نون لیگ کا المیہ 

نون لیگ کا المیہ 
نون لیگ کا المیہ 

  

گزشتہ تین برسوں میں نون لیگ عوام کے اندر یہ تاثر پیدا کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ پانامہ کے مقدمے میں انصاف کے اصولوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور ایک منتخب وزیراعظم کو معزول کرنے میں عدلیہ بطور ہتھیار استعمال ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سابق چیف جسٹس ثاقب نثار عوامی ناپسندیدگی کا سامنا کر رہے ہیں اور اخبارات سے لے کر ٹی وی چینلوں تک، ڈرائنگ روموں سے لے کر تھڑوں کی سیاست تک کہیں بھی کوئی ان کا دفاع کرتانہیں پایا جاتا ہے۔ نون لیگ کی اس کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سنائی گئی سزائیں بے معنی ہو چکی ہیں،عمران خان اس پوری سازش کاایک ہم مہرہ ثابت ہو رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں نواز شریف کی سرخروئی اٹل ہے، ان کی جانب سے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اپنی تعبیر پانے کو ہے اور ان کا ’مجھے کیوں نکالا‘ کا منتر کام کرگیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں نواز شریف کے اس سوال کا جواب مل گیا ہے اور جسٹس صدیقی سے لے کر جج ارشد ملک اور جج ارشد ملک سے لے کر جسٹس رانا شمیم تک ہر کوئی ایک ہی بات کر رہا ہے کہ نواز شریف کو قانونی طریقے سے نہیں بلکہ قانون کاغلط استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طریقے سے نکالا گیا تھا۔ 

2018ء کے متنازع انتخابات کے تین سال گزرنے کے بعد آج ایک کٹھ پتلی حکومت کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے آگے کیا ہوگا؟ اصول کی بات کی جائے تو ایک فریش مینڈیٹ ہی ملک کے جملہ مسائل کا حل ہے تاکہ جمہور کی آواز کو سنا جا سکے اور عوامی امنگوں کی ترجمانی ممکن بنائی جا سکے جس کے نتیجے میں ایک ایسی سیاسی جماعت کو اقتدار میں آنے کا موقع مل سکے جس کے بارے میں عوام کو یقین ہو کہ وہ انہیں اس دلدل سے نکال سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نون لیگ واحد سیاسی جماعت ہے جسے فوری نئے انتخابات سوٹ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیا پیپلز پارٹی، کیا پی ٹی آئی، کیا علاقائی جماعتیں اور کیا مذہبی جماعتیں، کیا فوج اور کیا عدلیہ، کسی کو بھی فوری طور پر نئے انتخابات سوٹ نہیں کرتے ہیں۔ خاص طور پر فوج اور عدلیہ تو کسی بھی صورت نون لیگ کے ساتھ کوئی مفاہمتی فارمولہ طے کئے بغیر اس کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار نہیں ہونے دیں گے۔ چونکہ نون لیگ کو اس وقت عوام کی بے پناہ تائید حاصل ہے اس لئے وہ بھی اگر کسی ایسے مفاہمتی فارمولے کی جانب بڑھتی ہے تو اس کے لئے زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔ 

جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی تمام تر کوشش کے باوجود پنجاب میں پیپلز پارٹی کا سرکس چلتا دکھائی نہیں دیتا ہے کیونکہ بلاول کے ہر دورے کے موقع پر بتایا جاتا ہے کہ بڑے بڑے نام پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرنے والے ہیں اور پھر آخر میں بلدیاتی سطح کے درجن بھر افراد کی شمولیت کا اعلان کردیا جاتا ہے اور ہر بار کوئی بڑا سیاسی پٹاخہ پھوٹنے سے رہ جاتا ہے۔

عمران خان کے بارے میں ان کے بہی خواہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ اگر انہیں دیوار سے لگایا گیا تو وہ ازخود مڈٹرم انتخابات کا اعلان کر سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ عمران خان فوج کے خلاف بھی آواز بلند کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کے بہی خواہ تو ان سے ایک ہیرو ایسے اقدامات کی توقع کرتے ہیں جبکہ خود عمران خان ایک ہیرو کی بجائے ہیرو کے دوست کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دوسرے معنوں میں کرکٹ کا ہیرو سیاست میں ہیرو کا دوست بنا ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر فوری انتخابات کے نتیجے میں نون لیگ برسر اقتدار آتی ہے توکیا اسے حاصل ہونے والا فریش مینڈیٹ ایک بھرپورمینڈیٹ ہوگا یا پھر ہاف مینڈیٹ ہوگا؟ کیا اس مرتبہ بھی اس کا اختیار محض معیشت کی بحالی ہوگا؟ کیا اس بار بھی وہ مذہبی کارڈ ایسے ہتھیار کے سامنے جب چاہے بے بس کر دی جائے گی اور کیا وہ آئینی اداروں کے آگے کوئی حفاظتی بند ھ باندھ سکے گی یا نہیں؟ یہ بات تو طے ہے کہ کسی کے لئے عوام کی بڑی تعداد کو متحرک کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا۔ اس کے لئے موجودہ اپوزیشن کو بار بار طعنہ سننا پڑتا ہے حالانکہ خود عمران خان بھی اس سلسلے میں بری طرح ناکام رہے تھے اور جب تک تحریک لببیک نے ختم نبوت کے تنازع پر نون لیگ کو دیوارسے نہیں لگادیاتب تک عمران خان کوئی خاص تاثر پیدا کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اسی طرح اگر انہیں علامہ طاہرالقادری کے فدائین کی حمائت نہ ہوتی تو دھرنا کسی صورت کامیاب نہ ہوتا۔ اگر اس بار بھی اقتدار میں آکر نون لیگ معیشت کے ساتھ ساتھ مذہبی کارڈ اور آئینی مداخلت ایسے چیلنجوں کا سدباب نہیں کرپاتی تو اسے دوبارہ سے اس قعر مذلت میں ڈوبنا پڑسکتا ہے جس میں آج سے تین برس قبل جا گری تھی۔

مذہبی کارڈ کے سد باب کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ملک کو آئینی طور پر سیکولر ڈکلیئر کردیا جائے جیسا کہ خود قائد اعظم کی بھی منشا تھی۔ جہاں تک آئین میں مداخلت کا تعلق ہے تو فوری طور پر آئینی اصلاحات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مختلف آئینی اداروں میں تقرریوں اور اختیارات کے اصول و ضوابط کا نئے سرے سے جائزہ لے کر شتر بے مہار اختیارات کو نکیل ڈالی جاسکے۔ خاص طور پر آئین کے آرٹیکل 184(3)میں موجود بے جااختیارات کو چیک کیا جائے تاکہ ملک میں انصاف کا بھرم باقی رہے۔ اگر نون لیگ ایسا کچھ کرپاتی ہے تو ممکن ہے کہ وہ کارکردگی اور معاشی بحالی سے کچھ آگے کا سیاسی سپیس لے سکے وگرنہ اقتدار میں آکر بھی اس کا دائرہ کار محدود ہی رہے اور یہی اس کا المیہ ثابت ہوگا!

مزید :

رائے -کالم -