’مجھ سے انجم ڈار نے ڈیل کی کوشش کی، میرے سامنے نواز شریف سے فون پر بات بھی کی‘ براڈ شیٹ کے سربراہ نے ملاقات کی تفصیلات بیان کردیں

’مجھ سے انجم ڈار نے ڈیل کی کوشش کی، میرے سامنے نواز شریف سے فون پر بات بھی ...
’مجھ سے انجم ڈار نے ڈیل کی کوشش کی، میرے سامنے نواز شریف سے فون پر بات بھی کی‘ براڈ شیٹ کے سربراہ نے ملاقات کی تفصیلات بیان کردیں

  

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے موسوی کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ ڈیل کیلئے انجم ڈار نے رابطہ کیا، شہزاد اکبر نے ان سے لندن میں دوبار ملاقات کی ، وہ عمران خان کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں لیکن نیب کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کریں گے۔

نجی ٹی وی 24 نیوز کے پروگرام ’10 تک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کاوے موسوی نے کہا کہ ہمیں حکومت پاکستان نے چوری شدہ پیسے کی کھوج لگانے کیلئے کہا۔ ہم نے  کروڑوں ڈالرز کا سراغ لگایا لیکن پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے ہماری ساری کوششوں پر پانی پھیر دیا، پاکستان کی حکومت اور نیب نے ہمیں فراڈ کمپنی قرار دیا لیکن لندن کی عدالت میں ہم کیس جیتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر براڈ شیٹ کو کچھ نہیں ملا تو ہائیکورٹ نے ہمیں پیسے دینے کا کیوں کہا؟ نیو جرسی میں ہم نے آفتاب شیر پاؤ کے اکاؤنٹ میں پیسوں کا پتا چلایا ، لیکن ہمیں اس سے روک دیا گیا ۔ انہیں ٹارگٹس کی لسٹ سے نکال کر وزیر بنادیا گیا۔

کاوے موسوی کے مطابق ان کے پاس انجم ڈار میاں نواز شریف کے ساتھ اتری ہوئی اپنی تصاویر لے کر آیا تھا اس نے ان کے سامنے میاں نواز شریف کے ساتھ فون پر بھی بات کی۔ انہوں نے اس لیے رابطہ کیا کہ وہ ثالثی چاہتے تھے ۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ نواز شریف کو لندن میں تحقیقات کے بعد عدالت کا سامنا کرنا پڑے ۔ آج 2021 میں پانامہ پیپرز کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد میں نہیں سمجھتا کہ مجھے اس سوال کا جواب دینا چاہیے۔

کاوے موسوی نے بتایا کہ انہوں نے ایک میمورنڈم لکھا ہے جو جمعرات کو شائع ہوجائے گا، اس میں یہ تفصیل بیان کی جائے گی کہ کیسے انہیں نیچا دکھایا جارہا ہے۔

انہوں نے تحریک انصاف کے ساتھ ڈیل کے حوالے سے کہا  کہ ان کے ساتھ تحریک انصاف کی حکومت نے سیٹلمنٹ نہیں کی ، ہمارے پاس انکے خلاف عدالت  کا آرڈر تھا، لیکن انہوں نے پیسے ادا نہیں کئے ، شہزاد اکبر لندن میں مجھ سے ملنے آئے۔ میں ان  سے دو مرتبہ ملا ، میں نے کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیے، قانون کی حکمرانی کے بارے میں آپ کا رویہ کتنا غیر سنجیدہ ہے ۔آپ نے دعویٰ کیا کہ آپ کی حکومت مختلف ہے تو پھر عدالتی احکامات کا احترام کہاں ہے ؟ عدالت کا فیصلہ ہے تو پھر آپ نے پیسے کیوں ادا نہیں کئے ؟ انہوں نے پیسے نہیں دیے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم بڑی تحقیقات کریں ، یہ جھوٹ ہے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ سٹیلمنٹ کرلی ہے ۔

کاوے موسوی نے کہا کہ وہ عمران خان کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن اس سے پہلے پاکستان کی حکومت کو قائل کرنا ہوگا، عمران خان پر حیرت ہے کہ وہ اپنے وزیر سے نہیں پوچھتے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، نیب کے ساتھ معاہدہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ناقابل بھروسہ ہے۔

مزید :

برطانیہ -