کیا عمارت گرانے کے فنڈز بھی  نہیں؟ سندھ ہائیکورٹ کا  ایس بی سی پراظہاربرہمی

 کیا عمارت گرانے کے فنڈز بھی  نہیں؟ سندھ ہائیکورٹ کا  ایس بی سی پراظہاربرہمی

  

کراچی(آئی این پی) سندھ ہائی کورٹ نے ایس بی سی اے کو رنچھوڑ لائن کی خطرناک قرار دی گئی عمارت سے متعلق ٹیکنیکل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ سندھ ہائی کورٹ میں رنچھوڑ لائن کی خطرناک قرار دی گئی عمارت گرانے کا معاملہ عمارت کے مالک زین العابدین و دیگر کی درخواست پر زیر سماعت آیا۔ جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے سماعت کے دوران کہا کہ رنچھوڑ لائن پورا تباہ ہوچکا، کیا ایس بی سی اے کے پاس عمارت گرانے  کے لیے بھی فنڈز نہیں ہیں؟ اب اس کام کیلئے بھی کسی این جی او کی مدد لیں گے؟ اس دوران مالکان نے عدالت کو بتایا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے 2009 میں عمارت کو خطرناک قرار دیا تھا اور اب تک وہاں مختلف افراد رہائش پذیر ہیں لیکن ایس بی سی اے کارروائی نہیں کررہی۔  مالکان نے عدالت میں خواہش ظاہر کی کہ وہ چاہتے ہیں کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی خطرناک قرار دی گئی عمارت کو خود گرائے کیوں کہ اگر عمارت کود گرگئی اور جانی نقصان ہوا تو ملبہ ہم پر ڈالا جائے گا لہذا عدالت کی جانب سے ایس بی سی اے کو عمارت کو مسمار کرنے کی ہدایت دی جائے۔ عدالت نے    ایس بی سی اے کو ٹیکنیکل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ آخر -