نظریاتی صحافت کیساتھ ساتھ برداشت کا مارہ بھی ختم ہو رہا ہے، ا ختلاف رائے کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہئے: مقررین 

    نظریاتی صحافت کیساتھ ساتھ برداشت کا مارہ بھی ختم ہو رہا ہے، ا ختلاف رائے ...

  

 لاہور(لیڈی رپورٹر) آج ہمارے ہاں نظریاتی صحافت کے ساتھ ساتھ تحمل وبرداشت کا مادہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اختلاف رائے کو ذاتی دشمنی میں نہ بدلیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔رؤف طاہر ایک درویش انسان تھے۔ان خیالات کااظہار گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان، لاہور میں ممتاز صحافی‘ تجزیہ نگاراور کالم نویس رؤف طاہر کی وفات پر اظہار تعزیت اور مرحوم کی حیات و خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقدہ تعزیتی ریفرنس کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ اس تعزیتی ریفرنس کا اہتمام نظریہئ پاکستان ٹرسٹ نے مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ چوہدری سرور نے کہا کہ رؤف طاہر کی وفات پر ہر کسی نے یہی کہا کہ وہ ایک درویش انسان تھے، اپنے نظریات پر ڈٹے رہتے تھے لیکن اختلاف رائے کرنیوالے کو کبھی اپنا مخالف نہیں سمجھتے تھے۔ یہ تین خوبیاں ہم میں سے ہر ایک اپنا لے تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے اور ملک ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن ہو جائیگا۔ آج ہمارے ہاں نظریاتی سیاست تو ختم ہوتی جا رہی ہے اس کے ساتھ برداشت کا مادہ بھی ہم سے ختم ہو رہا ہے۔ہمیں اپنے اندر برداشت پیدا کرنا ہوگی۔اختلاف رائے کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہئے۔ رؤف طاہر نے درویشانہ زندگی بسر کی اور اپنے نظریات پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ان کی اولاد ان کے نقش قدم پر چلے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی کمزوریاں اور مسائل چھپانے کے بجائے ان کا اظہار کرکے ان پر قابو پانا ممتاز دانشور اور تجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ رؤف طاہر سے میری رفاقت کئی برسوں پر محیط رہی۔ رؤف طاہر کو اختلاف کاطریقہ اور اسکے اظہار کا سلیقہ آتا تھا۔ وہ عمر بھر اپنے نظریات پرڈٹے رہے اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے تھے۔ انہوں نے سیاسی اختلاف کو کبھی ذاتی اختلاف نہ بنایا۔ آج ہم اختلافات کی آڑ میں اپنے ملک و معاشرے کو تقسیم اور اختلافات کی حدود کو بھولتے جا رہے ہیں۔ آج ہمیں ایکدوسرے کو جوڑنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ رؤف طاہر نے حافظہ بلا کا پایا تھا، گزشتہ پنتالیس سال کی تاریخ ہوش کی آنکھوں سے دیکھ کر زبانی یاد کر  رکھی تھی۔ انہیں پاکستانی سیاست کا انسائیکلوپیڈیا کہا جا سکتا تھا۔ ممتاز سیاسی رہنما جاوید ہاشمی نے کہاکہ میرا رؤف طاہر سے تعلق انچاس برس کا تھا، 1971-72ء سے شروع ہونیوالا تعلق تادم مرگ قائم رہا۔ رؤف طاہر عزم وحوصلے کا پیکر تھے۔ انہوں نے بامقصد زندگی بسر کی۔ وہ جو بھی لکھتے پوری تحقیق کے بعد لکھا کرتے تھے۔ ان کی تقریر میں بلا کا ولولہ تھا۔ان کے پاس معلومات کا خزانہ تھا۔انہوں نے کہا کہ آج ہم جو کچھ ہیں پاکستان کی بدولت ہیں۔ چیئرمین مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ خالد محمودنے کہاکہ رؤف طاہر کا مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے آ جانے کے بعد ٹرسٹ کو ایک نئی پہچان ملی۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ انہوں نے بڑی متحرک زندگی بسر کی۔پرو وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کہا کہ رؤف طاہر کمیٹڈ انسان تھے، وہ اپنے نظریات کسی پر مسلط نہیں کرتے تھے۔ ہر کسی سے دوستانہ تعلقات رکھتے اور اختلاف رائے کو کبھی دشمنی میں نہیں بدلتے تھے۔ ممتاز کالم نگار و تجزیہ نگار عطاء الرحمن نے کہا کہ رؤف طاہر بہت ہی متحرک شخص تھا۔وہ اپنے نظریات پر پختگی سے تادم مرگ قائم رہا۔ اس کے قہقہے بھی فلک شگاف ہوتے۔میاں حبیب اللہ نے کہا کہ رؤف طاہر کا حکمران طبقہ سے بڑا تعلق رہا لیکن انہوں نے کبھی مالی منفعت حاصل نہیں کی۔ وہ با مقصد صحافت کے داعی تھے۔امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد نے کہا کہ رؤف طاہر قلم کی حرمت کے پاسبان تھے۔ان کو صحافت کا درویش کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔مرحوم کے صاحبزادے آصف رؤف نے کہا کہ میرے والد نے ہماری تربیت اس نہج پر کی کہ ہم سچے مسلمان اور پاکستانی بنیں۔ انہیں اسلام اور پاکستان سے عشق تھا، گھریلو زندگی میں وہ ہمارے ساتھ بڑے شفیقانہ انداز میں پیش آتے تھے۔ شاہد رشید نے کہا کہ رؤف طاہر کی اسلام، پاکستان اور نظریہئ پاکستان سے گہری وابستگی رہی اور ان کی صحافت کا مرکز ومحور بھی یہی تینوں باتیں رہیں۔ انہوں نے اپنے نظریات پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ پروگرام کے دوران محسن فارانی اور شہباز انور خان نے رؤف طاہر کو منظوم کراج عقیدت پیش کیا جبکہ ڈاکٹر فیاض رانجھا نے مرحوم کی مغفرت اور بلندی درجات کیلئے دعا کروائی۔

مقررین

مزید :

صفحہ اول -