حضرت مولانا سید محمد محفوظ الحق شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ

 حضرت مولانا سید محمد محفوظ الحق شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ

  

(تحریر: پروفیسر محمد انوار الحق شاہ)

زندگی کیا ہے؟ اک نقش غلط کہ جو لوح ہستی پہ ابھرتا ہے اورپھر مٹادیا جاتاہے۔ ایک شرارہ ہے جو بجھا دیا جاتا ہے۔ کئی مرتبہ سوچا کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے مگر طائرِ عقل و خرد کے پر جلنے لگتے ہیں۔

 یہ مسافر جسے انسان کہتے ہیں کہاں سے آتا ہے اور کہاں چلا جاتا ہے؟ ایک ہنستا بولتا انسان کس طرح خاموش ہو جاتا ہے اور اس معمے کا کوئی حل نہیں۔ یہ زندگی ناپائیدار ہے کہ قضاء کا فرشتہ نامۂِ فنالئے ہمارے تعاقب میں ہے۔

اس دارِ فنا میں کسے بقاء ہے؟ عمر نے کس سے وفا کی ہے؟    ؎   تو نے کی جس سے، بے وفائی کی۔

  خطیبِ عرب و عجم،عظیم عالمِ ربانی، صاحبِ علم و عمل، والر اسخون فی العلم کی صفت سے متصف، جن کی زندگی کا کوئی لمحہ عشقِ مصطفی سے خالی نہیں تھا۔ جو بیک وقت عظیم مفسر،ایک بلند پایہ محدث، ایک بے مثال محقق و مفتی،ایک بے نظیر مدرس بھی تھے۔ایک باوقار عالم اور ایک عابدِ شب زندہ دار بھی تھے۔ وہ حسدشریعت قلبِ طریقت تھے جاں معرفت بھی تھے اور روح حقیقت بھی تھے۔

؎   انہیں قبلہ ءِ دل، کعبہ ءِ جاں شمع ہدٰی کہیے۔   حقیقت بیں، حقیقت داں، حقیقت آشناء کہیے

   انہیں غم خوارِ جاں لکھیئے انہیں دل کی دو الکھیے   وہ سب کچھ تھے، میں حیراں ہوں انہیں کہیئے تو کیا کہیئے

میری مراد جناب حضرت مولانا سید محمد محفوظ الحق شاہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ کہ جنہوں نے 63 سال اس مسجد غلہ منڈی بورے والہ میں قال اللہ، قال رسول اللہﷺ کی صدائے دلنواز بلند کئے رکھی۔گزشتہ ماہ داعئی اجل کو لبیک کہتے ہوئے ہم سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئے۔ انا اللہ و اناالیہ راجعون۔

ایک روشن لمحہ حال سے بچھڑ کر ماضی کی تاریکی میں گم ہو گیا۔ایک بے قرار لہر حال کی سطح پر ابھر کر ماضی کے سمندر میں ڈوب گئی۔آج درِ دولت کے دروازے،مسجد کے درودیوار، وہ کتب کہ شب و روز جن کا مطالعہ ء ِ پہیم آپ کی مبارک حیات کی واحد دلچسپی تھا کہ جس کے نتیجے میں آپ نے مختلف کتب ہائے تصوف کا عربی سے اردو میں ترجمعہ فرمایا۔ملک کی وہ مساجد کہ جہاں آپ ہر سال ذکرِ میلاد النبی ﷺکے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔بشمول بے شمار معتقدین، مریدین اور متوسلین سوال کرتے ہیں کہ شاہ صاحب کہاں گئے وہ کب آئیں گے؟ سر پرسفیددستار سجائے، ہاتھ میں عصا مبارک لئے ایک باوقار چال سے چلتے ہوئے وہ کب درِدولت سے باہر تشریف لائیں گے؟ان سے کہہ دو کہ قبلہ شاہ صاحب اب کبھی نہیں آئیں گے۔وہ ددر بہت دو رافق کے پارچلے گئے ہیں۔بلانے والے نے انہیں اس شرط پر بلایا ہے کہ وہ دوبارہ واپس نہ جائیں گے۔

اس جہان رنگ وبو میں بسنے والوں! آگر آپ شاہ صاحب سے ملنا چاہتے ہو تو کچھ دن صبر کرو۔ کہ صبر کرنا ہی مونس دل و جاں ہے۔صبر چارہ بے چارگاں ہے۔ہم سب شاہ صاحب سے ملنے جائیں گے۔

کہتے ہیں وہ دیس بڑا پیارا ہے! نیک لوگوں کے لئے وہاں بے شمار انعامات میں وہاں نہریں بہتی ہیں چشمے ابلتے! رونق ہی رونق ہے مسرت ہی مسرت ہے۔ہاں ہاں وہاں سکھ کے بعد دکھ نہیں۔تندرستی کے بعد بیماری نہیں۔ خوشی کے بعد غم نہیں۔ بہار کے بعد خزاں نہیں۔وصال کے بعد فراق نہیں۔عروج کے بعدزوال نہیں۔ حضور اکرمﷺ فرماتے ہیں کہ اس مقدس زمین پر نیکیوں کے باغ کھلتے ہیں۔ تسبیح وتہلیل سے پھل اور پھول اگتے ہیں تو آؤ ہم بھی عبادت دریاصنت سے درخت اگالیں۔تسبیح و تہلیل سے پھل اور پھول لگالیں۔ اور ہاں کچھ دعاؤں کے پھول آیاتِ قرآنی کے رشتوں میں پروکرشاہ صاحب کے لئے تحفہ بھیجیں کہ دوردیس میں جاکر بسنے والے پیاروں کے لئے یہی تقاضا ء محبت و وفا ہے۔

اگر جسمانی انتقال کوئی ناپسند یدہ چیز ہوتا تو خداوندکریم اپنے محبوبین اور مقربین کو ضرور اس سے مستشنیٰ قرار دیتا۔ بلکہ اسے تو محبوبِ حقیقی سے قریب تر ہونے کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔       ”موت ایک پل ہے جو دوست کو دوست سے ملاتا ہے“۔

موت ایک تلخ حقیقت ہے۔ اس سرائے فانی میں جو آیا اسے جانا ہے یہ مقام رحلت ہے یہاں نہ کوئی ہمیشہ رہا ہے اور نہ رہے گا۔         ؎   الموت قدح کل نفس شار بوھا        والموت باب کل نفس داخلوھا

صرف باری کا انتظار ہے اور اسی انتظار کا نام زندگی ہے۔ یہی ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔(کل نفس ذائقہ الموت) ہر جان موت چکھنے والی ہے۔یہی دستورِ قدرت ہے۔ یہی آئین فطرت ہے۔ یہی مشئیتِ ایزدی ہے۔ ہر فیصلہ اٹل اور ناقابلِ ترمیم۔ اس کے سامنے سب بے بس۔

مگر اس حقیقت کو سمجھنے، جاننے اور ماننے کے باوجود حضور قبلہ شاہ صاحب! آپ کی جدائی کا صدمہ ہماری برداشت سے باہر ہے۔آپ کا خلاء پر کرنا محال ہے۔آپ کے وصال نے بھرے گلشن کو اجاڑ دیا۔مسلم معاشرہ ایک عالم ربانی سے محروم ہو گیا۔ بالخصوص بورے والہ شہر ایک بابرکت انسان کے وجود سے تہی دامن ہو گیا۔اللہ تعالیٰ آپ کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطاء فرمائے اور اپنا قربِ خاص عطاء فرمائے۔دین کی خاطر آپ کی مساعی جمیلہ کو شرفِ قبولیت سے نوازے بلکہ آپ کے صدقے سے ہماری بخشش فرمائے آمین بحرمتہ سید المرسلین ﷺ۔ ہم سب کو صرب جمیل عطاء فرمائے۔میں اس وقت تصور میں آپ کی تصویر دیکھ رہا ہوں۔ چہرے پر خاموش تبسم،آنکھوں میں ایک انجانی سی کشش،جبین متین پر عظمت و وقار سے آثار،شخصیت میں ایک پیارا سا نکھار اور نہ جانے کیا کیا۔کتنا بڑا سرمایہ لٹ گیا۔ کیسی متاع گراں چھن گئی، کیسا گوہر نایاب تہہ خاک گم ہو گیا! کل قیامت کو متقین کی صف میں میں عالم ِ تخیل میں آپ کو یوں دیکھ رہا ہوں۔

ان المتقین فی جنت و نہرفی مقعد صدق عندملیک مقتدرہ

؎   کچھ نہیں فرق باغ و زنداں میں    آج بلبل نہیں گلستاں میں 

    شہر سارا بنا ہے  بیت حزن   ایک یوسف نہیں جو کنعاں میں 

وصال کے دن نمازِ فجر کے بعد معمول سے ہٹ کر ایک گھنٹہ درسِ قرآن دیا۔ جبکہ عام طور پر آپ تیس پینتیس منٹ درس قرآن دیا کرتے تھے۔تقریباً10۔ بجے صبح داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔

ہسپتال میں جاتے ہی ڈاکٹرز نے آکسیجن لگادی۔میں نے دیکھا تکلیف کے باوجود کچھ پڑھ رہے ہیں۔دائیں بائیں ذکر کی صورت سرکو ہلا رہے ہیں۔ پھر کچھ دیر بعد پرسکون ہو گئے۔ہم سمجھے کہ ڈاکٹر نے جو انجکشن وغیرہ لگائے ہیں ان کی وجہ سے آپ کو نیند آگئی ہے لیکن کاش ایسا ہی ہوتا۔آہ آپ اب ہم میں نہیں رہے تھے۔انا للہِ و انا الیہ راجعون۔ آپ کے عقیدت مندوں کا ایک جم غفیر تھا جو کہ جنازے میں حاضر تھے۔کالج روڈ سے گراؤنڈ تک ملتان روڈ اور راجباہ کے دونوں اطراف اور کالج گراؤنڈ نیز ملحقہ عمارتوں کی چھتیں سب انسانوں سے بھری ہوئی تھیں۔کہیں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ بورے والہ کی تاریخ میں اس سے بڑا جنازہ آج تک چشمِ فلک نے نہیں دیکھا۔ غلہ منڈی بورے والہ کی جس مسجد میں آپ نے ساری زندگی دین کی خدمت کی اسی مسجد کے ایک کونے میں اب آپ آرام فرمارہے ہیں۔  

 ؎    آسماں تیری لحدپہ شبنم افشانی کرے۔    آمین

مزید :

ایڈیشن 1 -