اینگرو ایلنجی ٹرمینل نے  20ملین ٹن منتقلی کا ریکارڈ قائم کردیا

        اینگرو ایلنجی ٹرمینل نے  20ملین ٹن منتقلی کا ریکارڈ قائم کردیا

  

کراچی (پ ر)اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کی بعداینگرو ایلنجی ٹرمینل(ای ای ٹی ایل) اور اس کے شراکت دار ایکسیلیریٹ نے زیادہ تکنیکی اورجدید ایف ایس آر یو سیکوئیا(Sequoia)حاصل کرلیا ہے جو تما م انضباطی اور ایس ایس جی سی کی منظوری کے بعد 2021میں پورٹ قاسم پہنچنے کیلئے تیار ہے۔نیا  ایف ایس آر یو سیکوئیا(Sequoia)آنے کے بعد ٹرمینل کی گنجائش 150ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد جبکہ  ذخیرہ کرنے کی گنجائش 25000کیوبک میٹر سے زائد ہوجائے گی جس سے ملک میں گیس کی فراہمی میں پیدا ہونے والی قلت کو دور کرنے میں خاظر خواہ مدد ملے گی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان سرکاری ایل این جی سپلائی چین کے اخراجات میں روزانہ کی بنیاد پر 45000امریکی ڈالر سے زائد کی ممکنہ بچت کرسکتا ہے۔ اس سیکٹر میں نجی شعبہ تھرڈ پارٹی ایکسز فریم ورک (ٹی پی اے)کے تحت سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے۔اگر اس شعبے کو ٹی پی اے کے تحت کھول دیا جاتا ہے تو یہ اونشور ایل این جی اثاثہ پاکستانی گیس مارکیٹ کے ارتقاء کی طرف اہم قدم ہوگا۔اسی سلسلے میں اینگرو اور رائل ووپاک پہلے ہی ایک مشترکہ منصوبے کا اعلان کرچکے ہیں جس کو اگلے 12سے 14مہینوں میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔ پی ٹی آئی حکومت کی سرمایہ کاری دوست پالیسیوں سے اینگرو اور اس کے مشترکہ منصوبے کے شراکت دار رائل ووپاک کے ذریعے اینگرو ایلنجی ٹرمینل اور اینگرو وپاک ٹرمینل میں 600ملین ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔نیدر لینڈ کی کمپنی رائل ووپاک اور اینگرو کارپوریشن کے مشترکہ منصوبے اینگرو ایلنجی لمیٹڈ(ای ای ٹی ایل) کے تحت قائم کئے جانے والے پاکستان کے پہلے ایل این جی ٹرمینل نے ملک میں توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اپنے پانچ سالہ قابلِ بھروسہ آپریشن کے دوران ایل ین جی کی صنعت کیلئے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ مارچ 2015میں اپنے آپریشنز کے آغاز کے بعد سے ای ای ٹی ایل نے ایل این جی سے لدے ہوئے 322کارگو ہینڈل کرکے 20ملین ٹن ایل این جی کی منتقلی کو یقینی بنایا ہے جو کسی بھی فلوٹنگ ٹرمینل کے ذریعے ہینڈل کیا جانے والا ایل این جی کا سب سے زیادہ حجم ہے۔ ٹرمینل نے قدرتی گیس کی 1000بلین مکعب فٹ (بی سی ایف)کی ترسیل کرکے ایک اور سنگِ میل بھی حاصل کرلیا ہے جو تقریباً175ملین میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے درکار توانائی کے برابر ہے۔ واضح رہے کہ ای ای ٹی ایل فلوٹنگ اسٹوریج اور ری گیسیفیکیشن یونٹ(ایف ایس آر یو)ایکسکیوسٹ استعمال کرتا ہے جو ایکسیلیریٹ انرجی اور نکیلاٹ کی مشترکہ ملکیت ہے۔ 

مزید :

صفحہ آخر -