تعلیمی اداروں کی بندش اور آن لائن کلاسز

تعلیمی اداروں کی بندش اور آن لائن کلاسز

  

ڈاکٹر محمد اشرف کمال

صدر شعبہ اردو گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر

وبائیں انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کائنات میں موجود ہیں اور اکثرا وقات اچانک نمودار ہو کر اپنی ہلاکت خیزی سے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہیں۔ دیگر بہت سی وبائیں جن پہ اب قابو پایا جاچکا ہے، اپنے برے اثرات سے تباہی پھیلاچکی ہیں اور ان کے تدارک کے لیے انسانوں نے دوائیں اور ویکسین بناکر ان سے تحفظ حاصل کیا ہے۔

2019ء میں کورونا وائرس اچانک چین کی سرزمین سے خطرے کی گھنٹی بجاتا ہوا نمودار ہوا، وہاں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرنے کے بعد  دیکھتے ہی دیکھتے اپنی تمام تر نحوست، ہلاکت خیزی کے ساتھ پوری دنیا میں خوف پھیل گیا۔اقوام متحدہ نے اسے وبا قرار دیا۔ جو اب لاکھوں لوگوں کی جان لے چکا ہے۔ اس کی پہلی لہر گزشتہ گرمیوں میں کم ہوتے ہوتے کئی علاقوں میں تقریباً ختم ہوگئی اور کئی ملکوں نے اس کے اختتام کا باقاعدہ اعلان کردیا۔ اچانک سردی کی لہر آتے ہیں اس وائرس کی دوسری لہر نے انگڑائی لی اور لاکھوں لوگوں کو پھر سے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اپنی وبائی ہلاکت خیزی کی وجہ سے کورونا وائرس نے تمام دنیا کی طرح ملک عزیز پاکستان کے طول وعرض میں خوف وہراس پھیلا ہوا ہے۔ اس کی پہلی لہر کے بعد کورونا سے متاثرہونے والوں کی تعداد میں واضح کمی محسوس ہوئی جس کی وجہ سے حکومت نے اس کا اعلان بھی کردیا کہ اب کورونا پر قابو پالیا گیا ہے۔مگر اس کی دوسری لہر نے پھر پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کی وجہ سے حکومت کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا پڑیں۔حکومت بار بار قوم کو متحد رہ کر اس کے خلاف نبرد آزما ہونے کی تلقین کر رہی ہے۔اسی ضمن میں حکومت نے حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 26نومبر سے دس جنوری تک تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، یونیورسٹیاں، ووکیشنل سینٹر، اکیڈمیز، ٹیوشن سنٹراور اس کے ساتھ ساتھ ہرقسم کے کوچنگ سنٹر بھی بند رکھے جائیں گے۔لوگوں کو اس بارے میں بار بار ہدایات دی جارہی ہیں کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ماسک اور سینی ٹائزر کا استعمال ہر جگہ اور ہر آفس میں ممکن بنائیں۔سیاسی، ثقافتی اور مذہبی معاملات میں لوگ اکٹھے ہونے اور ایک دوسرے سے ملنے،ہاتھ ملانے سے پرہیز کریں۔مختلف مارکیٹوں کے کھلنے اور کاروبار کے اوقات میں کمی کردی گئی ہے۔سماجی تقریبات پر بھی بغیر ایس او پیز کے پابندی عاید کر دی ہے۔ تعلیمی وتدریسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سالانہ امتحانات بھی تعلیمی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے خوف اور خدشات کی وجہ سے یہ امتحانات بھی ملتوی کرد یے گئے ہیں۔ اور جو امتھان منعقد ہورہے تھے کینسل کردیے گئے ہیں اور ان کے بارے میں بھی کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ کب منعقد ہوں گے۔ اسی طرح اوپن یونیورسٹی کی مختلف تعلیمی پروگراموں کی ورکشاپیں اور میٹنگیں بھی بند ہوگئی ہیں اور امتحانات بھی۔ یوں کورونا کی وجہ سے پورے ملک کا تعلیمی نظام دوبارہ معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ جامعات میں جو تعلیمی اور تحقیقی حوالے سے سرگرمیاں شروع ہوئی تھیں وہ بھی معطل کردی گئی ہیں۔کیونکہ جامعات ہی بند کر دی گئی ہیں۔  اسکولوں اور کالجوں میں صرف ہفتے کے دو دن پچاس پرسنٹ ٹیچنگ اسٹاف کی حاضری کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ ایسے تمام ممالک جہاں کورونا کا پھیلاؤ جاری ہے سکولوں کی بندش عمل میں آچکی ہے جس کی وجہ سے کروڑوں بچے تعلیمی سرگرمیوں  سے محروم ہوگئے ہیں۔پہلے بھی بغیر امتحان کے سابقہ ریکارڈ کی بنا پر سکولوں میں بچوں کو اگلی کلاس میں پروموٹ کیا گیا تھا۔ اس قسم کی بندشیں عالمی بحرانوں میں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں۔اور ان بندشوں کا مقصد صرف اور صرف اس مہلک اور جان لیوا وائرس کی زد سے لوگوں کو بچانا ہے۔ ان تمام حالات میں تعلیمی حوالے سے کچھ انتظامات اور منصوبہ بندیاں کی گئی ہیں۔سرکاری طور پر بھی اور عوامی سطح پر بھی۔ یونیورسٹی اور گریجویٹ لیول کے طلبہ وطالبات سے لے کر اسکول ایجوکیشن تک آن لائن ایجوکیشن کے ذریعے تعلیم کو ممکن بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں زوم کلاسز اور گوگل کلاس روم کے طریقہ کار کو اپنایا جارہا ہے۔ گھر بیٹھے تمام طلبہ وطالبات ان کلاسز مین شریک ہوتے ہیں اور اساتذہ آن لائن انھیں لیکچر دیتے ہیں اور تعلیمی مواد فراہم کرتے ہیں۔ ای طرح کالجوں میں بھی آن لائن ایجوکیشن کے ذریعے انٹر اور بی ایس کے طلبہ وطالبات کو گھر بیٹھے پڑھایا جارہا ہے۔ کالجوں میں ریکارڈنگ روم بنا دیے گئے ہیں جہاں پتوفیسر حضرات بیٹھ کر اپنے اپنے لیکچر ریکارڈ کراتے ہیں جنھیں فیس بک یا وٹز اپ پہ اپ لوڈ کردیا جاتا ہے۔ یوں کوشش کی جارہی ہے کہ تعلیمی نقصان نہ ہو اور ہر بچہ گھر بیٹھے تعلیم حاصل کرسکے۔

طلبہ وطالبات کو بھی چاہئے کہ اس وبائی دور مین گھر تک محدود رہیں اور اپنی سٹڈیز کی طرف دھیان دیں۔انھیں خود احساس ہونا چاہئے کہ تعلیم وتدریس ہی صحیح معنوں میں انھیں شعور دی سکتی ہے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ کہ طلبہ وطالبات کو آن لائن کے چکر میں کتابوں سے دور نہ کیا جائے بلکہ ان کے گھر تک کتابوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ایسا نہ صرف ان کے والدین بھی کرسکتے ہیں بلکہ اوپن یونیورسٹی کی طرز پر تعلیمی ادارے بھی یہ سہولت فراہم کرسکتے ہیں۔

یونیورسٹیاں اور ایسے تعلیمی ادارے جوکہ آن لائن لیکچر کا بندوبست کرسکتے ہوں انھیں اس کا اہتمام کرناا چاہئے کہ پروفیسرز اور طلبہ وطالبات کو وہ ضروری سہولیات مہیا کریں جن کی مدد سے گھر بیٹھے انٹر نیٹ کے ذریعے دیے جانے والے لیکچروں کے حوالے سے تعلیمی سلسلہ جاری رہے۔ اس حوالے سے آن لائن ٹیسٹ اور امتھانات کو بھی ممکن بنایا جائے تاکہ طلبہ وطالبات کی کارکردگی کو ساتھ ساتھ پرکھا جاسکے۔

حکومت، تعلیمی اداروں اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین بھی اپنا کردار ادا کریں وہ بچوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے دیں اور انھیں کمپیوٹر اور موبائل سیل کے استعمال کی اجازت دیتے ہوئے چیک اینڈ بیلنس بھی رکھیں کہ کہیں بچہ غلط سمت میں تو نہیں جارہا۔ وہ اپنے بچوں کو کھیل کود میں وقت ضائع کرنے کے بجائے، گھر میں مصروف رکھیں اور باقاعدگی سے ان سے تعلیمی نصاب مکمل کروائیں۔ اور جہاں جہاں رہنمائی ضرورت ہو تو متعلقہ تعلیمی ادارے اس حوالے سے انھیں گھر بیٹھے ضروری معاونت فراہم کریں۔والدین اس حوالے سے بنیادی، مرکزی اور فعال کردار ادا کریں اور اپنے بچوں کی آن لائن ایجوکیشن کے لیے انھیں انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی کو ممکن بنائیں کیونکہ یہ کام حکومت اورتعلیمی ادارے نہیں کرسکتے کہ ہر گھر میں انٹر نیٹ مہیا کریں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -