پیسکوافسران کی ملی بھگت، ترقیاتی منصوبوں میں ناقص میٹریل کے استعمال کا انکشاف 

پیسکوافسران کی ملی بھگت، ترقیاتی منصوبوں میں ناقص میٹریل کے استعمال کا ...

  

نوشہرہ (نامہ نگار)خیبر پختونخواہ بھر میں پیسکو کنسٹرکشن کے ایکسینز اور پراجیکٹ ڈائریکٹر پیسکو کے دفاتر میں بجلی کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز میں من پسند، منظور نظر اور پیسکو کے افسران و اہلکاران کی مٹھی گرم کرکے بھاری رشوت دینے والے کنٹریکٹرز کو نواز نے اور دفاتر میں کلرکس کی جگہ بلز بنانے اور واپڈا سٹوروں میں ورک چارج کی حثیت سے ڈیلی ویجز کام کرنے اور لاڈلے کنٹریکٹرز کا پیسکو افسران و اہلکاران کی ملی بھگت سے ترقیاتی منصوبوں میں ناقص میٹریل کے استعمال کا انکشاف اس سلسلے میں واپڈا کنٹریکٹر ز ایسو سی ایشن کے مرکزی صدر حاجی لعل زادہ خان نے کہا ہے کہ سال 2018, 2019اور سال 2020میں خیبر پختونخواہ بھر میں  پیسکو کنسٹرکشن کے 5ڈویژنز کے ایکسینز اور پراجیکٹ ڈائریکٹر نے  بجلی کے کل 286ترقیاتی منصوبوں کے ٹیندر کئے ہیں جن میں ایکسین پیسکو کنسٹرکشن مردان ڈویژن نے 51ایکسین پیسکو کنسٹرکشن ڈویژن پشاور نے 48اور سول ورکس میں 7ایکسین پیسکو ڈویژن سوات نے 41ایکسین پیسکو کنسٹرکشن ایبٹ آباد ڈویژن نے 53ایکسین پیسکو کنسٹرکشن ڈویژن نے 44جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر پیسکو نے 42ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈر کئے ہیں اور ان تین سالوں میں تمام منصوبوں کے کنٹریکٹرز 10سے 15افراد پر مشتمل ہوں گے جس کے شواہد موجود ہیں انہوں نے کہا کہ من پسن کنٹریکٹر ز تو یا پیسکو کنسٹرکشن کے دفاتر میں کلریکل عملے کے ساتھ بیٹھ کر اپنے لئے بلز، سیکورٹی بنا کر دوسرے کنٹریکٹرز کے بلز غائب کرتے ہوئے نظر آئیں گے اور یا ورک چارج کی حیثیت سے برائے نام تنخواہ پر ملازم ہوں گے انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز ملک بھر بجلی کا بیک وقت بریک ڈاون کی بھی اصل وجہ بجلی کی ترقیاتی منصوبوں میں ناقص میٹریل کا استعما اور خورد برد ہے انہوں نے وزیر اعظم اور چیف جسٹس سمیت ایف آئی اے اور دیگر تحقیقاتی اداروں سے فوری نوٹس لینے اور قومی خزانے کو نقصان پہچانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کر دیا 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -