حکومت ٹیکس سسٹم میں بہتری کیلئے مزید  آسانیاں پیدا کرے‘ خواجہ محمد یونس

حکومت ٹیکس سسٹم میں بہتری کیلئے مزید  آسانیاں پیدا کرے‘ خواجہ محمد یونس

  

  ملتان (نیوز  رپو رٹر) آل پاکستان بیڈشیٹ اینڈ اپ ہو لسٹری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین خواجہ محمد یونس(بقیہ نمبر54صفحہ 7پر)

 نے کہا کہ مالی سال 2020-21  کی پہلی ششماہی میں  2205 ارب روپے کے محاصل اکھٹے کئے گئے جو کہ نہایت خوش آئند ہے۔ انہوں نے یہ بات FBR کی جانب سے جاری اعداد و شمار پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہی  جس کے مطابق موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے لئے محصولات کا حدف    2210ارب روپے رکھا گیا تھا جبکہ وصولی کی شرح 99.7  فیصد رہی۔خواجہ محمد یونس نے کہا کہ گذشتہ سال کی پہلی شماہی  میں FBR نے 2080  ارب روپے کے محصولات  جمع کئے تھے اس طرح موجودہ سال میں یہ بڑھ کر   2204 ہوئے ہیں اور یہ پچھلے سال سے 124ارب روپے زائد ہیں۔ خواجہ محمد یونس نے کہا اگرچہ اس سال 24 لاکھ لوگوں نے ٹیکس ریٹرن  فائل کی ہیں جو کہ گزشتہ سال سے تقریبا 2 لاکھ زیادہ ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ  آبادی کے حامل ملک میں صرف  ایک  فیصد کی جانب سے ٹیکس ریٹر ئنز فائل کی گئی ہیں اور ان 2.4 ملین میں سے بھی ایک ملین کی جانب سےNil ریٹرن فائل کی گئی ہیں۔چیئر مین اپبوما نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ محض 14 لاکھ  لوگ اور جس میں سے زیادہ تر بڑے صنعتی ادارے اور تنخواہ دار طبقہ ہی ٹیکسوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہ اگرچہ FBRمیں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے لیکن اسے مزید تیزی سے فروغ دینا ہوگا تاکہ ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کی شمولیت سے محاصل کی بیس کو بڑھا کر موجودہ ٹیکس گزاروں پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جاسکے۔انہوں حکومت سے گزارش کی عوام کا اعتماد بڑھانے اور ٹیکس کے نظام میں شمولیت کے لیے مزید آسانیاں پیدا کی جائیں اور زیادہ سے زیا دہ ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے تاکہ افرادی مداخلت کو ختم کیا جاسکے۔

خواجہ یونس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -