دربار حضرت شاہ رکن عالم  ؒ: دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار‘ فنڈز ہضم 

  دربار حضرت شاہ رکن عالم  ؒ: دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار‘ فنڈز ہضم 

  

ملتان (سٹی رپو رٹر)یونیسکو کی تاریخی ورثہ کی لسٹ میں شامل، ملتان کے مستریوں کی مہارت کا جیتا جاگتا ثبوت مقبرہ حضرت شاہ رکن عالم  ؒکی تاریخی حیثیت  محکمہ (بقیہ نمبر35صفحہ 6پر)

اوقاف کی غفلت کی وجہ سے معدوم ہونے لگی۔ ملتان کی پہچان اس دیدہ زیب مقبرہ کی 1081 فٹ طویل چار دیواری جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ کئی سالوں سے سالانہ مرمت نہ ہونے کی وجہ سے صحن کا فرش بیٹھنے لگا، شمالی دیوار بھی کئی انچ تک باہر کی جانب جھک گئی۔ تفصیل کے مطابق تین اسلامی ثقافتوں عربی، ایرانی اور ملتانی طرز تعمیر کا شاہکار مقبرہ محکمہ اوقاف کی غفلت کا شکار ہو چکا ہے۔ سالانہ 80 لاکھ روپے سے زائد آمدنی حاصل کرنے کے باوجود کئی سالوں سے مقبرے کی مرمت نہیں کرائی گئی۔ واضح رہے کہ برصغیر کے عظیم روحانی پیشوا شیخ الاسلام حضرت غوث بہاء الدین زکریا ملتانی  ؒ کے پوتے، حضرت صدرالدین عارف باللہ ؒ اور فرغانہ کی شہزادی حضرت بی بی راستی  ؒکے فرزند قطب الاقطاب حضرت شاہ رکن الدین عالم  ؒ کا 7 صدیاں پرانا مقبرہ اپنے دیدہ زیب طرز تعمیر کی وجہ سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی تاریخی ورثہ کی لسٹ میں شامل ہے۔ مقبرے کے طرز تعمیر کی وجہ سے ملتان پوری دنیا میں نمایاں ہے۔ ہفتہ وار کیش اوپننگ سے محکمہ لاکھوں روپے آمدنی بھی حاصل کر رہا ہے اس کے باوجود درگاہ کی سالانہ مرمت نہیں کی جاتی۔ واضح رہے کہ یہ مقبرہ برصغیر کے اونچے ترین مقبروں میں شامل ہے، تین تہوں پر مشتمل مقبرے کا گنبد 170 فٹ بلند ہے جبکہ گنبد میں قیمتی لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے جو دیمک سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ محکمہ اوقاف کی غفلت کی وجہ سے چار دیواری متعدد مقامات انتہائی خستہ ہو چکی ہے۔ کئی انچ تک باہر کی جانب جھک جانے والی شمالی دیوار صرف پشتوں کے سہارے کھڑی ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق اس پرکشش مزار کو سلطان غیاث الدین تغلق نے دیپال پور کی گورنری کے دوران 1320ء سے 1324ء کے درمیان تعمیر کرایا۔ تعمیر کے کچھ عرصے بعد ہی حضرت شاہ رکن عالم  ؒ کی اس مقبرے میں تدفین کی گئی۔مسطیل رقبہ زمین پر تعمیر یہ ہشت پہلو مقبرہ روغنی ٹائلوں سے مزین ہے، مقبرہ پر نقش و نگار، کاشی گری اور گلکاری نمایاں ہے۔ محکمہ اوقاف کی جانب سے 10 اکتوبر 1971ء کو وسیع منصوبے کے تحت مقبرے کی مرمت کرائی گئی تھی مگر اس کے بعد اس مقبرے کی صحیح معنوں میں مرمت کا کام نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اس مقبرہ کی تاریخ محکمہ اوقاف کی نااہلی کے باعث رو بہ زوال ہے۔

فنڈز ہضم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -