سلسلہ کرامت اولیاء امام ائمہ حضرت امام ابو حنیفہ ؒ

سلسلہ کرامت اولیاء امام ائمہ حضرت امام ابو حنیفہ ؒ

  

پیدائش مبارک کوفہ80ہجری  وصال بغداد شریف150ہجری

         عارف حمید

 ائمہ مجتہدین اعلیٰ درجے کے بہت سے گزرے ہیں انہوں نے قرآن وحدیث  سے مسائل فرعیہ کا استنباط کیا۔ اُن میں چار ائمہ(1) حضرت امام ابو حنیفہؒ 2)  حضرت امام مالک بن انسؒ  (3)  امام شافعی ؒ(4)   امام احمد بن حنبلؒ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ مسائل کا حل بلکہ زندگی کے ہرشعبہ سے متعلق مسائل کے حل پیش کئے ہیں۔ چنانچہ اُمت نے انہیں چار ائمہ کے مسائل فرعیہ کو اپنایا۔ اور بارہ سوسال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی اُمت ان ہی کے بتائے ہوئے مسائل پر عمل کرتی چلی آرہی ہے۔ کیونکہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان ہی چار ائمہ کے پیش کئے ہوئے مسائل کو بہت عزت اور مقبولیت بخشی۔ یہ چاروں امام صحابہ ؓ میں سے بھی نہیں تھے۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ تابعی تھے۔ امام اعظم حضرت امام ابو حنیفہؒ کا نام نعمان بن ثابت تھا۔ آپؒ اپنی کنیت ابو حنیفہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ راویات میں آتا ہے کہ حنیفہؒ  آپ کی صاحبزادی کا نام  تھا۔ حضرت سید علی بن عثمان الجلابی الہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخش ؒ فرماتے ہیں کہ میں ملک شام میں موذن رسولﷺ حضرت سیدنا بلال حبشی ؓ کے مزار مبارک پر ان کے سرہانے سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ معظمہ میں موجود ہوں۔ آقائے دو جہاں رحمت العالمین سردار انبیاء حضور پورنور  ﷺ نے ایک بزرگ کو اپنی آغوش میں بچوں کی طرح اٹھایا ہوا ہے اور باب شیبہ میں داخل ہو رہے ہیں میں نے فرطِ محبت میں دوڑ کر رسول اللہ ﷺ کی قدم بوسی کی سعادت حاصل کی اور آپ ﷺ سے دریافت کیا یارسول اللہ ﷺ! یہ بزرگ کون ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا

 ”یہ میری اُمت کے امام ابو حنیفہ ہیں۔

 جیسا کہ آپؓ کے لقب سے ظاہر ہے کہ آپؓ تمام ائمہ کے مقابلہ میں سب سے بڑے مقام اور مرتبے پر فائز ہیں۔ اسلامی فقہ میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کا رتبہ بہت بلند ہے۔ آپؓ 80ہجری بمطابق 699ء میں کوفہ میں پیدا ہوئے۔ آپؓ نے فقہ کی تعلیم کا آغاز اپنے استاد حماد بن ابی سلیمان سے کیا۔ آپؒ کے اساتذہ کا پہلا طبقہ صحابہ ؓ ہیں۔ آپؒ اس اعتبار سے منفرد ہیں کہ آپ ؒ تابعی ہیں۔ آپؒ نے صحابہ اکرام ؓ سے علم حدیث حاصل کیا۔ آپؒ کے علاوہ امام مالک بن انس ؒسمیت ائمہ احادیث اور ائمہ فقہ میں کوئی امام بھی تابعی نہیں۔ امام اعظم حضرت ابو حنیفہؒ نے براہ راست صحابہؓ کی زیارت کی اور ان سے احادیث نبوی ﷺ کا سماع کیا۔ امام اعظمؒ نے علم حصول کے لئے تین مقامات کا بطور خاص سفر کیا آپؓ نے علم حدیث سب سے پہلے کوفہ سے حاصل کیا۔ کیونکہ آپؒ کوفہ کے رہنے والے تھے۔ اور اس زمانے میں کوفہ علم و ادب خصوصاً احادیث کے حوالے سے بہت بڑا مرکز تھا۔ گویا آپ علم و حدیث کے گھر پیدا ہوئے۔ کوفہ کے علم و احادیث کے وارث امام اعظم ؓ خود بنے۔

 دوسرا مقام حرمین شریف کا تھا جہاں سے آپؒ نے احادیث مبارکہ حاصل کیں اور تیسرا مقام بصرہ تھا۔ امام اعظم حضرت ابو حنیفہؒ نے تقریباً چار ہزاراساتذہ سے علم حاصل کیا۔ امام اعظم حضرت ابو حنیفہؒ روزانہ تین سو نوافل ہر شب کو ادا کرتے تھے کہ ایک عورت نے دوسری عورت سے سرگوشی کی کہ یہ شخص جو بازار سے گزر رہا ہے یہ روزانہ شب کو پانچ سو نوافل ادا کرتا ہے۔ چنانچہ آپؒ نے روزانہ شب کو پانچ سو نوافل ادا کرنا شروع کر دئیے اور اس کو اپنی عادت بنالی۔ آپؒ کا گزر پھر ایک مرتبہ بازار سے ہوا اور اتفاق سے جہاں سے آپ ؒ گزر رہے تھے۔ وہاں ایک شخص دوسرے شخص سے یہ سرگوشی کر رہا تھا کہ یہ شخص جو بازار سے گزر رہا ہے وہ ایک ہزار نوافل روزانہ شب کو ادا کرتا ہے لہٰذا آپؒ نے اس کو اپنی عادت بنا لیا اور ایک ہزار نوافل ادا کرنے لگے پھر کچھ عرصہ گزرا آپؒ کے شاگرد کہنے لگے کہ لوگوں کا گمان ہے کہ آپ ؒ (تمام)ساری رات ہی عبادت میں گزار دیتے ہیں اور نوافل ادا کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ اس دن کے بعد آپ ؒ نے اپنا یہ معمول بنا لیا کہ آپ ساری رات ہی عبادت کرتے رہتے اور آپؒ کا یہ معمول آپؒ کے وصال مبارک تک رہا۔ عبادت و ریاضت کا یہ عالم ہو گیا کہ آپؒ وصال سے پہلے پھر کبھی نہ سوئے۔ دن کے وقت آپؒ طلباء کو درس دیتے اور ساری رات نوافل ادا کرتے۔ 

  امام اعظم حضرت ابو حنیفہؒ دن کو علم پھیلاتے اور رات کو عبادت کرتے۔ حضرت ابو حنیفہؒ کی (زندگی) حیات مبارکہ کے بے شمار گوشے ہیں۔ ائمہ احادیث آپؒ کا ذکر مبارک کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک طرف آپؒ  علم کے سمندر ہیں۔اور دوسری طرف زہد و تقویٰ کے پہاڑ ہیں۔ امام اعظم اپنا طریق اجتہاد و استنباط یوں بیان کرتے ہیں:

 میں سب سے پہلے کسی مسئلے کا حکم کتاب اللہ میں تلاش کرتا ہوں۔ پھر اگر اس مسئلہ کا حل نہ تلاش کر پاؤں تو سنت رسول ﷺ سے لے لیتا ہوں۔ جب وہاں بھی نہ پاؤں تو صحابہ اکرامؒ کے اقوال میں سے کسی کا قول مان لیتا ہوں اور ان اقوال کے علاوہ کسی اور کا قول نہیں لیتا۔ آپؒ کے اجتہادی مسائل اب تک تقریباً اسلامی ممالک میں مانے جاتے ہیں۔

 امام اعظم حضرت ابو حنیفہؒ ابتدائی حال میں گوشہ نشین ہو گئے اور عبادت و ریاضت میں مصروف ہو گئے۔ لوگ آپؒ کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ آپؒ کی آنکھ لگ گئی۔ آپ  ؒ کو خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت با سعادت ہوئی۔ آپؒ نے خواب میں دیکھا کہ حضور نبی اللہ ﷺکے استخوان مبارک کو لوگ جمع کر رہے ہیں۔ اور بعض کو بعض کے مقابلے میں انتخاب کر رہے ہیں۔ اس خواب نے آپؒ کو پریشان کر دیا۔ حضرت امام اعظم نے حضرت محمد بن سیر بنؒ ایک مصاحب سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ آپؒ، رسول اللہ ﷺ کے علم مبارک اور سنت مبارکہ کی حفاظت میں بلند درجے پر فائز ہوں گے۔ اور آپؒ صحیح اور سقیم کو جدا کریں گے کچھ دنوں بعد آپؒ کو نبی کریم ﷺ کی دوبارہ زیارت باسعادت نصیب ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ 

 ”اے ابو حنیفہؒ  تمہیں میری سنت کو زندہ رکھنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔

 تم گوشہ نشینی کو اپنے دل سے نکال دو“

 اس لئے بڑی بڑی اسلامی سلطنتوں میں آپؒ ہی کے مسائل، قانون سلطنت تھے۔ اور آج بھی اسلامی دنیا کا بیشتر حصہ آپؒ کے مذہب کا پیروکار ہے۔ بغداد شریف میں 150ہجری میں آپؒ کا وصال ہوا۔ مقبولیت اور آپؒ کے ساتھ لوگوں کی عقیدت کا عالم یہ تھا کہ آپ ؒ کا چھ مرتبہ نمازجنازہ پڑھایا گیا اور روایات میں آتا ہے کہ پہلی مرتبہ آپ ؒ کے نماز جنازہ میں کم و بیش پچاس ہزار لوگ شریک ہوئے تھے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -