’میں اب بھی مصباح اور وقار کے ہوتے ہوئے نہیں کھیلنا چاہتا‘ محمد عامر نے دوٹوک اعلان کر دیا

’میں اب بھی مصباح اور وقار کے ہوتے ہوئے نہیں کھیلنا چاہتا‘ محمد عامر نے ...
’میں اب بھی مصباح اور وقار کے ہوتے ہوئے نہیں کھیلنا چاہتا‘ محمد عامر نے دوٹوک اعلان کر دیا
سورس:   Twitter

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باﺅلر محمد عامر نے کہا ہے کہ بات اب بہت آگے نکل چکی ہے، میں اب بھی مصباح الحق اور وقار یونس کے ہوتے ہوئے نہیں کھیلنا چاہتا۔ مصباح الحق اور وقار یونس میری کارکردگی پر بات کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی دیکھیں۔ 

تفصیلات کے مطابق محمد عامر نے مصباح الحق اور وقار یونس کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مصباح اور وقار یونس میری کارکردگی پر بات کرتے ہیں، اپنی پارفارمنس دیکھیں، وہ شکستوں کا ملبا کورونا پر ڈال رہے ہیں، باقی دنیا کیلئے بھی کورونا ہے، وقار یونس کو میرے بیانات سے دکھ ہوا تو مجھے اس سے کہیں زیادہ دکھ پہنچا۔ 

انہوں نے کہا کہ مصباح الحق اور وقار یونس مجھے ذہنی طور پر ٹارچر کرتے آئے لیکن اب مزید برداشت نہیں کر سکتا ، میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) یا کرکٹ سے بڑا نہیں ہوں، مگر موجودہ حالات میں نہیں کھیل سکتا، کھلاڑیوں کو جب تک آسان ماحول نہیں دیں گے، اس وقت تک کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی۔ 

واضح رہے کہ محمد عامر نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں موجود ہ مینجمنٹ کے انڈر نہیں کھیل سکتا، مجھے ذہنی طور پر ٹارچر کیا جارہاہے اور ہر بات پر طنز کیا جاتاہے ، میں نے 2010ءسے 2015ءتک بہت ٹارچر برداشت کیا ہے ، کرکٹ سے دور رہا اور جو واقعہ ہوا اس کی سزا بھی کاٹی ، مجھے بار بار یہ کہا جارہاہے کہ پی سی بی نے تم پر بہت سرمایہ کاری کی ہے۔ 

ہیڈ کوچ مصباح الحق نے دورہ نیوزی لینڈ سے وطن واپسی کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد عامر کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ محمد عامر کے ساتھ کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے اور وہ کارکردگی دکھا کر قومی ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں، میں سینئر اور جونیئر تمام کھلاڑیوں کی عزت کرتا ہوں، محمد عامر کا 2016ءمیں کم بیک ہوا تو میں ہی کپتان تھا، تمام باتوں کو پس پشت رکھتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا اور ہر موقع پر سپورٹ کیا،بطور کوچ بھی حوصلہ افزائی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ دورہ انگلینڈ سے قبل ذاتی مسائل تھے تو ان کو تاخیر سے ٹیم جوائن کرنے کی اجازت دی لیکن وہ وہاں انجری کا شکار ہو گئے اور فارم بھی نہیں تھی، زمبابوے کیخلاف سیریز سے قبل انہیں بتا دیا تھا کہ نوجوان فاسٹ باﺅلر حارث رﺅف، محمد حسنین اور محمد موسیٰ کو مواقع دیں گے،اس دوران قومی ٹی 20 ہوا تو عامر پانچ میچز سے باہر رہے، جب کھیلے تو اپنی بہترین فارم میں نہیں تھے بلکہ ان کی نسبت دیگر باﺅلرز نے اچھی کارکردگی دکھائی۔ 

مصباح الحق نے کہا کہ میں نے عامر سے انگلینڈ میں ہی کہا تھا کہ آپ ٹیم کے سینئر اور سٹرائیک باﺅلر ہیں، 82میل کی رفتار سے باﺅلنگ تقاضے پورے نہیں کر سکتے، 4اوورز پوری قوت سے باﺅلنگ کریں، آپ کا شاہین شاہ آفریدی،حارث رﺅف اور دیگر باﺅلرز کیساتھ مقابلہ ہے،ہم کسی کو سینئر ہونے کی بناءپر کارکردگی دکھانے والے پر ترجیح نہیں دے سکتے۔ محمد عامر کو ڈراپ کرنے میں باﺅلنگ کوچ وقار یونس کا بھی کوئی لینا دینا نہیں،ایسوسی ایشنز کے 6کوچز سلیکشن کمیٹی کے رکن تھے، کپتان کی مشاورت بھی ہوتی ہے، ایک متفقہ فیصلہ ہوا اور باقی باتیں فضول ہیں جبکہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ محمد عامر نے میرے اور وقار یونس کے بارے میں ایسی باتیں کیوں کیں۔ 

دوسری جانب وقار یونس نے بھی اس حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ فاسٹ باﺅلر کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں سپورٹ کیا اور ان کے کم بیک کی حمایت میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین نجم سیٹھی سے بھی لڑا، دیگر کرکٹرز سے بات کی کہ عامر کو کیریئردوبارہ شروع کرنے کیلئے دوسرا موقع ملنا چاہیے لیکن اب فاسٹ باؤلر کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات افسوسناک ہیں، اچھا اور برا وقت کسی پر بھی آ سکتا ہے، فارم میں نہ ہوں تو دنیا بھر کے کرکٹرز ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر واپسی کیلئے کوشش کرتے ہیں، ان کیلئے بھی یہی راستہ تھا لیکن انہوں نے جس انداز میں کرکٹ چھوڑی اس کا افسوس ہوا۔ 

مزید :

کھیل -