این آئی سی وی ڈی نے حلیم عادل کے الزامات مسترد کر دیئے 

این آئی سی وی ڈی نے حلیم عادل کے الزامات مسترد کر دیئے 

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) نے پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ کی جانب سے ادارے پر لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ترجمان این آئی سی وی ڈی حلیم عادل شیخ کی پریس کانفرنس پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کے مریضوں کی بلا تقریق خدمت کرنے والے ادارے، این آئی سی وی ڈی پر لگائے گئے تمام تر بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔حلیم عاد ل شیخ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے  ایسے ادارے پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں جو پورے ملک سے آنے والے لاکھوں  مریضوں کو امراضِ قلب کا مہنگا اور جدید علاج بالکل مفت فراہم کرنے میں دن رات مصروفِ عمل رہتا ہے۔ حلیم عادل شیخ آڈیٹر جنرل کی جس رپورٹ کو بنیاد بنا کر این آئی سی وی ڈی پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں، شاید ان کو کسی نے بتایا نہیں کے وہ آبزرویشنز ہیں نہ کے ادارے پر الزام ثابت ہوچکے ہیں او ر آڈیٹر جنرل ایسی آبزرویشنز پر مشتمل رپورٹس مختلف سرکاری اداروں کی جاری کرتا رہتا ہے اور این آئی سی وی ڈی ایک آٹونومس ادارہ ہے جس کے فیصلے گورننگ باڈی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات آپ اور پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ کہ این آئی سی وی ڈی میں پہلے بغیر پیسوں کے علاج نہیں ہوتا تھا مگر 2017 سے این آئی سی وی ڈی میں بچوں اور بڑوں جو کہ دل کے مریض ہوتے ہیں ان کا بالکل مفت علاج ہوتا ہے او راب ہسپتال میں 24گھنٹے امراضِ قلب کی جدیدسہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔وفاق سے صوبہ میں منتقل ہونے کے بعد حکومتِ سندھ نے این آئی سی وی ڈی پر بھرپور توجہ دی، کیونکہ یہ دل کا ہسپتال ہے یہاں پر انسان کی جان بچانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ترجمان این آئی سی وی ڈی نے کہا کہ حلیم عاد ل شیخ ہم آپ کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ2016  تک این آئی سی وی ڈی صرف ایک ہسپتال تھا اور اب یہ کارڈیک ہیلتھ کیئر نیٹ ورک بن چکا ہے، جس کے ساتھ 28 سینٹرز کام کر رہے ہیں، جس میں 10ہسپتال اور 18 چیسٹ پین یونٹس شامل ہیں۔حلیم عادل شیخ بخوبی جانتے ہیں کے ان کے حلقے کے لوگ بھی این آئی سی وی ڈی میں علاج کراتے ہیں  اور ادارے کی خدمات سے مطمئن ہیں، ہماری درخواست ہے کہ ان پس پردہ عناصر کے بارے میں سوچیں جومن گھڑت کہانیاں بنا کرلوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔یہ کون سی کرپشن ہے جس میں ادارہ ایک ہسپتال سے 28سینٹرز پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا ہیلتھ کیئر نیٹ ورک بن چکا ہے اور گذشتہ سال23لاکھ مریضوں کو بالکل مفت علاج فراہم کیا گیا، بے حد جلد مزید 5سینٹرز قائم کیے جائینگے۔یہ وہی لوگ الزام تراشیاں کر رہے ہیں جو ملازمت کے دوران مراعات حاصل کرتے ہیں اور اس وقت ان کو کرپشن نظرنہیں آتی اور جب ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے گھوسٹ ملازم  ہونے کی وجہ سے اور کانٹریکٹ رینیو نہیں ہوتا تو الزامات کی بوچھاڑ کر دیتے  ہیں۔انہوں نے کہا کہ شاید نہیں واقعی آپ لا علم ہیں کہ این آئی سی وی ڈی میں 2015 سے پہلے وینٹیلیٹرز، مانیٹرز اور دیگر جدید سہولیات نا ہونے کے برابر تھی اور سارے مریض نجی ہسپتال جانے پر مجبور ہوتے تھے اوران سے لاکھوں روپے وصول کیے جاتے تھے، مگر اب این آئی سی وی ڈی جدید طبی آلات سے آراستہ ہے اور این آئی سی وی ڈی کا شمار دنیا کی جدید ترین ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔ہر سال لاکھوں مریض امراضِ قلب کے اس مہنگے علاج سے مستفید ہوتے ہیں، انجیوپلاسٹی، دل کا بائی پاس اور جان بچانے والی مہنگی ڈوائیسز بھی مریضوں کوبالکل مفت لگائی جاتی ہیں، جس کا صوبہ سندھ سمیت پاکستان کے شہری انکار نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی کے ڈائریکٹر کے اوپر لگائے گئے سارے الزامات بے بنیاد اور سراسر غلط ہیں، یہ وہ ڈائریکٹر ہیں جن کے دور میں این آئی سی وی ڈی نے بے تحاشہ ترقی کی ہے، پروفیسر ندیم قمر ملک کے ایک نامورسینئر کارڈیالوجسٹ ہیں اور ان کو این آئی سی وی ڈی کا ڈائریکٹر لگایا نہیں گیابلکہ پورے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اخبارات میں اشتہارات کے بعد ان کی تقرری ہوئی ہے۔پروفیسر ندیم قمر امریکہ سے واپس آکر 25سالوں سے این آئی سی وی ڈی سے منسلک رہ کر ملک کے غریب مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں، کیا ان کا سیاسی گھرانے سے تعلق کوئی گناہ ہے جو ہر بار ان کو سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے کاطنہ دیا جاتا ہے؟این آئی سی وی ڈی میں کسی کی بھی تنخواہ 60لاکھ نہیں ہے، ایسے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے، جن تنخواہوں کی آپ بات کر رہے ہیں وہ ایک ہسپتال نہیں بلکہ این آئی سی وی ڈی کے 28ہسپتالوں کے ملازمین کی تنخواہیں، جس میں پروفیسرز، ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ شامل ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -