ہائیکورٹ کے توہین عدالت کی درخواستوں پر متعلقہ افسران کو نوٹسز جاری 

ہائیکورٹ کے توہین عدالت کی درخواستوں پر متعلقہ افسران کو نوٹسز جاری 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد وحیدنے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کیخلاف دائرتوہین عدالت کی درخواست پرچیئرمین کیپٹن (ر)زاہد سعید کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے، درخواست گزاراسسٹنٹ کمشنر انکم ٹیکس احمد نوید فضل کی طرف سے موقف اختیارکیا گیاہے کہ انہوں نے فیڈرل پبلک سروس کے تحت مقابلہ کے امتحانات میں شرکت کی،اس کو نقل چوری کے الزام میں  ملوث کر دیا گیا اور ان کے نتائج شائع کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی،عدالت کے 24 نومبر 2020 ء کے حکم کی تعمیل نہیں کی جا رہی جو توہین عدالت ہے،عدالت سے استدعاہے کہ چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے‘دوسری توہین عدالت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیکنکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی(ٹیوٹا)کے خلاف دائرتوہین عدالت کی درخواست پر سی ای او اختر عباس بھروانہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے،مسٹر جسٹس شاہد وحید نے محمد سجاد کی درخواست پر سماعت کی۔توہین عدالت کی درخواست پر چیف کنزریوٹیو افسر فاریسٹ لاہور اعجاز حسین شیرازی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے،مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے ٹھیکیدار محمد جاوید کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار کا موقف ہے کہ اس نے بیلا جنگل میں پیٹر انجن،روٹر انجب اور واٹرنگ سپلائی کا ٹھیکہ لیا،عدالت کے حکم کے باوجود ایک کروڑ 32 لاکھ کی ادائیگی نہیں کی جا رہی،عدالت کے 23نومبر 2020 ء کے حکم پر بھی عمل نہیں کیاجارہا تیسری توہین عدالت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد وحیدنے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے ایم ڈی کے خلاف دائرتوہین عدالت کی درخواست پر ایم ڈی فاروق منظور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے،درخواست گزار کی طرف سے موقف اختیارکیا گیاہے کہ عدالت نے 2018 ء اور 2019  ء کے تاریخ کی کتب میں غلطیوں کی نشاندہی کے لئے اس کی درخواست دادرسی کے لئے ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو بھجوا ئی،عدالت کے 16 نومبر 2020 ء کے حکم پرعمل درآمد نہیں کیا گیا دوسری جانب توہین عدالت کی درخواست پر چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے،مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے محمد یوسف،اختر اور دیگر ہیڈ ماسٹروں کی درخواستوں پر سماعت کی،درخواست گزاروں کی طرف سے موقف اختیارکیا گیاہے کہ انہیں سینر ترین ہونے کے باوجود گریڈ 18 میں ترقی نہیں دی جا رہی۔ ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پر ڈی سی شیخوپورہ اصغر جوئیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ 

توہین عدالت درخواستیں 

مزید :

صفحہ آخر -