براڈ شیٹ نے اشرافیہ کی کرپشن بے نقاب کر دی، مدارس کے طلبہ کو پی ڈی ایم جلسوں میں شرکت سے روکا جائے، امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے: عمران خان 

      براڈ شیٹ نے اشرافیہ کی کرپشن بے نقاب کر دی، مدارس کے طلبہ کو پی ڈی ایم ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) وزیراعظم عمران خان نے وزیر داخلہ شیخ رشید کو اہم ہدف سونپتے ہوئے انھیں ہدایت کی ہے کہ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے جلسوں میں مدارس کے طلبہ کو شرکت سے روکا جائے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر داخلہ نے اہم اجلاس طلب کر لئے ہیں۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی سربراہی میں علمائے کرام کا بھی اہم اجلاس جمعرات کو ہوگا۔وزیر داخلہ شیخ رشید کی قیادت میں کمیٹی اہم فیصلے کرے گی۔ اجلاس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی احتجاجی تحریک کے دوران امن وامان کے قیام پر لائحہ عمل طے ہوگا۔اجلاس میں حکومتی ترجیحات کے حوالے سے علمائے کرام کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ علمائے کرام کے ساتھ باہمی مشاورت کر کے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ دوسری جانب  وزیراعظم عمران خان نے واضح  کیا ہے کہ امن و امان کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کسی کو امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بدھ کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت امن و امان سے متعلق اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیر داخلہ شیخ رشید سمیت دیگر وزرا نے شرکت کی، عمران خان نے ہدایت کی کہ وزرات داخلہ امن و امان کی بہتری یقینی بنائے۔یاد رہے وزیراعظم نے اپوزیشن جماعتوں کے جلسے جلوسوں کے دوران امن و امان کی صورتحال کی نگرانی کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کمیٹی کے کنونیئرہوں گے، وزیرقانون فروغ نسیم، وزیردفاع پرویزخٹک، وزیر تعلیم شفقت محمود اور وزیرمنصوبہ بندی اسدعمر کمیٹی میں شامل ہیں۔کمیٹی کی تشکیل کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا تھا، کمیٹی اسلام آباد میں احتجاجوں کے دوران امن و امان پر نظر رکھے گی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ براڈشیٹ کے انکشافات نے ایک مرتبہ پھر ہماری حکمران اشرافیہ کی بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کو بے نقاب کردیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ پہلے پاناما پیپرز نے ہماری حکمران اشرافیہ کی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کو بے نقاب کیا اور اب براڈشیٹ کے انکشافات نے ایک مرتبہ پھر ہماری حکمران اشرافیہ کی بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کو عیاں کردیا۔انہوں نے لکھا کہ یہ اشرافیہ ان بین الاقوامی انکشافات پر ’انتقامی‘ کارڈ کے پیچھے نہیں چھپ سکتی۔وزیراعظم نے لکھا کہ یہ انکشافات بار بار کیا بیان کر رہے ہیں؟ پہلا یہ کہ جو میں 24 سال سے کرپشن کے خلاف لڑتے ہوئے کہہ رہا ہوں کہ کرپشن پاکستان کی ترقی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے، دوسرا یہ کہ یہ اشرافیہ اقتدار میں آکر ملک کو لوٹتی ہے۔انہوں نے لکھا کہ تیسرا یہ کہ یہ لوگ مقامی سطح پر پروسیکیوشن سے محفوظ رہتے ہوئے بیرون ملک ناجائز فائدے کے لیے منی لانڈرنگ کرتے ہیں، مزید یہ کہ اس کے بعد وہ این آر او حاصل کرنے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہیں۔عمران خان نے لکھا کہ اس طرح ان لوگوں نے لوٹی ہوئی رقم کو محفوظ رکھا ہے جبکہ پاکستان کے عوام شدید خسارے میں ہیں۔انہوں نے کہاکہ اشرافیہ کی جانب سے نہ صرف قوم کی دولت لوٹی جاتی ہے بلکہ اس رقم کی وصولی کے لیے ادا کی جانے والی ٹیکس دہندگان کی رقم بھی این آر اوز کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہے۔این ایچ اے میں ای بڈنگ، ای بلنگ اور جی آئی ایس میپنگ کے اجراء  کی تقریب سے خطاب  کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں جتنی شفافیت ٹینڈر اور بڈنگ میں لائیں گے کرپشن اور رشوت کا رحجان کم ہوتا چلا جائے گا،بدقسمتی سے ملک میں  کرپشن  کی جڑیں اس قدر گہری  ہیں کہ ملک کے نظام میں کرپشن کو تسلیم کرلیا  گیا ہے،پاکستان میں تبدیلی نہ آنے کی بڑی وجہ  جسے اسٹیٹس کو مافیا ہے،ہماری تنزلی تب شروع ہوئی  جب ہم سچائی سے دور ہوئے،سیاسی جماعتوں کے رہنماں نے کرپشن کو سینے سے لگایا۔  وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں کرپشن اور رشوت کی جڑیں اس قدر مضبوط اور گہری ہوچکی ہیں کہ ملک کے نظام میں کرپشن کو تسلیم کرلیا گیا ہے،دنیا بھر میں 20 سال سے پیپر لس نظام فعال ہے جس کی وجہ سے کرپشن اور بدعنوانی کا گراف غیرمعمولی طور پر کم ہوگیا،آٹومیشن طریقے سے شفافیت کا پہلوں نمایاں رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تبدیلی نہ آنے کی بڑی وجہ  مافیا  ہے جسے اسٹیٹس کو  بھی کہہ سکتے ہیں، جو لوگ پرانے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں وہ تبدیلی نہیں آنے دیتے۔وزیر اعظم عمران خان نے  کہا کہ  ہم نے کرپشن اور سفارش کو ختم کرنے  کیلئے پورے ہسپتال کے انتظامی امور کو پیپر لیس کردیا جس کے بعد اب ادھر کوئی کرپشن نہیں ہے،ان کا کہنا تھا کہ ادویات کی خرید و فروخت سے لیکر تمام انتظامی امور ای بڈنگ اور ای بلنگ پر فعال ہے۔انہوں نے سرکاری ادارے کا نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ شوکت خانم ہسپتال میں چند سرکاری لوگوں کا علاج ہوا اس مد میں ملنے والے چیک کو کلیئر کرانے کے لیے اس ادارے میں پیش کیا تو انہوں نے کمیشن بطور رشوت طلب کیا، اس سرکاری ادارے نے فلاحی ادارے سے یہ کہہ کر رشوت طلب کی کہ یہاں ایسا ہی نظام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  ملائیشیا اور انڈونیشا میں مسلمان فوج نہیں گئی تھی کہ وہ لوگ مسلمان ہوئے بلکہ باکردار اور بااخلاق مسلمانوں کے تاجروں کو دیکھ کر ادھر اسلام پھیلا،ماضی میں ایسی مثالیں ملتی ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانی شہریوں کی عزت تھی، پاکستانی صدر کو امریکی صدر ایئر پورٹ پر استقبال کے لیے موجود ہوتا تھا۔عمران خان نے کہا کہ ہماری تنزلی وہاں سے شروع ہوئی جب سچائی سے دور ہوئے اور رشوت عام ہوئی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماں نے کرپشن کو سینے سے لگایا۔وزیر اعظم عمران خان نے براڈ شیٹ اسکینڈل کا حوالہ دے کر کہا کہ برطانوی کمپنی کا عہدیدار اپنے انٹرویو میں واضح کررہا ہے کہ کس طرح وزیراعظم اور دیگر وزرا پیسہ چور کرکے برطانیہ منتقل کررہے تھے،ایک پاکستانی سیاستدان نے سعودی عرب سے برطانیہ ایک ارب ڈالر منتقل کیا،جب ملک کا وزیر اعظم چوری کرے گا تو نچلی سطح تک چوری کا رحجان بڑھے گا اور کرپشن عام ہوگی،مغربی ممالک کے وزیر اعظم اور صدور کے رہن سہن دیکھ لیں اور پاکستان جیسے مقروض ملک کے سابق حکمران کا رہن سہن دیکھ لیں، پاکستان سے جانے والے سابق صدر اور وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جاتے تھے تو انتہائی مہنگے ہوٹلز میں رہتے تھے۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -