لودھراں کارہائشی کراچی میں قتل،لاش ورثاکے حوالے 

لودھراں کارہائشی کراچی میں قتل،لاش ورثاکے حوالے 

  

دھنوٹ(نمائندہ خصوصی) عدالت میں  پیشی پر جانے والا  لودھراں کا رہائشی شخص اغواء کے بعد قتل،کراچی تھانہ (بقیہ نمبر5صفحہ6پر)

آرام باغ میں مقدمہ درج کرکے  پوسٹمارٹم کے بعد نعش ورثا  کے حوالے کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق لودھراں تھانہ صدر کے علاقہ کمال پور جتیال کے رہائشی محمد نواز کے بیٹے محمد علی شان نے پسند کی شادی کی جس پر مخالفین نے قانونی کارروائی کے لیے سٹی کورٹ کراچی میں رٹ دائر کررکھی تھی۔ پیشی 2412/2021 کو علی شان کا والد محمد نواز گیا تو اس کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا گیا جس کی درخواست رپٹ تھانہ آرام باغ میں اس کے بڑے بیٹے الطاف کی مدعیت میں درج کی گئی 25/12/2021 کو مقتول محمد نواز جتیال کی نعش پولیس تھانہ آرام باغ کو ملی تو انہوں نے نا معلوم سمجھ کر سرد خانے میں رکھ دی مورخہ 11/1/2022 کو شناخت کے بعد مقتول کے بیٹے محمد الطاف کو کال آئی کہ آپ کے والد کی نعش ملی ہے جس پر پوسٹمارٹم کے بعد پولیس تھانہ آرام باغ نے مقتول محمد نواز کی نعش ورثاء کے حوالے کر دی ورثاء نے مقتول محمد نواز کو  آبائی علاقے کمال پور جتیال لودھراں میں نماز جنازہ کے بعد سپردِ خاک کر دیا دوسری جانب مقتول کے بیٹے محمد الطاف نے بتایا کہ میرے والد کو مخالفین عبدالمناف،دوست محمد وغیرہ نے بھائی کی پسند کی شادی کرنے پر ناحق قتل کیا ہے ہمیں وزیراعلی سندھ،وزیراعظم پاکستان عمران خان،سندھ ہائی کورٹ کراچی اور سپریم کورٹ پاکستان نوٹس لیکر انصاف فراہم کریں ملزمان بااثر ہیں اب میرے بھائی علی شان اور اس کی اہلیہ کو جان سے مارنا چاہتے ہیں۔ 

قتل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -