پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کا اعلان، 5 وفاقی وزرا نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بڑا فیصلہ سنادیا

پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کا اعلان، 5 وفاقی وزرا نے مشترکہ پریس ...
پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کا اعلان، 5 وفاقی وزرا نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بڑا فیصلہ سنادیا
سورس:   Screen Grab

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے الیکشن کمیشن کے باہر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے احتجاج میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اپوزیشن آئین اور قانون کے دائرہ کارمیں رہتےہوئے اپنا نقطہ نظر پیش کرے گی۔ پانچ وفاقی وزرا نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کرے، مولانا فضل الرحمان اسلام پر توجہ دیں، اسلام آباد ان کے نصیب  میں نہیں ہے، اپوزیشن ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتی ہے، ہر جگہ دھرنا اور احتجاج نہیں ہوسکتا، قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جائے۔

پانچ وفاقی وزرا کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے ہمیں امید ہے کہ پی ڈی ایم والے امن و امان کا مسئلہ پیدا نہیں کریں گے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کریں گے۔ ختم نبوت پر ہم سے زیادہ کسی نے جیل کاٹی  ہے تو مولانا فضل الرحمان بتائیں، عمران خان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، غیر ذمہ دارانہ باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ مولانا فضل الرحمان اسلام کی طرف دیکھیں، اسلام آباد ان کے نصیب میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس کیلئے 40 ہزار لوگوں کے ڈاکیومنٹس پیش کیے گئے ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ڈاکیومنٹس پیش نہیں کیے، مدارس کو اسلام کا قلعہ سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مشاورت سے بنا، آپ آج فوج، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے خلاف باتیں کرتے ہیں، ملک میں کوئی ادارہ تو سلامت رہنے دیں۔

اس موقع پر وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن سچی ہے تو انہیں الیکشن کمیٹی میں آنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے آج تک ایک خط نہیں لکھا، یہ ملک میں افراتفری پھیلانے کیلئے یہ سب کرنا چاہتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات  شبلی فراز نے کہا ن لیگ اور پی پی سے درخواست ہے کہ اپنے ثبوت پیش کریں اور فنڈنگ کے جوابات لے کر آئیں، آپ سے جو دستاویزات مانگی گئی ہیں وہ آکر جمع کرائیں۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج بنیادی حق ہے لیکن سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس میں واضح کیا ہے کہ ہر جگہ دھرنا اور احتجاج نہیں ہوسکتا، اگر ہم قانون کو ماننے والے ہیں تو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا ہوگا، احتجاج قانون کے مطابق کریں، قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -