شعبہ صحت کی تنظیموں کا احتجاج

شعبہ صحت کی تنظیموں کا احتجاج

  

آج(جمعرات) گرینڈ ہیلتھ الائنس کے زیر اہتمام سروسز ہسپتال لاہور میں کنونشن اور مظاہرہ ہو گا، اس میں شعبہ صحت سے متعلق بیس سے زیادہ تنظیموں کی نمائندگی ہو گی یہ مظاہرہ ایم ٹی آئی  آرڈیننس کے نفاذ پر احتجاج کے لئے ہے۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس کے مرکزی صدر ڈاکٹر حامد مختار بٹ کے مطابق یہ ایکٹ اسلام آباد میں نفاذ کے بعد شیخ زید ہسپتال لاہور میں بھی نافذ ہو گیا ہے،اگلے مرحلے میں میو ہسپتال میں بھی لاگو کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر حامد مختار کے مطابق اس کنونشن میں بیس سے زیادہ تنظیموں کے عہدیدار جن میں پیرا میڈیکل سٹاف، ڈاکٹروں اور نرسوں کی تنظیمیں بھی شامل ہیں، شریک ہوں گی اور اسلام آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور دوسرے شہروں سے وفود آئیں گے۔مرکزی صدر کے مطابق یہ تمام تنظیمیں پہلے روز سے اِس ایکٹ کو مسترد کر چکی ہیں، جس کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے۔بتایا گیا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت ہسپتالوں کو سرکاری تحویل سے نکال کر نیم خود مختار بورڈوں کے سپرد کر دیا جائے گا، جو ان ہسپتالوں کا نظم و نسق چلائیں گے۔ اب تک جن ہسپتالوں میں یہ عمل شروع ہوا، وہاں مفت علاج کی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ پرچی فیس بڑھانے کے علاوہ مختلف ٹیسٹوں کے چارجز بھی مقرر کر دیئے گئے ہیں۔حکومت ِ وقت ایک طرف تو صحت کارڈ کا نظام شروع کئے ہوئے ہے۔اس صحت کارڈ کے تحت متعلقہ گھرانے کے افراد مخصوص امراض کا علاج کرا سکتے ہیں ادائیگی اس کارڈ کے ذریعے ہو گی، جس کی مقررہ رقم سات لاکھ روپے (سالانہ) ہے۔شہریوں اور شعبہ صحت سے متعلق اہلکاروں اور ملازمین کا کہنا ہے کہ مفت علاج کی سہولتیں ختم کرنے کے علاوہ ملازمین(ڈاکٹر+نرسنگ سٹاف+ دیگر عملہ) کا سابقہ سروس سٹرکچر ختم ہو جائے گا اور ان کو نیم خود مختار بورڈ کے تحت نئی ملازمت شروع کرنا ہو گی، جبکہ مفت علاج کی سہولت ختم ہونے سے نچلے اور نچلے درمیانہ طبقہ کے بوجھ میں بہت اضافہ ہو گا، اول تو صحت کارڈ ابھی تک سب گھرانوں تک پہنچا  نہیں اور جن کو ملا ہے، وہ بھی مخصوص امراض کا علاج ہی کرا سکتے ہیں اور ان کے لئے یہ سالانہ رقم بھی ناکافی ہے۔حکومت کو اس مسئلے پر پھر سے غور کر کے درست فیصلہ کرنا چاہئے۔ قیام پاکستان سے بھی پہلے سے مفت علاج کی جو سہولتیں سرکاری ہسپتال فراہم کرتے چلے آ رہے ہیں، انہیں آناً فاناً ختم کرنے پر احتجاج تو ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -