بے بس قانون طاقتور اشرافیہ 

بے بس قانون طاقتور اشرافیہ 
بے بس قانون طاقتور اشرافیہ 

  

قانون کا جتنا مذاق پاکستان میں اڑایا جاتا ہے شاید ہی کسی دوسرے ملک میں ایسا ہوتا ہو۔ طاقتور طبقوں نے قانون کو اپنی لونڈی سمجھ رکھا ہے، حالیہ دنوں میں چند ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو ثابت کر دیا ہے کہ یہاں جس کے پاس طاقت ہے،پیسہ ہے،اس کے لئے قانون موم کی ناک کے سوا کچھ نہیں۔ کراچی میں شاہ زیب قتل کیس کے سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی کو جیل سے باہر آٹھ ماہ تک ہر قسم کی آزادی اور سہولت فراہم کی گئی۔ راتوں کو وہ اپنے گھر چلا جاتا اور دن کو ہسپتال کے فائیو سٹار ہوٹل جیسے کمرے میں شاہانہ انداز سے رہتا تھا۔ صرف وہی نہیں بلکہ اور بھی سنگین مقدمات کے سزایافتہ مجرمان اس طرح عیش کر رہے تھے یہ تو کہیں سے مخبری ہو گئی اور خبر باہر آئی جس کے بعد سندھ حکومت ایسے ہڑبڑا کے اٹھی جیسے اسے کچھ علم ہی نہیں تھا، حالانکہ یہی شاہ رخ جتوئی جو سندھ کے ایک بڑے وڈیرے کا بیٹا ہے، پہلے بھی ایسے ہی ایک کمرے میں پکڑا گیا تھا اور پکڑنے والے بھی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار تھے۔ سندھ میں کیا کچھ نہیں ہوتا رہا۔ اب بھی بیسیوں افراد ایسے ہیں جنہیں یہی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، جب بھی سندھ کا کوئی پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والا رہنما نیب یا کسی دوسرے ادارے کی گرفت میں آتا ہے، اسے  بیماری کے نام پر یا تو گھر منتقل کر دیا جاتا ہے یا پھر وہ اپنے ہی گھر میں نظر بند ہو جاتا ہے۔ یہ کیسی سہولت ہے جو صرف وڈیروں اور طاقتوروں کو ہی دستیاب ہے۔ پھر تو سبھی کو یہ سہولت ملنی چاہئے کہ وہ اسیری کا عرصہ جیل میں گزارنا چاہتے ہیں یا اپنے گھر میں۔ نہیں صاحب یہ سہولت صرف طاقتور اور مالدار طبقوں کے افراد کو حاصل ہے غریبوں کے لئے تو جیل کا گلا سڑا ماحول ہی سزا کے لئے دستیاب ہوتا ہے۔

اسلام آباد کا مشہور زمانہ عثمان مرزا کیس بھی سب کے سامنے ہے۔ قانون کی رفتار اس قدر سست ہے کہ کمزور مدعی حوصلہ ہار جاتے ہیں۔ انہیں یا تو پیسے کے زور پر رام کر لیا جاتا ہے یا پھر دھمکی اور دباؤ کے ذریعے انہیں کیس سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ عثمان مرزا کیس کے مدعی لڑکی اور لڑکا بھی اپنے دعوے سے منحرف ہو گئے ہیں، لڑکی نے با اثر ملزموں کے حق میں بیان دے دیا ہے حالانکہ سب کچھ ویڈیو کے ذریعے سامنے آ چکا ہے۔ اچھی بات ہے وزیر اعظم عمران خان نے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کا حکم دیا ہے، حکومت اب اس کیس کی خود پیروی کرے گی۔ اس سلسلے میں اسلام آباد کے آئی جی محمد احسن یونس کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ دیکھتے ہیں قانون ان با اثر ملزموں کو سزا دینے میں کامیاب ہوتا ہے یا پھر یہ اس کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ایسے ہائی پروفائل کیسوں کی سماعت بھی کچھوے کی رفتار سے ہوتی ہے۔ قانون شہادت کی موشگافیاں شاید مجرموں کو بچانے کے لئے رکھی گئی ہیں۔ دیکھا گیا ہے جب بھی سنگین نوعیت کے کیسوں کی سماعت اور تکمیل محدود مدت میں ہوئی، مجرموں کو سزا ملی۔ قصور کی زینب کے مجرم کو سزا فوری سماعت کی وجہ سے ملی اس طرح موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کرنے والے بھی جلد سماعت کی وجہ سے سزا پا گئے۔ جہاں قانون کچھوے کی چال چلتا ہے وہاں با اثر افراد قانون کی ٹانگیں توڑ کر اسے اپاہج کر دیتے ہیں۔ جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے معاشرے میں جرم کرنے والوں کو شہ ملتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں اتنے بڑے اور واضح ثبوت والے کیس میں ملزم بچ گئے ہیں تو ہم کیوں نہیں بچ سکتے۔

اس ملک میں فوری انصاف دینے کے لئے کیسی کیسی عدالتیں نہیں بنائی گئیں، خصوصی عدالتیں، انسداد دہشت گردی کی عدالتیں، انٹی کرپشن کورٹس، احتساب عدالتیں، ماڈل عدالتیں غرض ان گنت عدالتیں، مگر سب کچھ ہوا فوری انصاف نہ ہو سکا اب یہی دیکھئے کہ احتساب قانون میں تیس دن کے اندر سماعت مکمل کر کے سزا دینے کا حکم ہے۔ لیکن یہاں تیس تیس ماہ بعد فیصلے نہیں ہوتے۔ عدالت بھی تاریخیں دیتی رہتی ہے اور احتساب بیورو بھی التواء کی درخواستیں دائر کرتا ہے۔ صرف نوازشریف اور مریم نواز کو سزا دلوانے کے لئے سپریم کورٹ نے ایک مانیٹرنگ جج مقرر کیا، جس کی وجہ سے سماعت میں التوا، نہ آ سکا اور فیصلہ سامنے آیا۔ یہ بات بذاتِ خود ہمارے نظام انصاف پر ایک دھبہ ہے کہ نچلی عدالت سے فیصلہ کرانے کے لئے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی نگرانی ضروری ہے۔ پھر ملنے والی سزاؤں کے بعد طبقہ اشرافیہ المعروف طاقتور لوگ کہاں سزا بھگتتے ہیں، نوازشریف لندن چلے جاتے ہیں اور پہلی بار ایک سزا یافتہ ملزم کو ضمانت پر رہائی مل جاتی ہے دوسری طرف شاہ رخ جتوئی جیسے کردار سامنے آتے ہیں جو عمر قید پانے کے باوجود آزاد زندگی گزارتے ہیں، اُنہیں کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔ آج سندھ کے وزیر اعلیٰ جب یہ کہتے ہیں کیا ہوا کوئی مر تو نہیں گیا، تو واقعی ان کے نزدیک یہ ایک معمولی بات ہے، اب انہیں یہ تو نہیں کہا جا سکتا حضور! قانون مر گیا ہے اور اس کی لاش بیچ چوراہے کے گل سڑ رہی ہے۔ ظاہر یہ کیا جا رہا ہے جیسے شاہ رخ جتوئی جیسے مجرموں کو جیل کے نچلے عملے کی وجہ سے ایسی سہولتیں ملتی ہیں، یہ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ یہ کام صرف اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے اشارے پر ہوتا ہے۔ وگرنہ کسی جیل سپرنٹنڈنٹ کی کیا مجال ہے ایک قتل کے مجرم کو کئی ماہ تک علاج کے نام پر ہسپتال میں رکھے، جہاں اس پر کوئی نگرانی بھی نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ ایسا سب کچھ سندھ میں ہی کیوں ہوتا ہے، جواب یہ ہے وہاں قانون کی دھجیاں اڑانے کی روایت بہت پرانی ہے۔

قانون کی بے بسی کے باعث ملک میں جرائم کا گراف بڑی تیزی سے اوپر جا رہا ہے کسی با اثر لٹیرے کو پاکستان میں سزا نہیں ملتی، نیب کے تمامتر دعوے اپنی جگہ مگر یہ تلخ حقیقت بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ وہ آج تک کسی بڑے ملزم کو سزا نہیں دلوا سکا، گھوم پھر کر مثال نوازشریف پر آ جاتی ہے لیکن اس کے لئے کتنا کشت کاٹنا پڑا یہ بھی سب کے سامنے ہے۔ نیب کئی کئی ماہ تک لوگوں کو اپنی حراست میں رکھتا ہے نکلتا کچھ بھی نہیں، جب ریفرنس احتساب عدالت میں جاتا ہے تو سارا معاملہ جھاگ کی طرح ملیامیٹ ہو کر قصہئ ماضی بن جاتا ہے۔ عام آدمی کو انصاف لینے کے لئے یہاں اپنا گھر بار تک بیچنا پڑتا ہے، کسی کا پیارا قتل ہو جائے تو سمجھو اس کا سارا اثاثہ بھی بک گیا کیونکہ قاتل کو سزا دلوانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس کے لئے قدم قدم پر پیسے کی ضرورت ہوتی ہے، حالانکہ یہ کام ریاست کو کرنا چاہئے مگر ریاست صرف ایف آئی آر درج کر کے بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی یہ بات درست ہے پاکستان میں قانون کسی طاقتور کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، کتنے شرم کی بات ہے اب ایسی باتیں زبان زد عام ہو چکی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -