے کہ ”گلوبل وارمنگ ایک حقیقی خطرہ ہے جو پوری انسانیت کے سر پر منڈلا رہا ہے اور دن بدن سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے اس تحقیق میں جو بتایا ہے وہ اس خطرے کا عشر عشیر بھی نہیں۔ اس وقت ہم جس خطرے کی نہج پر پہنچ چکے ہیں وہ اس سے ہزاروں گنا زیادہ سنگین ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس