کرونا کا پرہیز مہنگا اور علاج سستا!

کرونا کا پرہیز مہنگا اور علاج سستا!

  

پروفیسر ڈاکٹر سمیع اللہ،  (یونیورسٹی آف گجرات)

Email: samiullah@uog.edu.pk

دنیا میں آج تک بہت ساری بیماریاں آئی اور ان سے اموات کا خوف بھی منڈلاتا رہا مگر نوبت لاک ڈاون تک نہیں آئی۔ لاک ڈاون کی وجہ سے ایک طرف تو معاشی پستی کا خدشہ ہوتا ہے جو بیروزگاری کے ساتھ ساتھ غربت کو جنم دیتی ہے جس سے معاشرتی مسائل میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف نفسیاتی مسائل کی وجہ سے بچوں اور عمر رسیدہ لوگوں کی صحت کے مسائل زیادہ پچیدہ ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی وباہ کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ مقولہ مشہور ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہوتی ہے مگر کرونا کی صورتحال میں ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ پرہیز مہنگی اور علاج سستا تھا۔ ہم نے دنیا کے 200 سے زیادہ ممالک کو لاک ڈاون کیا جس سے بے روزگاری، افراط زر، معاشی قحط، تجارتی خسارہ میں اضافہ کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری، ترسیل زر اور پیداوار میں کمی دیکھی جس سے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کئی سال پیچھے چلی گئی اور اس کا سارا اثر کام کرنے والے عام لوگوں پر پڑا جس سے تعلیم اور صحت میں خاطر خواہ کمی دیکھی گئی۔ 

عالمی ڈاکٹرز فورم کی تحقیق کو پوری دنیا مانتی ہے اور اس فورم نے اقوام عالم کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں دنیا کو بتایا گیا کہ کرونا کوئی بہت خطرناک چیز نہیں ہے کہ اس وجہ سے پوری دنیا کو بند کر دینا عقل مندی نہیں تھی۔ یہ فورم کہتا ہے کہ انگلستان میں 2017 سے 2018 تک کھانسی اور زکام جیسی چھوت کی بیماریوں سے 52000 لوگوں کی اموات ہوئیں جبکہ کرونا سے پورے سال میں 47000 اموات ظاہر کی گئی۔ اسی طرح پاکستان میں کرونا سے 6000 جبکہ صرف ہماری سڑکوں پر حادثات میں سالانہ 35000 لوگوں کی موت ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک میں مختلف بیماریوں سے اموات کرونا سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہیں مگر اس کے خوف نے دنیا کو لاک ڈاون کی طرف دھکیلا جو ایک مہنگا سودا تھا۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اگر کسی فرد کا کرونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو اگلے 90 دن تک وہ کسی اور بیماری یا حادثے میں فوت ہوتا ہے تو وہ موت بھی کرونا میں شمار ہو گی جس سے اسکے نمبر میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ کرونا کو ایک عام بیماری کی طرح سمجھا جائے کیوں کہ یہ کھانسی اور زکام کی نئی قسم ہے اور ہمارا جسم اس کو آسانی سے برداشت کر سکتا ہے۔

اس وقت دنیا کرونا کی دوسری لہر کے لیے پریشان ہے کہ اس میں مریضوں کی تعداد کافی زیادہ ہے مگر تفصیلی جائزہ کے بعد یہ معلوم ہوا کہ دوسری لہر میں لوگوں کے ٹیسٹ تو مثبت ہیں مگر ان میں مرض کی نشانیاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ مریض اس وائرس کو آگے منتقل بھی نہیں کر سکتے۔ یہ امر بتانا بھی ضروری ہے کہ کرونا کے مریضوں کی تعداد تو زیادہ ہو رہی ہے مگر کرونا وارڈز بلکل خالی ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ وائرس وقت کے ساتھ کمزور ہو رہا ہے اور عالمی ڈاکٹرز فورم نے یہاں تک بتا دیا ہے کہ کرونا کے لیے ویکسین کی ضرورت نہیں ہے اور ہر ملک کی حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کی قوت مدافعت کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں جو سستا، محفوظ اور قابل عمل بھی ہے۔

کرونا کی وجہ سے اگر کسی کو فائدہ ہے تو وہ ان کمپنیوں کو ہو سکتا ہے جو اس کی ویکسین بنا رہی ہیں اور وہ پوری دنیا کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں جس سے کھربوں ڈالر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جبکہ دوسرے طرف حکومتی سطح پر یہ مہم چلائی جا سکتی ہے کہ اچھی خوارک بہترین ویکسین ہے اور اسی سلسلے میں 2020 کا نوبل پرائز برائے امن "ورلڈ فوڈ پروگرام" کو دیا گیا ہے۔ دنیا میں روزانہ 50000 لوگوں کی موت بھوک اور غربت کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ اس کی ویکسین، جو کہ خوراک ہے، میسر ہے۔ اگر ہم اپنے لوگوں کی خوراک کو ترجیح میں شامل کر لیں اور اس سلسلے میں آگاہی مہم چلائیں تو ہماری دنیا پہلے سے مضبوط، خوشحال اور صحت مند ہو اور مستقبل میں کسی بیماری کی وجہ سے نوبت لاک ڈاون تک نہ آئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دوا ساز کمپنیاں اپنی ویکسین استعمال کرتی ہیں یا لوگوں کی فلاح اور استحکام کے لیے خوراک کو ویکسین کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر زمینی حقائق سے اندازہ ہو رہا ہے کہ دوا ساز کمپنیاں حکومتوں اور لوگوں سے ویکسین کے نام پر پیسے بٹورنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ 

اس وقت کی ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کو مناسب معلومات دی جائیں کہ وہ اپنی قوت مدافعت کو کیسے بہتر کر سکتے ہیں کیونکہ یہ واحد ہتھیار ہے جو کسی بھی بیماری کو قابو کر سکتا ہے۔ غریب ممالک کی خوش قسمتی ہے کہ ان کا انحصار زراعت پر ہے جو خوراک کا بہترین ذریعہ ہے۔ دوسرے نمبر پر پسماندہ ممالک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور 50 سال سے کم عمر لوگوں کو کرونا سے خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومتی سطح پر ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جس سے کسان کو مالی معاونت فراہم کی جائے تاکہ وہ بہترین زرعی اجناس پیدا کرکے ملکی ضروریات پوری کرنے کے بعد دنیا کو برآمد کر کے زرمبادلہ حاصل کر سکے جس سے لوگوں کی فلاح، آمدنی، روزگار اور پیداوار کا ذریعہ ہو جو ملکی خوشحالی کی ضمانت ہو گا۔ اچھی خوراک کرونا کا بہترین علاج اور ویکسین ہے مگر ہم نے لاک ڈاون کو پرہیز کے طور پر استعمال کیا جو بہت مہنگا ثابت ہوا اور ابھی وقت ہے کہ ہم فیصلہ سازی میں تحقیق اور فہم و فراست رکھنے والے لوگوں کو شامل کریں تاکہ اس کے منفی اثرات سے معیشت اور عام آدمی کو مخفوظ کیاجا سکے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -