امریکہ سے آٹھ ہزار میل کا سفر طے کر کے آسٹریلیا آنے والے کبوتر کو سیکیورٹی رسک قرار دے دیا گیا ،انتہائی دلچسپ خبر آگئی 

امریکہ سے آٹھ ہزار میل کا سفر طے کر کے آسٹریلیا آنے والے کبوتر کو سیکیورٹی ...
امریکہ سے آٹھ ہزار میل کا سفر طے کر کے آسٹریلیا آنے والے کبوتر کو سیکیورٹی رسک قرار دے دیا گیا ،انتہائی دلچسپ خبر آگئی 
سورس:   twitter/@NickMcCallum7

  

سڈنی (ڈیلی پاکستان آن لائن )آسٹریلین میڈ یا کی توجہ ایک کبوتر نے حاصل کرلی ہے جو امریکہ سے آٹھ ہزار کلو میٹر کا سفر طے کر کے آسٹریلیا پہنچ گیا لیکن وہاں جاتے ہی کبوتر کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

تفصیل کے مطابق امریکی ریاست اوریگون میں ایک ریس کے دوران لاپتہ ہونے والا کبوتر دو مہینے بعد آسٹریلیا کے علاقے میلبورن میں واقع ایک گھر کے عقبی باغیچے سے ملا ہے ۔یہ کبوتر میلبورن کے رہائشی کیون سیلی برڈ کو گھر کے عقبی باغیچے میں ملا ۔کیون سیلی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتا یا کہ انہیں ’جو‘نامی یہ کبوتر26َدسمبر کوملا جو بھوک کی وجہ سے انتہائی کمز ور حالت میں تھا تو انہوں نے کبوتر کو کھانے کے لیے بسکٹ بھی دئیے ۔کیون سیلی نے اس کبوتر کی کھوج لگانے کی کوشش کی تو انہیں انٹر نیٹ پر اس سے متعلق یہ معلومات حاصل ہوئیں کہ یہ کبوتر امریکہ ریاست الباما میں ایک شخص کے نام پر رجسٹرڈ تھا اور یہ پرندہ آخری بار ایک ریس میں دیکھا گیا تھا ۔اس کے بعد کیون سیلی نے آسٹریلوی حکام سے رابطہ کر کے کبوتر سے متعلق اطلاع دی ۔

آسٹریلوی عہدے داروں نے کبوتر کی تلاش شروع کردی ہے۔ان کاکہنا ہے کہ یہ کبوتر آسٹریلیا میں پرندوں اور پولٹری صنعت کے لیے بائیو سیکیورٹی رسک ہے ۔ آسٹریلوی عہدیداروں نے کبوتر کو مارنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے تاہم انہیں ابھی تک یہ کبوتر نہیں ملا۔ادھر کبوتر کی آسٹریلیا میں سب سے پہلے دیکھ بھال کرنے والے شخص کیون سیلی نے کہا ہے کہ اس کبوتر کو پکڑنا بہت مشکل ہے کیونکہ وہ اب تندرست ہو چکا ہے ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -