کورونا کے بڑھتے سائے

کورونا کے بڑھتے سائے

  

کورونا وائرس نے ایک نئے ویرینٹ کے روپ میں پھر سے پنجے گاڑھنا شروع کر دیے ہیں۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تین ہزار سے زیادہ افراد اس موذی مرض کا شکار ہو چکے ہیں اور اس کے پھیلاؤ کی شرح ایک ہی دن کے وقفے سے 6.14 فی صد کی بلند ترین سطح پہ پہنچ چکی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اسے مغرب سے مشرق کی جانب اٹھتی ہوئی لہر قرار دیا ہے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ تقریباً آدھے سے زیادہ یورپ اس مہلک وباء کا شکار ہوا ہے۔ روس میں بھی ایک ہی دن میں ایک لاکھ تک افراد اومی کرون وائرس کا نشانہ بنے ہیں یہاں تک کہ مریضوں کے ٹھٹھ لگ گئے ہیں اور ہسپتالوں میں جگہ کم پڑنے لگی ہے، جبکہ آسٹریلیا میں پہلی بار کورونا وائرس ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پہ پہنچا ہے۔جوبائیڈن کے مشیر صحت کا کہنا ہے کہ جس  سرعت اور تیزی سے کورونا وائرس اومی کرون ویرینٹ کی شکل میں پھیل رہا ہے در حقیقت اتنا مہلک نہیں ہے جتنا کووِڈ19 تھا۔ ویکسینیٹڈ (ویکسین یافتہ) حضرات معمولی سے نزلے کے بعد ہی اس سے رو بہ صحت ہو جاتے ہیں۔اس موذی مرض، جس کی بھینٹ ہزارہا لوگ چڑھ چکے ہیں، کے علاج بارے نت نئی تحقیق سامنے آ رہی ہے۔فائزر نامی فارماسیوٹیکل کمپنی نے مارچ تک اومی کرون سے نبرد آزما ہونے کے لیے نئی ویکسین کا عندیہ دیا ہے۔ جبکہ امریکہ ہی کی ایک یونیورسٹی،یونیورسٹی آف اوریگون نے بھنگ میں اس کا علاج تلاش کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھنگ میں پائے جانے والے دو کمپاؤنڈز کورونا وائرس اور اس کے ہر نوع کے ویرینٹ سے بآسانی نپٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ کورونا وائرس کے علاج میں مختلف تجربات میں مؤثر ثابت بھی ہو چکے ہیں۔ یہ کمپاؤنڈز وائرس سے چپک جانے، اور وائرس کی انسانی پھیپھڑوں کے خلیوں سے چپک جانے کی استعداد سلب کر لینے کی بنا پر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ کورونا وائرس کی وباء  اب تک تھمنے کا نام نہیں لے رہی اور وقفے وقفے سے مختلف صورتوں میں اپنے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے بھی نہیں چوک رہی۔ شعبہ ہائے زندگی کا کوئی بھی ادارہ اس کے درد ناک وار سے بچ اور سنبھل نہیں سکا۔ ملکی معیشت کو سب سے گہرے چرکے اسی موذی وائرس نے ہی لگائے ہیں جس سے مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے،اس وباء  سے اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بندش کا شکار رہ چکی ہیں اور بمشکل زندگی رواں دواں ہوئی ہے۔ طلباء  کے اذہان و افکار پہ چھائے مایوسی کی مہیب بادل ابھی چھٹ ہی رہے ہیں کہ اس نئی وباء نے پھر سے حملے کرنا شروع کر دیے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کابینہ اجلاس کی بریفنگ کے دوران بتایا کہ نئے ویرینٹ اومی کرون کی وجہ سے کورونا کی شرح بڑھ رہی ہے، حکومت (کابینہ) کا متفقہ فیصلہ ہے کہ نہ تو سکول بند کئے جائیں اور نہ ہی بازاروں پر کوئی پابندی لگائی جائے۔ان کا کہنا تھا پاکستان میں اربوں روپے کی مفت ویکسین لگائی جا چکی ہے اس لیے اس مرتبہ لاک ڈاؤن نہیں کریں گے، کہ معاشی صورت حال کے باعث اس کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہدایت دے کر حکومت بری الذمہ نہیں ہو جاتی،جو حکم دیا جائے اس پر عمل کرانا بھی انتظامیہ اور حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔ فرانس میں اساتذہ سڑکوں پہ نکل آئے ہیں کہ اسکولوں کی بندش کوئی دائمی اور حتمی حل نہیں اس کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں بادی النظر میں یہ بات عین درست بھی ہے۔ حکومت ِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بروقت اقدامات کرے، ویکسین کی کھپت بڑھائے، کینیڈا کی طرح ویکسین نہ لگوانے والے حضرات پہ ٹیکس لگائے یا جرمانے کرے کیوں کہ راست اقدامات اور بہترین حکمت ِ عملی ہی سے اس نئے وائرس کو آڑے ہاتھوں لیا جا سکتا ہے۔ لاک ڈاؤن اور تعلیمی اداروں کی بندش وباء  سے نپٹنے کا مؤثر حل ہرگز نہیں ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -