شیخ عابد حسین المعروف سیٹھ عابد بھی گزر گئے

شیخ عابد حسین المعروف سیٹھ عابد بھی گزر گئے
شیخ عابد حسین المعروف سیٹھ عابد بھی گزر گئے

  

سیٹھ عابد گزر گئے وہ ایک اساطیری شخصیت کے مالک تھے ان کے بارے میں بہت کم مربوط اور مستند معلومات موجود ہیں، بہت کم بلکہ شاید ہی کچھ لوگوں نے اُنہیں دیکھا ہو،لیکن سیٹھ کے حوالے سے سیٹھ عابد کے نام سے اکثر لوگ واقف ہیں۔گزشتہ دِنوں ان کے انتقال کی خبر پڑھی تو احساس ہوا کہ ان کے بارے میں واقعتا درست معلومات موجود نہیں ہیں، اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں رپورٹ کردہ خبر میں کچھ نے انہیں صنعتکار، کسی نے رئیل اسٹیٹ ٹائیکون، کسی نے سونے کا سمگلر، کسی نے کرنسی ڈیلر لکھا،جزوی طور پر یہ سب کچھ درست ہے لیکن بہت کم لوگوں کو سیٹھ عابد کی قومی خدمات،بلکہ کارناموں کے بارے میں پتہ ہو گا۔ مرحوم کے ساتھ میرا قریبی تعلق رہا ہے، انہیں قریب سے دیکھنے کے مواقع ملے۔میڈیا مینجمنٹ اور تعلقات عامہ کے کیریئر کے ابتدائی دور میں جب لاہور سٹاک ایکسچینج کے شعبہ تعلقات عامہ اور پبلی کیشن کی بنیادیں قائم کیں تو اِس دوران وہاں کام کرنے کے دوران بہت کچھ جاننے، سیکھنے اور سمجھنے کے مواقع ملے۔

یہاں رہ کر پاکستان کی سرمایہ کی منڈی کی ساخت اور ورکنگ بارے سیکھنے کے مواقع ملے۔ سرمائے کی منڈی کے بڑوں سے ملنے کا اتفاق بھی ہوا۔ مَیں نے جب سٹاک ایکسچینج جائن کیا تو دو جواں سال پڑھے لکھے نوجوانوں کی جوڑی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ایک حبیب اللہ شیخ تھے آپ رستم و سہراب فیکٹری کے مالک اور سرجیکل آلات کے تاجر بھی تھے اور سٹاک بروکریج بھی کرتے تھے، ان کے ساتھ ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور لمز سے ایم بی اے کوالیفائیڈ ڈاکٹر یاسر محمود تھے، ڈاکٹر یاسر محمود لاہور سٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر اور نائب صدر تھے۔خواجہ حامد سعید جیسے بزرگ بورڈ کے صدر تھے، خواجہ صاحب بھی بہت بڑی شخصیت تھے اپنے کردار، افکار اور طرزِ زندگی میں کمال شخصیت تھے۔ایکسچینج کے ممبران کو جوڑکر رکھنے اور کسی بھی ایک رائے پر متفق کرنے میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ اس طرح خواجہ حامد سعید اور ڈاکٹر یاسر کی توانا جوڑی سٹاک ایکسچینج کو لے کر آگے بڑھانے میں خاصی مدد گار ثابت ہوئی۔سیٹھ عابد ڈاکٹر یاسر محمود کے ماموں تھے اس لئے ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہمیں ان کے ماموں تک بھی رسائی ہو جاتی تھی، اس طرح ہمیں پاکستان کے اس اساطیری کردار کو قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کے مواقع ملے۔

آپ کا تعلق پنجاب کے ضلع قصور سے تھا، اردو، پنجابی اور میمنی بولتے تھے، ان کے والد کراچی میں واقع تامل گلی میں سونے کا کاروبار کرتے تھے، مذہبی شدت پسند سمجھے جاتے تھے ہر وقت قینچی ساتھ رکھتے جو شخص داڑھی کے ساتھ لمبی مونچھوں والا ملتا اس کی مونچھیں سنت کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے تھے، اللہ نے اُنہیں چھ بیٹے عطا کئے تھے، سب امیر ترین بنے،لیکن جو شہرت عابد حسین کو ملی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔عابد شروع ہی سے ذہین فطین، کمپیوٹر دماغ کا حامل اور بہت جلد معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی خداداد صلاحیت سے مالا مالا تھا۔ پچاس کی دہائی کے سمگلر قاسم بھٹی کے ساتھ مل کر سونے کی سمگلنگ کے بزنس میں آئے۔ پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ لاکھوں، کروڑوں سے ہوتے ہوئے اربوں روپے کی دولت کمائی۔

جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکمرانی میں سیٹھ عابد ان کے قریب ہوئے۔ ابتداًء سیٹھ عابد کی گونگے بہرے بچوں کے حوالے سے ”فراخ دلی“ قربت کا باعث بنی۔ جنرل ضیاء الحق کی بیٹی زین کیونکہ ”خصوصی بچہ“ تھی اور سیٹھ عابد کی اولاد، سوائے ایک بیٹے ایاز محمود کے، بھی ”خصوصی بچے“تھے۔ سیٹھ عابد کراچی کی دیوا اکیڈمی کے ڈونرز میں شامل تھے جو ایسے بچوں کی نگہداشت کا کام کرتی تھی، یہاں ایک تقریب میں جنرل ضیاء الحق کے ساتھ سیٹھ عابد کی بالمثافہ ملاقات ہوئی اور ضیاء الحق نے سیٹھ عابد میں چھپا ہوا ”بڑا آدمی“ باہر نکالنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد ذوالفقار  علی بھٹو نے رکھی،ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان لانے اور کام پر لگانے کا سہرا بھی بھٹو کے سر جاتا ہے،لیکن ایٹمی پروگرام کو اول تا آخر،یعنی ایٹم بم پیدا کرنے کے پروگرام کو منزلِ مقصود تک پہنچانے کا کام جنرل ضیاء الحق نے ایک دینی فریضے کے طور پر سرانجام دیا۔پاکستان، عالم ِ اسلام کی پہلی ایٹمی ریاست جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہی بنا،لیکن نواز شریف نے باقاعدہ اعلان کرنے کی سعادت حاصل کی۔ضیاء الحق نے جس طرح سیٹھ عابد کی سمگلنگ کی خداداد صلاحیت کو پاکستان کے ایٹمی پلانٹ کو دُنیا کے کونے کھدروں سے سمگلنگ کرنے کے لئے استعمال کیا وہ انہی کا خاصا تھا،لیکن یہ کمال اور اعزاز اللہ نے سیٹھ عابد کو ہی عطا کیا کہ اس نے عالم ِ اسلام کی ایک ریاست کو اولین ایٹمی مملکت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 

پاکستان میں فارم ہاؤس کی ابتداء کرنے والوں میں آپ اولین شمار کئے جاتے ہیں۔ گرین فورٹ ہاؤسنگ سکیم کے ذریعے بیرون ممالک پاکستانیوں کو رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ کی طرف راغب کیا، لوگوں نے ان سکیموں میں کھل کر سرمایہ کاری کی۔پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتے ہوئے انہوں نے حکومت ِ پاکستان کو پیش کش کی کہ اگر انہیں پاکستانی سرحدات استعمال کرنے کی اجازت دے تو وہ پاکستان کا تمام قرضہ ادا کرنے کی ذمہ داری لینے کو تیار ہیں،لیکن وزیراعظم نوازشریف نے اسے قبول نہیں کیا۔دو تین دہائیوں سے وہ کارِ خیر میں لگ چکے تھے۔ حمزہ فاؤنڈیشن کے پرچم تلے ڈسپنسریوں، ہسپتالوں کے قیام سے لے کر اجتماعی شادیوں کی سرپرستی تک تمام کار ہائے خیر کی انجام دہی میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے، اپنے اکلوتے نارمل بیٹے ایاز محمود کے قاتل کو بھی معاف کر دیا تھا یہ بیٹا حافظ قرآن بھی تھا اور خالق دینا حال کراچی میں ایک عرصہ تک نمازِ تراویح پڑھاتا رہا تھا۔ ذاتی گارڈ نے لاہور میں گولی مار کر قتل کیا۔ سیٹھ عابد نے اُسے معاف کر دیا۔آخری ایام میں وہ اللہ لوگ ہو گئے تھے نیکی کے کاموں میں جُٹے ہوئے تھے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی تو سیٹھ عابد کا نامِ نامی ضرور درج ہو گا۔ اللہ ان کی منزلیں آسان کرے، آمین

مزید :

رائے -کالم -