مری واقعہ عوام اور اداروں کا یکساں کھلواڑ؟

مری واقعہ عوام اور اداروں کا یکساں کھلواڑ؟
 مری واقعہ عوام اور اداروں کا یکساں کھلواڑ؟

  

مری واقعہ کے بعد ہمارے سوشل میڈیا نے بالعموم اور الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا نے بالخصوص عوامی رویوں، اخلاقی قدروں کی زبوں حالی، اداروں کی بے حسی کا کھل کر پردہ چاک کیا ہے۔ حکومتی وزراء کی کہانیاں اپوزیشن کے الزامات بے وقعت ہو کر رہ گئے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکمران ڈھٹائی سے ساڑھے تین سال گزارنے کے باوجود اپنی ہر ناکامی کو گزشتہ حکومتوں پر تھوپنے سے باز نہیں آ رہے اور اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے۔ اپوزیشن لیڈر پی ڈی ایم اور  پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے پاس بھی تین چار فقرات پر مبنی بیانات رہ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا کی خربیاں اور لغویات اپنی جگہ مری واقعہ میں اس کے کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں ان میں بے بس اور مجبور افراد کی طرف سے حالِ دِل بیان کرنا اور ایسی ایسی جگہ سے جہاں بظاہر الیکٹرونک میڈیا، پرنٹ میڈیا کا جانا محال  ہے وہاں سے اپنے موبائل کے ذریعے اداروں کی کارکردگی کو ایکسپوز کرنا اور عوام کی اخلاقی گروٹ سے آگاہ کرنا خوش آئند ہے۔

پوری قوم 20روپے کا انڈا،500روپے میں دینے اور  ہیٹر ایک گھنٹے کے لئے 1000 روپے کا،2000 ہزار والا کمرہ50ہزار، روٹی 10روپے کی بجائے200 روپے میں دینے،اور ایسے بہت سے واقعات اور چیزیں مختلف خاندانوں کی طرف سے سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہیں، سنجیدہ طبقہ سر پکڑے بیٹھا ہے یقینا دلخراش واقعات ہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا،مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ پہلی دفعہ ہوا ہے، نہیں ہم پاکستانی قوم من حیث القوم اخلاقی قدروں کو کھو چکے ہیں،انتہائی پستی میں گر چکے ہیں، ہمیں اپنی اور اپنے خاندان، کاروبار، دکان کو بچانے اور اپنے فائدے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا، ہم حلال و حرام کی تمیز بھول چکے ہیں۔ زیادہ دور کی بات نہیں ہے کورونا کے آغاز پر ہم نے100روپے پاؤ والی ثنا مکی(بوٹی) دو ہزار میں چھٹانک فروخت ہوتے اور مجبور خاندانوں کو خریدتے دیکھا ہے۔ ڈینگی میں پیناڈول گولی کا5 روپے والا پتا50 روپے میں فروخت ہوا ہے۔ یہی حال چینی، آٹے، گھی کا ہے ذخیرہ اندوزی گناہ نہیں رہی،دوسرے کو تماشا  بنانا مجبوری سے فائدہ اٹھانا میرا اور میری قوم کا وطیرہ بن چکا ہے۔ ہم سچی بات کرنے سے گھبراتے ہیں،دوسروں میں برائی کی تلاش ہمیں رہتی ہے،مری کے المناک واقع سے موجودہ حکومت کے ساڑھے تین سال یا میاں شہباز شریف کے 9سال کے واقعات کا جائزہ لیں،ردعمل، مذمت، تحقیقاتی کمیٹی اور پھر نیا واقعہ اور نئے بیانات، بحث جاری ہے۔ایک کے بعد دوسرا واقعہ اور ایک جیسا آخر کیوں ہوتے ہیں؟ روکے نہیں جا سکتے؟ درمیان میں لاہور کا ایک ماہ میں دو دفعہ رونما ہونے والا واقع بیان کرنا ضروری ہو گیا ہے۔دسمبر2021ء میں 10ٹن مردہ مرغی پکڑی گئی، 9جنوری 2022ء کو پھر5 ٹن مری ہوئی مرغی پکڑی گئی جگہ بھی وہی، مارکیٹ بھی وہی، پکڑنے والے بھی وہی، پکڑے جانے والے بھی وہی، پھر آخر ایسا کیوں؟ زندہ قوموں میں یہ سوال کیا جا سکتا ہے؟

صحافتی طالب علم ہونے کے ساتھ انرولڈ وکیل کی حیثیت سے ذمہ داری سے کہتا ہوں سزاؤں کا خوف ختم ہو گیا ہے، جزا سزا نہ ہونے کی وجہ سے عدالتی نظام مذاق بن کر رہ گیا ہے۔اربوں روپے کا ملزم بھی سزا دینے والوں کی اجازت سے علاج کے لئے ملک سے باہر ہے، دوسو روپے کی گھڑی چوری کرنے والا اور 10کلو آٹا چوری کرنے والا چھ چھ ماہ سے جیل میں ہے، عوام خود غرضی اور بے شرمی کی دلدل میں دھنس رہے ہیں۔مری کے تازہ واقع میں عوام اور اداروں میں خود غرضی اور بے شرمی کا مقابلہ ہوا ہے، غلطی ہو جانا بڑی بات نہیں ہے، غلطی تسلیم کر کے اصلاح کرنا مثبت اقدام ہے۔ ان چیزوں کا قط الرجال ہے۔ واقعات کا تسلسل دین سے دوری، بطور مسلمان ذمہ داریوں سے پہلو تہی اور جرائم کی  سزا کا نہ ملنا ہے۔ پولیس اور عدالتی نظام  بڑے چیلنجز ہیں۔

پورا کالم تمہید کی نظر ہو گیا، سیاحت کے فروغ کا ڈھونڈورا وزیراعظم پیٹ رہے ہیں، قومی اسمبلی میں واہ واہ کرونے کے لئے گزشتہ حکومت سے کئی گنا زیادہ سیاحت بڑھنے کی خوشخبریاں دی جا رہی ہیں حقیقت جانیے اور سر دھنیے۔ 18ویں ترمیم کے بعد سیاحت پاکستان میں وفاقی ادارہ ہی نہیں ہے سیاحت کی مرکزی حیثیت ختم کر کے صوبوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، 25افراد کی  ہلاکت کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے مری کو ضلع بنانے اور سیاحتی مقام میں اعلیٰ ترین درجہ دینے کے پُرکشش اعلانات کی حقیقت جان لیجئے۔ پنجاب میں ساڑھے تین سال میں صوبائی وزیر سیاحت بنایا ہی نہیں گیا، تین سال تک وزیراعلیٰ کا ایک سپیشل اسسٹنٹ ایڈوائزر بنایا گیا،جس کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا۔اب حسان خاور جو ترجمان ہیں ان کو سیاحت کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔پنجاب میں ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے ایک سال میں تین سیکرٹری تبدیل ہوئے ہیں، پنجاب ٹورازم ڈیپارنمنٹ کا دفتر جس میں ہزاروں ٹریول ایجنسیاں، ہزاروں ہوٹل، ریسٹورنٹ رجسٹرڈ ہیں اپنا کوئی دفتر ہی نہیں ہے۔ ایک سال میں دو دفعہ کرایہ کا دفتر تبدیل ہوا ہے، موجودہ حکومت کے ساڑھے تین سال میں چار دفعہ دفتر تبدیل ہو چکا ہے۔ ٹریول ایجنسی،ہوٹلز، ریسٹورنٹ کی ہزاروں فائلز کا ریکارڈ بوریوں میں بند کر کے کمروں میں ٹھونسا گیا ہے، سال میں ایک دفعہ رینول کے موقع پر فائلز گم ہونے اور بار بار چکر لگوانے کے بعد فائلز کا ملنا معمول بن گیا ہے۔پنجاب حکومت کی ٹورازم سے دلچسپی اور ترجیح کا حال یہ ہے دو سال سے کورونا کی وجہ سے ٹریول،عمرہ اور ہوٹل انڈسٹری دیوالیہ ہو گئی ہے۔ان کو ریلیف دینے  اور دوبارہ بحال کرنے کا پروگرام دینے کی بجائے ان کی سالانہ فیسوں میں 60فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔اندھیر نگری اور ٹورازم کے ذہین افسروں اور پنجاب کی بیورو کریسی آج تک ایک ایجنسی سے 32ہزار سالانہ فیس تو لے رہی ہے لائسنس جو کئی سال سے مرکزی حکومت کا 18ویں ترمیم سے پہلے کا بنا ہوا ہے وہ بھی نیا نہیں بنا سکی ہے۔ سیاحت سے لگاؤ اور محبت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں۔ سیالکوٹ، نارووال سے لائسنس فیس کے لئے آنے والا اگر ایک دن لیٹ ہو گیا تو5ہزار جرمانہ لازمی ہے،کیونکہ یہ آئینی مسئلہ ہے، ادارے اور قوم میں افراتفری اور بے حسی کا مقابلہ برابری کی سطح پر جاری ہے۔

گزشتہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی اداروں کی بحالی اور سربراہ لگانے کا وعدہ پورا نہ کر سکی،تبدیلی خواب تھی اور خواب کی تعبیر اگلی حکومت کو دے کر فارغ ہو جائے گا۔ہم عوام بھی ان کے شانہ بشانہ لوٹ مار، اپنے گھر کو بچانے، مجبور کو بلیک میل کرنے کی روایت اسی عزم کے ساتھ آگے بڑھاتے رہیں گے اللہ ہمارے اوپر رحم کرے اور ہدایت دے، عوام کی خدمت اداروں کی عملی بحالی وقت کی ضرورت ہے،سزا اور جزا کے نظام کا نفاذ سب مسائل کا حل ہے اس کے لئے قرآن و سنت کا نفاذ سب مسائل کا حل ہے اس کے لئے قرآن و سنت سے رہنمائی ہمارے لئے موجود ہے جس کے ذریعے دنیا و آخرت دونوں میں فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -