کورونا کی نئی قسم، احتیاط کون کرائے گا؟

 کورونا کی نئی قسم، احتیاط کون کرائے گا؟
 کورونا کی نئی قسم، احتیاط کون کرائے گا؟

  

میں پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتا ہوں اور زیادہ تر فیڈر روٹ والی سپیڈو بس سے آتا جاتا ہوں۔ یہ نہ صرف سستی ترین سواری ہے، بلکہ آرام دہ بھی کہ ائر کنڈیشنڈ ہے اور اس میں اگر سیٹ نہ بھی ملے تو کھڑے ہو کر بھی سفر کیا جا سکتا ہے۔ اس بس کا کرایہ معمولی ہے، اگر مسافر کے پاس کارڈ  ہے تو اسے اپنی پہلی منزل کے لئے پندرہ روپے اور اس کے بعد اگلے روٹ کے ذریعے سفر پر صرف پانچ روپے کٹوانا ہوتے ہیں۔ یوں کارڈ والا مسافر ملتان روڈ چونگی سے قرطبہ چوک تک پندرہ اور وہاں سے اگر چاہے تو آر اے بازار یا ریلوے سٹیشن تک پانچ روپے میں جا سکتا ہے۔جس مسافر کے پاس کارڈ نہ ہو، اس کو ایک منزل کے لئے بیس روپے نقد دینا ہوتے ہیں اور ہر سفر کے لئے اتنے پیسے ہی ادا کرے گا یہ سہولت پنجاب حکومت کی رعائت کی وجہ سے ہے جو سالانہ رقم مہیا کرتی ہے کہ پندرہ اور بیس روپے سے نفع ممکن نہیں، ان بسوں پر سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ بعض روٹ تو ایسے ہیں، جن پر گنجائش سے کہیں زیادہ مسافر ہوتے ہیں۔ حالانکہ بسوں کی تعداد معقول ہے۔

یہ تفصیل اس لئے لکھی کہ اندازہ ہو جائے، ایسی سہولت سے لوگ کس طرح مستفید ہو سکتے ہیں، ورنہ مجھے بات تو آج اس وباء کے حوالے ہی سے کرنا ہے جس نے بقول ماہرین دنیا بھر کی معیشت پر بہت بُرے اثر ڈالے ہیں، کورونا جسے پہلے کووڈ 19کہا گیا۔ بظاہر چین کے ایک شہر سے شروع ہوا اور دنیا بھر میں پھیل گیا جس تیزی سے یہ پھیلا اسی رفتار سے اس کے انسداد کی کوششیں بھی ہوئیں اور مختصر عرصہ میں ویکسین تیار ہوئی اور شہریوں کو لگانا بھی شروع کر دی گئی۔ چین، امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور روس کے ماہرین نے اپنے اپنے طور پر ویکسین بنائی اور یوں تحفظ شروع ہو گیا۔ پاکستان اور بھارت بھی متاثرہ ملکوں میں ہیں۔بھارت ہمارے پیارے پاکستان کی نسبت بہت بُری طرح پھنسا ہوا ہے۔ اگرچہ اس کی ادویات ساز کمپنیوں نے اپنی ویکسین بھی تیار کی اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ شراکت بھی کی۔ پاکستان ویکسین تیار تو نہ کر سکا لیکن چین،امریکہ، برطانیہ اور اقوام متحدہ کے تعاون سے کروڑوں خوراکیں ملیں اور یہاں لگائی بھی گئیں۔ حکومت نے ویکسین کی خریداری بھی کی۔

ابتدائی مراحل بہت مشکل تھے۔ شہریوں کو سمجھانا کار دارد تھا کہ لوگ ہدایات پر عمل سے گریز کرتے اور پھر جب ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوا تو اس سے بھی گریز کیا گیا۔ بہرحال تلقین اور مسلسل تشہیر کے باعث یہ سلسلہ چل نکلا تھا اور اب حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک کی قریباً آدھی آبادی مستفید ہو چکی۔ پاکستان پر شاید قدرت مہربان ہوئی کہ یہاں اثرات بتدریج کم ہوتے ہوتے، نصف فیصد تک آ گئے تھے، چنانچہ حکومت نے لوگوں کو آزادی دینا مناسب جانا اور گزشتہ ماہ سے کاروبار، تعلیمی ادارے اور عام بازار بھی کھل گئے اور اوقات کی پابندی بھی نہ رہی۔ اس سلسلے میں ان ڈور تقریبات کی بھی اجازت دے دی گئی، تاہم یہ مشروط تھی کہ شادی ہال، ہوٹل اور ریستوران والے احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل کریں گے۔ یہ بھی پابندی لگائی گئی کہ ان تقریبات میں ویکسین لگوانے والوں کو شرکت کی اجازت ہو گی اور ماسک لازم ہوگا، اسی طرح یہ ہدائت کی جاتی رہی کہ سفر کرنے اور بازاروں میں خریداری والے افراد بھی ماسک پہنیں گے۔ شاپنگ مالز اور مارکیٹوں کے لئے بھی یہ پابندی لازمی ہے۔

میں یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ یہ سب ہدایات اور پابندیاں کاغذی ثابت ہو رہی ہیں کہ شہریوں نے ان کو ہوا میں اڑا دیا، یہ ہدایت سخت ہے کہ سفر کے لئے نہ صرف ماسک لازم ہے بلکہ ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ بھی ضروری ہے۔ لیکن عملی صورت یہ ہے کہ بسوں، ریل گاڑیوں، پبلک مقامات پر کوئی پابندی نہیں کی جاتی اور نہ ہی کرائی جاتی ہے۔ سپیڈو بسوں اور میٹروبس میں سفر کے لئے بھی یہی پابندی ہے، لیکن میرا مشاہدہ یہ ہے کہ اب نہ تو کنڈکٹر مسافروں کو ماسک پہننے کے لئے کہتے ہیں اور نہ ہی مسافر احتیاط کرتے ہیں، بلکہ ماسک ایک تماشہ بن کر رہ گیا ہے۔ اسے کان میں اڑس کر یا پہن کر بس میں سوار ہوا جاتا اور سوار ہونے کے بعد نیچے کر لیا جاتا ہے۔ بس کے کمپیوٹر کے ذریعے البتہ یہ نوٹس نشر ہوتا ہے کہ ماسک اتارنا سختی سے منع ہے۔ ایسا کرنے والوں کو لاکھوں روپے جرمانہ کیا جائے گا، کنڈکٹر سے پوچھا جائے تو وہ بے بسی کا اظہار کرتے ہیں کہ مسافر ان سے جھگڑا کرتے اور زبردستی سوار ہوتے ہیں، انہی سپیڈو بسوں میں سے ایک یا دو کے ڈرائیور درد مند ہیں جو جو لوگوں کو مائیک اور سپیکر کا سہارا لے کر خبردار کرتے ہیں کہ ماسک پہنیں۔

میں نے آج اس طرف اس لئے توجہ دی کہ آج کل اسی کورونا کی افریقی قسم اومنی کرون کا چرچا ہے۔ اس کے مثبت کیس پاکستان میں بھی بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومتی سطح پر تشویش کا اظہار ضرور کیا جا رہا ہے لیکن ایس او پیز پر عمل کرانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ مجھے گزشتہ دنوں ایک دو شادی کی تقریبات میں شرکت کرنا پڑی۔ شادی ہال میں گیا تو باہر تحریر ضرور تھی کہ ماسک کے بغیر داخلہ ممنوع ہے اور مہمان حضرات ویکسین والے ہوں، لیکن اندر کے ماحول بالکل ہی لاپرواہی والے تھے حتیٰ کہ عملے نے بھی ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے۔ مہمان گلے مل رہے اور مصافحے کرتے جا رہے تھے، یہی صورت حال بازاروں شاپنگ مالز اور مارکیٹوں کے علاوہ ریستورانوں میں بھی ہے۔ یہ صورت حال رہی تو اومنی کرون کے کیسوں میں تیزی سے جو اضافہ ہونا شروع ہوا، اس میں شدت آ جائے گی اور ہمارا ملک پھر سے پانچویں لہر کا شکار ہو کر مزید پریشانی میں مبتلا ہوگا۔

حکومت بہت خوش اور وزیراعظم فخر کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جلد وبا پر قابو پایا گیا۔ وہ اسے اپنا کارنامہ بتاتے ہیں۔ میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، تاہم یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ ہمارے ملک کی بیشتر آبادی نے پولیو کی طرح ویکسین لگوانے سے گریز کیا۔ اس کے باوجود دنیا کی نسبت،ہم کم متاثر ہوئے میرے نزدیک اگر سروے کیا جائے تو یہ ثابت ہوگا کہ دیہات میں رہنے والے کسان اور شہروں میں سخت مزدوری کرنے والے محنت کش اس جرثومے سے کم متاثر ہوئے کہ ہر دو مشقت اور محنت کی وجہ سے سخت جان ہیں اور ان میں وباء کے مقابلے کی سکت اس عام شہری سے زیادہ ہے جو نازک کام کرنے والے لوگ ہیں اگر متاثرین اور مرحومین کا سروے کرکے تجزیہ کیا جائے تو یہی ثابت ہوگا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم احتیاط ہی کو بالاء طاق رکھ دیں، میری درخواست ہے کہ تشہیر کی بجائے سختی کی جائے اور جو حصرات ویکسین سے گریز کرتے ہیں، ان کو ویکسین لگائی جائے اور تقریبات والے مہمانوں اور مسافروں کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ ماسک کا استعمال تو لازم کریں، حکومت اور افسر صرف حکم اور ہدایت جاری نہ کریں، عملی قدم بھی اٹھائیں اور سخت نگرانی کا سلسلہ شروع کیا جائے کہ اللہ ہمیں اس نئی لہر سے بھی محفوظ رکھے۔

مزید :

رائے -کالم -