کابینہ کے ساتھیوں کو وزیراعظم کا انتباہ

کابینہ کے ساتھیوں کو وزیراعظم کا انتباہ

  

وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے فیصلوں پر میڈیا میں تنقید کرنے والے وزراء کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ اجلاس میں ہر ایک کو،ہر معاملے میں بولنے کی اجازت ہے،اِس لئے رائے کے اظہار کے بعد جب کوئی فیصلہ ہو جاتا ہے تو وہ متفقہ ہوتا ہے۔اس کے بعد میڈیا پر سستی شہرت کے لئے فیصلوں پر تنقید قابل ِ قبول نہیں،اگر کوئی ایسا چاہتا ہے تو اس کا بڑا سادہ حل ہے کہ وہ استعفا دے اور پھر اختلافِ رائے کا اظہار کرتا رہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزراء کابینہ کے فیصلوں کو نہ صرف قبول کریں،بلکہ میڈیا پر اس کا دفاع بھی کریں،کیا کبھی ایسی کابینہ دیکھی ہے جس کے اتنے اجلاس ہوتے ہوں اور سب کو بولنے کی آزادی ہو۔

وزیراعظم اپنے ساتھی وزراء کو اس سے پہلے بھی سمجھاتے بجھاتے رہتے ہیں کہ وہ اُن کے فیصلوں پر میڈیا میں تنقید نہ کیا کریں اور جو کچھ کہنا ہو کابینہ کے اجلاسوں میں کہا کریں، جو باقاعدگی سے ہوتے ہیں،عام طور پر ایسی اطلاعات بھی سامنے آتی رہتی ہیں کہ ان اجلاسوں میں دو یا زیادہ وزیر باہم اُلجھ پڑے اور پھر وزیراعظم کو  معاملہ رفع دفع کرانے کے لئے مداخلت کرنا پڑی۔ ماضی میں ایسا بھی ہوا کہ کسی مسئلے پر اگر کوئی وزیر ہدفِ تنقید بنا رہا تو دوسرے وزیروں نے بھی اس میں اپنا حصہ بقدرِ جثہ ڈال دیا، اب چند روز سے بجلی کا بریک ڈاؤن زیر بحث ہے اور یہ پوچھا جا رہا ہے کہ اس کی ذمے داری کس پر ہے، چند چھوٹے اہلکار معطل بھی کئے گئے ہیں لیکن بڑے لوگوں کو کسی نے نہیں پوچھا۔اس حوالے سے توانائی کے وزیر عمر ایوب پر بھی نکتہ چینی ہو رہی ہے، جنہوں نے بریک ڈاؤن کے اگلے ہی روز جلدی جلدی ایک پریس کانفرنس تو بُلا لی، لیکن اس سوال کا جواب نہ بن پڑا کہ بریک ڈاؤن کیوں ہوا اور ذمے دار کون تھا؟ اپوزیشن تو اُن سے استعفا مانگ رہی ہے اِس سے پہلے بعض دوسرے وزیروں سے بھی استعفا مانگا گیا تھا، لیکن یہاں ایسی کوئی روایت نہیں، ریلوے کے حادثوں پر ایک وزیر نے کہا تھا کہ مَیں کوئی ڈرائیور یا کانٹے والا ہوں کہ استعفا دوں۔ اس دلیل کو آگے بڑھاتے ہوئے عمرا یوب کہہ سکتے ہیں کہ وہ کوئی سوئچ بورڈ آپریٹر ہیں،جو استعفا دیں ویسے تو اس مسئلے کا بہترین حل ایک دوسرے وزیر نے نکال دیا تھا جب انہوں نے فرمایا کہ بریک ڈاؤن کی ذمے دار مسلم لیگ(ن) تھی، جو ”دھڑا دھڑ“ بجلی بناتی رہی لیکن ترسیلی نظام کی طرف توجہ نہ دی۔ اس کا جواب مفتاح اسماعیل نے یہ کہہ کر دیا کہ ہم نے جو بجلی بنائی وہ اِسی ترسیلی نظام کے ذریعے صارفین تک پہنچتی رہی اور ہمارے دور میں ایسا کوئی بڑا بریک ڈاؤن نہیں ہوا۔

وزیراعظم کا یہ مطالبہ تو بالکل جائز اور درست ہے کہ جو وزراء کابینہ کے فیصلوں کے باوجود باہر جا کر ان کا دفاع نہیں کرتے اور اُلٹا اس پر نکتہ چینی کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ مستعفی ہوں اور  پھر جو جی چاہے کرتے رہیں بات تو اصولی ہے،لیکن ہمارا نہیں خیال کہ کوئی وزیر اس پر استعفا دے گا، کیونکہ ہماری سیاست میں بعض ”اصول“ خاصے راسخ ہیں اور اگر استعفے آئیں گے تو اُسی وقت آئیں گے جب مناسب وقت ہو گا۔عام طور پر ایسے استعفے اُس وقت آتے ہیں جب حکمران جماعت کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ اس کی حکومت جانے والی ہے یا پھر نئے انتخابات ہونے والے ہیں،اس وقت دونوں میں سے کوئی بات بھی بظاہر ہونے والی نہیں۔البتہ اب یہ یقین ہو گیا ہے کہ اِس وقت کابینہ میں جو  وزراء حکومت کا دفاع نہیں کرتے یا نکتہ چینی کرتے ہیں تحریک انصاف اگلے مرحلے میں اُنہیں انتخابی ٹکٹ نہیں دے گی، وزیراعظم کا روئے سخن جن وزیروں کی طرف تھا وہ کوئی چھپے ہوئے نہیں ہیں، اُنہیں ٹی وی چینلوں کے ناظرین بھی پہچانتے ہیں اور وزیراعظم کو تو اُن کے بارے میں ہر بات معلوم ہے۔ ان وزیروں کو اپنے اگلے ٹھکانے کے بارے میں ابھی سے منصوبہ بندی کر لینی چاہئے جو سمجھ دار پرندے ہیں وہ نئے گھونسلوں کی تلاش میں ہیں۔ وزیراعظم اُنہیں استعفا دینے کے لئے نہ بھی کہتے تو اُنہیں اپنے احوال کا اچھی طرح علم ہے۔یہ سوال بھی ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم جن وزیروں کو اپنی حکومت کا نکتہ چیں سمجھتے ہیں اُنہیں کابینہ کا حصہ کیوں بنا رکھا ہے اور جن کے نام اس خبر کے ساتھ ہی سامنے آئے ہیں کہ اُنہیں سرزنش کی گئی ہے انہیں وہ خود کیوں نہیں نکال دیتے تو اس کی وجہ شاید وہ مجبوریاں ہیں جو بہت ہی معمولی سی اکثریت سے حکومت بنانے کی وجہ سے اس حکومت کو درپیش ہیں۔

وزیراعظم نے کابینہ کے ارکان کو وزارتوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی ہے ویسے تو ہر وزیر کو اپنے طور پر ہی اپنی وزارت کے معاملات بہتر بنانے چاہئیں اور اس کے لئے وزیراعظم کی ہدایت کا انتظار نہیں کرنا چاہئے،لیکن غالباً ان وزیروں کی مجبوری یہ ہے کہ اُنہیں اپوزیشن رہنماؤں کے سیاسی بیانات کا بھی کوئی نہ کوئی جواب دینا پڑتا ہے۔چند وزیر مشیر تو ایسے ہیں جنہیں آج تک اپنی وزارت کے متعلق کبھی کوئی بات کرتے اور اس کے کسی خفیہ یا جلی کارنامے کو سامنے لاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ وزیراعظم کا خیال ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار اُن کی بہترین چوائس ہیں اُن کی توقعات پر پورا اترے ہیں اور اُن کی قیادت میں پنجاب کا صوبہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے،لیکن یہ بات عوام تک اس انداز میں نہیں پہنچ رہی، یہ کس کی ذمے داری ہے؟وزیراعلیٰ تو خود روزانہ باقاعدگی سے دو کام کرتے ہیں ایک تو اپوزیشن کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں اور دوسرے اپنی حکومت کے کارناموں کا ذکر بھی کرتے ہیں،جو ان کے خیال میں صوبے کو ترقی یافتہ بنا رہے ہیں،لیکن سخن گسترانہ بات یہ آن پڑی ہے کہ باقی صوبے کو تو چھوڑیں لاہور کے لوگ پوچھتے ہیں کہ جو حکومت دو ماہ سے کچرا اٹھانے میں ناکام ہے اور آج تک یہ مسئلہ حل نہیں کر پائی، وہ باقی مسائل کیسے حل کرے گی؟ اُنہیں اگر یہ بتایا جائے گا کہ حکومت صفائی کے کام میں کوتاہی برداشت نہیں کرے گی تو اس پر کون یقین کرے گا؟وزیراعظم جس کسی کو حکومت ِ پنجاب کی کارکردگی سامنے لانے کی ہدایت کرتے ہیں وہ اس طرف توجہ کرنے کی بجائے قوم کو یہ بتانے میں اپنی صلاحیتیں صرف کرنے لگتا ہے کہ پی ڈی ایم ناکام ہونے والی ہے، بس ٹوٹنے ہی والی ہے،حالانکہ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت اس کچرے کے ساتھ کیا کرنے والی ہے،جس کے ڈھیر پورے شہر میں لگے ہیں۔پنجاب کی حکومت اگر کوئی شاندار کارنامے کر رہی ہے تو  وہ ان ڈھیروں میں دب کر رہ گئے ہیں، اِس لئے بہتر یہ ہے کہ پہلے انہیں اٹھانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ لوگوں کی نظر دوسرے کاموں پر بھی ٹھہر سکے۔وزیراعظم کا اپنے وزیروں کو انتباہ تو بروقت ہے، لیکن اس بحرکی تہہ سے کیا اُچھلتا ہے یہ ابھی چند ہفتوں بعد ہی پتہ چلے گا،جب اُن وزیروں کی نجی مجالس کی کھسر پُھسر باہر آئے گی، جنہیں ہدفِ بنایا گیا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -