سائنسدانوں نے مینڈک کے بطن سے جیتے جاگتے روبوٹ بنا لیے

سائنسدانوں نے مینڈک کے بطن سے جیتے جاگتے روبوٹ بنا لیے
سائنسدانوں نے مینڈک کے بطن سے جیتے جاگتے روبوٹ بنا لیے

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ماہرین مصنوعی ذہانت کی حامل روبوٹک ٹیکنالوجی کے متعلق سنگین وارننگ جاری کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ایک دن انسانوں کا متبادل قرار پا جائے گی اور پھر انسان ناپید ہونا شروع ہو جائے گا مگر اس ٹیکنالوجی کو ترقی دینے والے سائنسدان نجانے کہاں جا کر رکیں گے؟ آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ اب ان سائنسدانوں نے دنیا کا پہلا گوشت پوست والا جیتا جاگتا روبوٹ بنا ڈالا ہے۔ یہ روبوٹ مینڈک کے ایمبریوز (بچے کی خام شکل)کے غیرمتشکل خلیوں (Stem cells)سے بنایا گیا ہے جو کہ زندگی کی ایک نئی شکل ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس جیتے جاگتے روبوٹ کا نام بھی ان افریقی مینڈکوں کے نام کی نسبت سے ’ژینوبوٹ‘ (Xenobot)رکھا گیا ہے جن کے ایمبریو کے غیرمتشکل یا خام خلیوں سے اسے بنایا گیا ہے۔ بہت انتہائی چھوٹے سائز کا روبوٹ ہے جس کی چوڑائی صرف ایک ملی میٹر کے لگ بھگ ہے۔یہ روبوٹ یونیورسٹی آف ورمونٹ کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایجاد کیا ہے۔

ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ روبوٹ طبی نقطہ نظر سے بنایا ہے اور انہیں امید ہے کہ ایک دن آئے گا جب یہ روبوٹ انسانوں کے اندر خون کی نالیوں میں تیر کر سفر کرے گا اور کسی بیماری سے متاثرہ حصے تک پہنچے گا۔ اس کے ذریعے جسم کے اس متاثرہ حصے تک براہ راست دوا پہنچائی جائے گی۔ تحقیقاتی ٹیم کے رکن جوشوا بونگارڈ کا کہنا ہے کہ ”یہ ایک افسانوی مشین ہے جو زندہ ہے۔ یہ نہ تو دھات کا بنا روایتی روبوٹ ہے اور نہ ہی کسی جانور کی قسم۔ یہ زندگی کی ایک نئی قسم ہے جو جانداروں کی طرح زندہ بھی ہے اور اس میں کمپیوٹر کے ذریعے پروگرامنگ بھی کی جا سکتی ہے۔ اس کا ڈی این اے 100فیصد مینڈک کی افریقی قسم ’ژینو‘ کا ہے لیکن یہ مینڈک نہیں ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس