کیا ایپل، نائیکی اور ہواوے جیسے معروف برانڈز کی فیکٹریوں میں مسلمانوں سے زبردستی مزدوری کروائی جارہی ہے؟ تازہ رپورٹ میں سنگین ترین الزام لگادیا گیا

کیا ایپل، نائیکی اور ہواوے جیسے معروف برانڈز کی فیکٹریوں میں مسلمانوں سے ...
کیا ایپل، نائیکی اور ہواوے جیسے معروف برانڈز کی فیکٹریوں میں مسلمانوں سے زبردستی مزدوری کروائی جارہی ہے؟ تازہ رپورٹ میں سنگین ترین الزام لگادیا گیا

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین میں ویغور مسلمانوں کو ازسرنوتعلیم کے نام پر حراستی مراکز میں قید رکھ کر ظلم و تشدد کرنے کے الزامات تو سامنے آ رہے تھے، اب ان سے فیکٹریوں میں جبری مشقت کروانے کا سنگین الزام بھی سامنے آ گیا ہے اور یہ فیکٹریاں بھی دنیا کے معروف ترین برانڈز کی ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی کنزرویٹو پارٹی ہیومن رائٹس کمیشن نے اپنی تحقیقات میں الزام عائد کیا ہے کہ چین میں ویغور مسلمانوں سے فیکٹریوں میں جبری مشقت بھی کروائی جا رہی ہے۔ ان فیکٹریوں میں ایپل، بی ایم ڈبلیو، نائیکی اور ہواوے کی فیکٹریاں بھی شامل ہیں۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ لاکھوں ویغور مسلمانوں کو بسوں میں بھر کر ملک کے طول وعرض میں فیکٹریوں میں بھیجا جاتا ہے، جہاں ان سے ایسے حالات میں کام لیا جاتا ہے جو جبری مشقت کے زمرے میں آتا ہے۔ویغور مسلمانوں سے جن فیکٹریوں میں جبری مشقت کروائی جا رہی ہے ان سے دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کو سپلائی کی جاتی ہے۔ ان میں برطانیہ کے کئی بڑے برانڈز بھی شامل ہیں۔کمیشن کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ ”ویغور مسلمانوں سے جبری مشقت ریاستی جبر کی ایک بدترین مثال ہے جو قطعی ناقابل قبول ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -