73ء کے آئین میں اے این پی کی جدوجہداظہر من الشمس ہے، ثمرہارون بلور 

  73ء کے آئین میں اے این پی کی جدوجہداظہر من الشمس ہے، ثمرہارون بلور 

  

پشاور (سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کی  صوبائی ترجمان اور رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے کہا  ہے عوامی نیشنل پارٹی نے 100 سال مکمل کر لیے ہیں، باچا خان کے فلسفے پر ہماراکام جاری رہیگا، باچا خان بابا نے پختونوں کے لیے ہر قسم کی مشکلات برداشت کیں جبکہ باچاخان کے بیٹے غنی خان نے اپنی شاعری سے قوم کو بیدار رکھا،باچاخان بابا نے زندگی کے 37 سال جیل میں گزارے لیکن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے، آج ہر ایک پاکستانی اے این پی کے قائدین کے فلسفے کو مانتا ہے ان خیالات کا اظہار اے این پی کی صوبائی ترجمان ثمر ہارون بلور نے  صوبائی انفارمیشن کمیٹی کے اراکین تیمور باز خان (صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری)، حامد طوفان، میاں بابر شاہ اور ڈاکٹر زاہد خان کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا صوبائی ترجمان ثمر ہارون بلور نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نظریاتی پارٹی ہے،ووٹ کو عزت دو کا نعرہ پہلے اے این پی نے اس دور میں لگایا تھا، آج ہمارے پنجاب کے بہن بھائی بھی یہی نعرہ لگاتے ہیں عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان ثمر ہارون بلور نے کہا کہ  73کا آئین دینے میں اے این پی کے مشران کی جدوجہد سے کوئی انکار نہیں کر سکتا جبکہ ولی خان بابا نے ہر چھوٹی بڑی قومیت کو ایک ٹیبل پر اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، ولی خان کی سیاسی سوچ کو آج پورا پاکستان مانتا ہے صوبائی ترجمان ثمر ہارون بلور نے کہاکہ ولی خان نے افغانستان میں جنگ کو فساد کہا تھا، اور اس میں خوفناک خونریزی کی پیشنگوئی کی تھی تاہم آج ہر کوئی افغان جنگ کو اسی نظر سے دیکھ رہا ہے، کاش اس وقت ولی خان کی بات مان لی ہوتی تو آج یہ دن نہ ہوتاعوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان نے مزید کہا کہ یہ ہم ہی تھے جو 18 ترمیم لے کر آئے اور اس سے تاریخی اقدامات ہوئے  اور دنیا کے نقشے پر پختونخوا کا نام لانے والی پارٹی اے این پی ہے،: اے این پی کے لیڈرز نے بہت بھاری قیمت ادا کی اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی لیکن پیچھے نہیں ہٹے میرے سسر سمیت کئی ایک نے جان کی قربانی دی لیکن اصولی موقف سے نہیں ہٹے  جبکہ ہم نے دہشتگردی کا مقابلہ کیا، 10 یونیورسٹی بنائیں، ہسپتال بنائے اور لوگوں کو صحت و تعلیم مہیا کیاے این پی کی صوبائی ترجمان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں تاریخی ترقیاتی کام ہوئے اور واضح کیا کہ اے این پی نے اپنے نوجوانوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -