کالجز اور یونیورسٹیز کی غیر نصابی سرگرمیاں 

کالجز اور یونیورسٹیز کی غیر نصابی سرگرمیاں 

  

پروفیسرقاضی اکرام بشیر 

گزشتہ سال کوڈ 19کی وجہ سے پاکستان بھر کے تعلیمی ادارے مارچ سے ستمبر تک اور نومبر سے تاحال بند رہے اور تدریسی سرگرمیاں اس طریقے سے جاری نہ رہ سکیں جو گزشتہ ڈیڑھ دو صدیوں سے جاری رہی ہیں البتہ آن لائن تدریس کا سلسلہ جاری رہا جس سے طلباء و طالبات اور ایم فل / پی ایچ ڈی کے سکالرز استفادہ کرتے رہے اس دوران غیر نصابی اور ہم نصابی سرگرمیاں، بی ایس آنرزکے داخلے اور یونیورسٹیوں کے علاوہ بورڈز کے امتحانی نتائج کا اعلان بھی ہوتا رہا۔ انٹرمیڈیٹ اور گریجوایشن کے بہت سے طلباء و طالبات جن کے نمبر ان کی محنت اور توقع سے کم آئے تھے کیونکہ فارمولا یہ بنایا گیا تھا کہ جتنے نمبر گیارہویں جماعت کے ہیں ان میں تین فیصد کا اضافہ کرکے بارہویں جماعت کے نتیجے میں شامل کر دیئے جائیں۔ اس فارمولے کے تحت بعض ایسے طلباء و طالبات جن کے نمبر امتحانات کے انعقاد کی صورت میں کم آئے تھے۔ بغیر امتحان دیئے ان کے نمبر زیادہ آ گئے۔ جن طلباء و طالبات کے نمبر کم آئے ہیں وہ دوبارہ داخلہ بھیج کر اپنے نمبروں میں اضافہ کررہے ہیں لیکن یہ عجیب بات ہے کہ امتحانات کا انعقاد کئے بغیر طلباء و طالبات سے ایڈمشن فیس تو وصول کر لی گئی اور اب نمبروں میں اضافے کے لئے انہیں دوبارہ ایڈمشن فیس دینا پڑ رہی ہے بلکہ بغیر امتحانات کے نتیجہ مرتب کرنے کے سلسلے میں طلباء سے مبلغ تین سو روپیہ پراسیسنگ چارجز بھی لئے گئے ہیں جن کا کوئی جواز نہیں تھا۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی علمی و ادبی سرگرمیاں 

جی سی یونیورسٹی لاہور اپنی روایات کے مطابق علمی، ادبی اور تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے البتہ یونیورسٹی کے مجلہ راوی کی اشاعت بدستور تاخیر کا شکار ہے۔ چونکہ یونیورسٹیاں اور کالجز ایک مرحلہ وار پروگرام کے تحت کھولے جا رہے ہیں۔اس لئے توقع کی جا رہی ہے کہ ایس او پیز کے مطابق فروری مارچ میں جی سی یونیورسٹی میں بعض تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ ایک زمانے میں جی سی یونیورسٹی میں ابلاغیات(صحافت) کا مضمون گریجوایشن کی سطح پر پڑھایا جاتا تھا لیکن اب بعض مصلحتوں کی وجہ سے بی ایس آنرز میں ابلاغیات کے مضمون کو متعارف نہیں کروایا گیا

اولڈ راوینز یونین کے سالانہ انتخابات

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں اولڈ راوینز یونین کے سالانہ انتخابات کی تیاریاں زوروں پر ہیں اگرچہ اولڈ راوینز یونین کے مقابلے میں اولڈ راوینز ایسوسی ایشن زیادہ متحرک اور فعال ہے نیز راوینز سے سالانہ عشایئے کے سلسلے میں کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی لیکن اولڈ راوینز یونین نے اپنی رکنیت فیس مبلغ پانچ ہزار روپے رکھی ہوئی ہے اور سالانہ عشایئے کے لئے الگ سے فیس وصول کی جاتی ہے۔ اولڈ راوینز یونین کے بیشتر اراکین حالیہ سالوں میں یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں لیکن ان کے ووٹوں کی وجہ سے سرکاری حمایت یافتہ امیدوار الیکشن میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی اولڈ راوینز یونین کو زیادہ فعال بنانے کے لئے اہم اقدامات کریں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -