’جب دو جہلا قرآن پر قسمیں کھا کر اپنی بے گناہی کا چرچا کریں تو سمجھ لیں کہ دونوں چور ہیں‘ صحافی نے رانا ثناءاللہ اور شہریار آفریدی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

’جب دو جہلا قرآن پر قسمیں کھا کر اپنی بے گناہی کا چرچا کریں تو سمجھ لیں کہ ...
’جب دو جہلا قرآن پر قسمیں کھا کر اپنی بے گناہی کا چرچا کریں تو سمجھ لیں کہ دونوں چور ہیں‘ صحافی نے رانا ثناءاللہ اور شہریار آفریدی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) رانا ثناءاللہ نے شہریار آفریدی کو قرآن پاک پر حلف کا چیلنج کیا تو قومی اسمبلی کا اجلاس کافی گرما گرمی کا شکار ہوگیا، فریقین ایوان میں انتہائی جذباتی نظر آئے جبکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان بیچ بچاﺅ کرنے کی کوششوں میں لگے رہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

رانا ثناءاللہ کی جانب سے شہریار آفریدی کو قرآن پر حلف کا چیلنج دینے پر صحافی ارشد وحید چوہدری نے بتایا کہ پینل آف چیئرمین سید فخر امام نے رولز کا حوالہ دے کر رولنگ دی کہ جو معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہو اس پر ایوان میں بات نہیں ہو سکتی ، رانا ثنا اللہ صفائی دے چکے ، شہر یار آفریدی بھی بات کر چکے اب اس معاملے پہ یہاں مزید بات نہیں ہو سکتی ، فیصلہ عدالت کرے گی یہاں قرآن پہ نہیں ہو سکتا۔

صحافی اعزاز سید کے مطابق رانا ثنا اللہ نے شہریار آفریدی کو قسم اٹھانے کا کہا تو آفریدی اپوزیشن بنچوں سے قرآن اٹھا لائے۔ قرآن خواجہ آصف کے حکم پر لائبریری سے منگوایاگیاتھا۔اپوزیشن کے رکن اسمبلی صلاح الدین ایوبی نے شہریار آفریدی سے قرآن وآپس لے لیا۔چیئرمین سید فخر امام نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ کردیا۔

صحافی انعام اللہ خٹک نے سارے معاملے پر خواجہ آصف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے لکھا ’ خواجہ آصف نے جلتی پر تیل لگانے کا کام کیا۔ قرآن پاک منگوا کر رانا ثناءاللہ اور شہریار آفریدی کے درمیان مقابلہ کروایا۔ خود ہنستا رہا۔ خواجہ، اگر ایسے ہی جھوٹ اور سچ کا موازنہ کرانا ہو تو اپنی حکومت میں عدالتوں کا خاتمہ کرتے۔ قرآن پاک مقدس کتاب ہے اس کو گندی سیاست کی نذر نہ کریں۔‘

اینکر پرسن جمیل فاروقی نے اس سارے معاملے پر لکھا ’ جب دو جہلا قرآن پر قسمیں کھا کر اپنی بے گناہی کا چرچا کریں تو سمجھ لیں کہ دونوں اپنی جگہ چور ہیں، ایک واقعتا چور جبکہ دوسرا اخلاقی اور خاندانی چور۔۔ اور دونوں میں سے بڑا چور کون ہے اس کا فیصلہ قاضی کرتا ہے مگر آجکل نہ وہ چور رہے اور نہ ہی وہ قاضی، آفریدی بمقابلہ رانا ثناءاللہ ۔‘

دوسری جانب کراچی کی بڑی دینی درسگاہ جامعہ بنوریہ اسلامیہ کے مہتمم مفتی نعیم نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات میں قرآن مجید کو بیچ میں لانا درست نہیں ہے، شریعت کے مطابق دنیاوی معاملات میں قرآن پاک کو لانا ٹھیک نہیں ہے، باقی اراکین اسمبلی کو چاہیے کہ وہ رانا ثناءاللہ اور شہریار آفریدی کو سمجھائیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد