جرائم میں اضافہ؟

جرائم میں اضافہ؟
جرائم میں اضافہ؟

  

ہمارے محلے والی پرچون کی دکان پر ڈاکہ پڑ گیا اور ڈاکو ”گن پوائنٹ“ پر سارا کیش لے کر فرار ہو گئے، اس کے ساتھ ہی یہ بھی اطلاع کہ ایسا دوسری بار ہوا ہے، اسی دکان کو پہلے بھی لوٹا گیا تھا، بعدازاں جو حالات معلوم ہوئے وہ کچھ یوں تھے کہ دو نوجوان دکان میں داخل ہوئے اور پستول تان کر خبردار کر دیا ایک کاؤنٹر کے پیچھے بھی چلا گیا اور جو بھی کیش تھا وہ نکال کرقبضہ میں کر لیا، پھر یہ بڑے اطمینان سے فرار بھی ہو گئے، یہ مقام کافی بارونق ہے اور وقت بھی مغرب اور عشا کے درمیان والا تھا، اندھیرا بھی نہیں روشنی خاصی تھی۔

اس کے سامنے اور آگے بھی دکانیں ہیں،راستہ بھی خاصا مصروف ہے،اس لئے لوگوں کی آمد و رفت بھی رہتی ہے،لیکن یہ واردات آناً فاناً ہو گئی۔ ملزم نقدی لے کر فرار ہو گئے، بعد میں شور ہوا، اور لوگ جمع بھی ہو گئے لیکن کوئی فائدہ نہیں تھاکہ ملزم تو واردات کرکے چلتے بنے، پولیس کو اطلاع دینا لازم ٹھہرا اور تھانہ قریب ہونے کے باوجود آمد میں تاخیر ہوئی اور پھر وہی روائتی کارروائی، ایک تو رقم گئی، دوسرے دہشت طاری تھی اور تیسرے پولیس کے سوالات۔ بہرحال جو کارروائی کرنا تھی کی اور حضرات تسلی دے کر چلے گئے، بعدازاں لوگ مایوسی کا اظہار کرتے رہے کہ اگر پہلے ڈاکے کے بعد ہی ملزم گرفتار ہو جاتے تو شاید یہ نوبت ہی نہ آتی، لیکن اس پر غور کون کرے اور زیر التوا تفتیشوں کے حوالے سے پوچھنے کا حق عام شہریوں کو نہیں  پولیس کے اعلیٰ حکام کو ہے۔

یہ محلے کی دکان ہے اور اس پر اللہ کا کرم یوں ہے کہ بچوں اور خواتین کا رجحان بھی ہے کہ گھر کے قریب سودا مل جاتا اور معیار بھی ٹھیک ہوتا ہے۔ اس لئے یہاں رونق بھی ہوتی،اس کے باوجود نوجوان ڈاکو کسی خوف کے بغیر آئے اور واردات کر کے چلتے بنے، اس ڈاکے کا ذکر یوں کیا کہ مصطفےٰ ٹاؤن کی یہ آبادی جدید تھی جواب مختلف محکموں کی ”مہربانی“ سے شمالی لاہور کے کسی تنگ محلے کا عکس نظر آنے لگی ہے، یہاں صفائی نہیں ہوتی تو سڑکیں بھی ٹوٹی پھوٹی ہیں، مرکزی گرین بیلٹ بہت چوڑی اور اچھی ہے، جہاں شجر کاری بھی ہوتی ہے لیکن بیکار، اس لئے کہ بھینسیں یہاں خوش خوراکی کا مظاہرہ کرنے میں آزاد ہیں، دو تین گوالے اسی سبزے سے ان کے پیٹ بھرتے ہیں، بھیڑوں والے الگ ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ آئے روز چور اور ڈاکو بھی اپنی واردات کر جاتے ہیں، وقفے وقفے سے کئی گھرانے بھی لٹ چکے، متعدد خواتین کے ساتھ راہزنی کی وارداتیں ہوئیں، آج تک کسی ملزم کی گرفتاری اور برآمدگی کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوا، مصطفےٰ ٹاؤن وحدت روڈ کا تھانہ ”ماڈل تھانہ“ قراردیا گیا یہ نئی عمارت میں ہے اور اس تھانے سے ڈولفن اہل کاروں کے علاوہ پٹرولنگ پولیس پیرو کی بھی ڈیوٹی ہے۔ لیکن نہ تو ڈاکے رکے اور نہ ہی کبھی کوئی ملزم گرفتار ہوئے، ایسی وارداتیں خوف کا باعث تو بنتی ہی ہیں۔ 

یہ تو ہماری رہائش کے قریب تر کی واردات ہے اور یہ پرچون والے دوسری مرتبہ لٹ گئے اور ان کی جمع پونجی میں کمی واقع ہو گئی، لیکن ایسا تو پورے شہر میں ہو رہا ہے۔ اخبارات میں سب وارداتیں رپورٹ نہیں ہوتیں، ان میں اکثر تو ایف آئی آر کے بغیر درخواست تک رکھ لی جاتی ہیں، اور جو رپورٹ ہوں وہ بھی لٹ جانے والوں کے توسط سے میڈیا تک پہنچتی ہیں، اس لئے حتمی طور پر یہ تو نہیں کہاجا سکتا کہ کتنی وارداتیں ہوئیں، لیکن جو بھی ہو رہا ہے، وہ تشویشناک ہے کہ دہشت گردی کا خدشہ کم ہونے کے بعد سے بازاروں کی رونقیں بھی بڑھ گئی ہیں، لاہوریوں نے روایت کے مطابق کرونا کو بھی ہوا میں اڑا دیا ہے۔ بہت کم لوگ حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے ہیں، آج کے گھٹن والے اس ماحول میں ہر ایک کا جی چاہتا ہے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر کچھ تفریح کر لے،

لیکن ہمارے زندہ دل کورونا سے زیادہ ڈاکوؤں اور لٹیروں سے خائف ہیں، ہم نے یہ بھی منظر دیکھا کہ ہم جیسے بوڑھے لوگ سڑک پر ”لفٹ“ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں، لیکن گاڑیوں والے نظر انداز کرتے چلے جاتے ہیں اور کوئی گاڑی نہیں روکتا کہ ”بابا“ کہیں کسی لٹیرے کا چارہ ہی ثابت نہ ہو۔

لاہور صوبائی دارالحکومت ہے، یہاں وزیراعلیٰ،گورنر، چیف سیکرٹری اور آئی جی بھی ہوتے ہیں، اور پھر صوبے کے عوامی نمائندگان کی اسمبلی بھی تو یہیں ہے،ایسے میں یہاں جرائم بڑھ رہے، تو سوچنا پڑتا ہے کہ حاکم سے کہاں بھول ہوئی کہ یہاں غریبوں کی کمائی بھی لٹ جاتی ہے، جی! ہاں بعض لٹیرے تو صرف موبائل پر ہی گزارہ کرکے جان چھوڑ جاتے ہیں۔

پولیس اور حکومت کے اعلیٰ ترین حضرات کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ لاہور جو صوبائی دارالحکومت ہے، اگر اس شہر میں مختلف محکموں کی کارکردگی ایسی ہے تو دوسرے شہروں کا حال کیا ہوگا، وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار بھی وزیراعظم عمران خان کی طرح متحرک نظر آتے ہیں، روزانہ مختلف اجلاسوں کی صدارت کرکے سخت انتباہ بھی کرتے ہیں کہ غفلت برداشت نہیں ہوگی، لیکن پھر بھی یہ ہوتا چلا جا رہا ہے، ایسے میں لوگ ”کری ماں نوں، ماسی کہن“ (لوگ کس کی والدہ کو خالہ کہیں)، مطلب یہ کہ کہاں جا کر فریاد کریں سننے والے تو سب یہاں ہیں اور وہ نوٹس بھی لیتے ہیں، لیکن یہ سب میڈیا تک کیوں؟ عملی طور پر تو جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور جرائم کا سراغ بہت کم ملتا ہے، تاوقتیکہ ”بٹیرا“ ہاتھ نہ آ جائے۔ ہماری تو وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری اور آئی جی سے استدعا ہے کہ وہ اپنی توجہ بیانات سے ہٹا کر محکموں کی کارکردگی کی نگرانی اور پڑتال پر دیں۔

مزید :

رائے -کالم -