اکادمی ادبیات کراچی کے زیراہتمام مذاکرہ کا انعقاد

اکادمی ادبیات کراچی کے زیراہتمام مذاکرہ کا انعقاد

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام”اڈورنوکی جمالیات“مذاکر اور مشاعرہ“ کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت کینیڈا سے آئے ہوئی  معروف مشاعر ہ گلنار آفرین نے کی مہمان خاص امریکا سے آئی ہوئی معروف شاعرہ شاہین برلاس، پشاور سے آئے ہوئے معروف شاعر عزیز سائر،پروفیسر فرزانہ خان، اور روزنامہ اوصاف کے ایڈیٹر ابرار بختیار تھے۔گلنار آفرین نے صدارتی خطاب میں کہا کہ اڈورنونے 1934ء میں جرمنی کو خیر باد کہا اور جنگ عظیم دوم کے اختتام تک وہ آکسفورڈ، نیویارک اور جنوبی کیلے فورنیامیں مقیم رہا۔ مختلف یونیورسٹیوں میں درس تدریس کاکام کیا۔جنگ عظیم دوم کے اختتام پر وہ امریکہ سے فرینکفرٹ واپس آیا۔ یہاں اس نے فلسفہ ء موسیقی، ادب، ہیگل اور وجودیت پر کتابیں لکھیں۔ سوشیالوجی اور جمالیات پر مضامین تحریرکیے۔ کارل پاپر کے فلسفۂ سائنس کو ہدف تنقید بنایا اور ہائیڈیگر کے فلسفہء وجودیت اور لسانی استناد کا انتقاد بھی تحریرکیا۔ وہ تادم مرگ فرینک فرٹ میں مقیم رہا۔معاشرے میں جنم لینے والی غیر متوقع ہیجانی تبدیلیوں کی وضاحت کرنے سے قاصر رہی ہے۔ اب نیاراستہ اور طریق کا ر تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بیک وقت سرمایہ داریت اور مارکسیت کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے روشن خیالی کی جدلیت کی بھی زبردست مخالفت کی۔ ان کی خواہش تھی کہ کوئی ایسا متبادل راستہ تلاش کیا جائے جو سماجی ترقی کی بے رحم سائنسی جبریت کے بغیر کارگرثابت ہو۔پروفیسر فرزانہ خان نے کہا کہ اڈورنوکے حوالے سے یہ بات خاص طورپر کہی جاسکتی ہے کہ اس کی بیسویں صدی کے سماجی فلسفے کی تشکیل نو اور جمالیات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوششیں مسلمہ حیثیت کی حامل ہیں۔ اس کی جمالیات پر کتابAesthetic Theoryاس کی وفات کے بعد 1969میں منظرعام پر آئی۔یہ کتاب اڈورنوکی جدید آرٹ سے زندگی بھر کی وابستگی اور لگن کا ثمر تھی

مزید :

صفحہ آخر -