پنجاب کانسٹیبلری کیس کی سماعت 2 فروری تک ملتوی

 پنجاب کانسٹیبلری کیس کی سماعت 2 فروری تک ملتوی

  

  ملتان (خصوصی رپو رٹر)احتساب عدالت ملتان نے پنجاب کانسٹیبلری(بقیہ نمبر20صفحہ 6پر)

 کیس میں مبینہ طور پر ایک ارب 91 کروڑ 33 لاکھ روپے کی کرپشن کرکے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے والے ایس ایس پیز، کمانٹنڈس اور اکانٹس آفس کے افسران سمیت 81 ملزمان کے خلاف ریفرنس ٹرائل پر سماعت 2 فروری تک ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ ملزمان کی جانب سے دائر کردہ بریت کی درخواستوں پر بحث کے لئے سماعت 25 جنوری کو ہوگی۔ ریفرنس میں بریت کے لیے ایس ایس پی محمود الحسن، ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر کنور محمد خان اور ایس پی میاں عرفان اللہ نے درخواستیں دائر کررکھی ہیں۔ قبل ازیں فاضل عدالت میں نیب ملتان کے مطابق پنجاب کانسٹیبلری کیس میں مبینہ طور پر ایک ارب 91 کروڑ 33 لاکھ روپے کی کرپشن کرکے قومی خزانے کو ٹیکا لگانے والے ایس پی انویسٹیگیشن و سابق کمانڈنٹس محمد باقر،ایس ایس پی محمود الحسن،ایس پی میاں عرفان اللہ سینئر آڈیٹر مدثر دریشک، ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر کنور محمد خان، اکاونٹس آفیسر بھکر قمر محمد خان مگسی،سابق ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر ملتان باسط مقبول ہاشمی،ڈیرہ غازی خان کے عارضی اکاونٹس آفیسر احمد بخش جسکانی سمیت دیگر شامل ہیں۔ملزمان کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے افسران کے جعلی دستخط کرکے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔ پولیس افسران نے اکانٹ افسروں اور اہلکاروں سے ملی بھگت کی، ملزمان نے جعلی بھرتیاں کرکے تنخواہیں اور جی پی فنڈ نکلوا کر کھا لیا، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مقدمہ درج کیا اور ملزمان سے 63 لاکھ روپے کی ریکوری بھی کی، مقدمہ اینٹی کرپشن سے نیب کو منتقل ہوا نیب کی جانب سے پنجاب کانسٹیبلری کے ذریعے کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام لگا کر ریفرنس تیار کیا گیا،سرکاری اراضی کی جعلی الاٹمنٹ میں بھی مبینہ طور پر خوردبرد کی گئی، اراضی الاٹمنٹ میں خورد برد کرنے میں بہاولپور کے محمد بشیر، نذیر احمد اور محمد شبیر شامل ہیں۔ ملزمان نے مقدمہ سے بری کرنے کی بھی درخواست دائر کررکھی ہے

کانسٹیبلری کیس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -