سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ تعلیمی نظام میں جدت کیلئے کوشاں 

سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ تعلیمی نظام میں جدت کیلئے کوشاں 

  

لاہور(پ ر)اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ(ایس ای ڈی)انتظامی وسعت کے اعتبار سے پنجاب کا دوسرا بڑا محکمہ ہے،جہاں پنجاب بھر کے48ہزار سے زائد اسکولوں میں لگ بھگ4لاکھ اساتذہ موجود ہیں۔ایس ای ڈی نے سال2018سے اب تک اپنی اہم کامیابیوں اور اقدامات کی جھلکیاں جاری کی ہیں۔پنجاب کا تعلیمی نظام دنیا کے سب سے بڑے تعلیمی نظاموں میں سے ایک ہے،اور اس کے پاس اپنے تعلیمی ڈھانچہ کی تبدیلی کے ذریعے ایک بہتر مستقبل کی جانب آگے بڑھنے کا زبردست موقع ہے،لہذا ملک میں انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کو بڑھانے کی جستجو کی غرض سے،حکومت کی جانب سے سال2018میں مضبوط اور اعلیٰ تعلیمی نظام کے قیام کو ایک اہم ہدف کے طور پر چنا گیا۔اس مینڈیٹ کی بنیاد پر،پنجاب میں وزارت تعلیم نے موجود خلاء کی نشاندہی کرنے کیلئے تندہی سے کام کا آغاز کیا اور نظام کی بہتری کیلئے ایسی ترامیم تشکیل دیں جو صوبے کے مجموعی تعلیمی نتائج پر اثر انداز ہوسکیں۔حکومت نے اس ضمن میں پنجاب میں اسکول کے تعلیمی ماحول تک رسائی،مساوات اور انتظام کو بہتر بنانے کیلئے تین اہداف کی جانب کام کرنا شروع کیا۔HRMIS:بھتہ خوری اور بدعنوانی کے خاتمہ کے عزم کے ساتھ لیڈر شپ نے ایک مربوط ہیومین ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم تیار کیا۔HRMISنے اساتذہ کے تبادلوں،ترقیوں،رخصت اور پنشن کے انتظام کو شفاف اور موثر بناتے ہوئے روایتی طریقہ کار میں تبدیلی کو ممکن بنایا۔اس سسٹم میں اساتذہ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ اور فیلڈ فارمیشنز ’سالانہ کانفیڈینشل رپورٹ(اے سی آر)کی الیکٹرانک طریقے سے جمع کرانے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔محکمہ کی اس ڈیجیٹائزیشن سے ہر سال اربوں روپے کی کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔اب تک الیکٹرانک طریقہ سے رخصت کی 3,550,381اور ریٹائرمنٹ کی 7559درخواستیں جمع کرائی جاچکی ہیں۔اساتذہ کے تبادلوں سے متعلق 162341درخواستیں موصول ہوئیں۔

 جن میں سے 81577درخواستو ں پر ٹرانسفر آرڈرز جاری کئے جاچکے ہیں،اسی طرح لائسنس کے حصول کیلئے 74352درخواستیں موصول ہوئیں اور 44770نجی اسکولوں کو لائسنس جاری کئے گئے،اور قومی خزانے کو 8کروڑ روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا گیا،اس کے علاوہ 434,736اے سی آرز الیکٹرانک طریقہ سے جمع کرائی گئیں اور رشوت خوری اور اقرباء پروری کا خاتمہ کرتے ہوئے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر انہیں نمٹایا گیا۔SNC:پی ٹی آئی کی قیادت کا ایک اور اہم پالیسی اقدام واحد قومی نصاب (ایس این سی) ہے،جس کا مقصد طلباء کے سماجی و اقتصادی پس منظر کی بنیاد پر تعلیمی معیار کے خلاء کو پر کرنا ہے۔ایس این سی سے متعلق مختلف تصورات کے برعکس یہ مسلسل تجاویز اور مشوروں کیلئے کھلا ہے اور اسٹیک ہولڈرز و عام عوام کی سفارشات اور تجاویزاس میں شامل کرکے اس میں مسلسل تبدیلی کا عمل جاری رہتا ہے۔قر آن کی لازمی کلاسیں:ایک اور اہم اقدام اسکولوں میں قر آن کی لازمی کلاسوں کا انعقاد ہے،جہاں پہلی کلاس سے آٹھویں کلاس کے بچوں کیلئے کلاسز کے دوران قر آن کی ترجمہ کے ساتھ تعلیم کو یقینی بنایا جائیگا۔بہت سے لوگوں نے امن و آشتی کے مذہب اسلام کو انتہائی غلط طریقہ سے پیش کیا ہے،اور اس لئے ہماری نوجوان نسل کو دین کی اصل روح سے متعلق تعلیم دینا بہت ضروری ہے۔آگے چل کر اس سے ہمیں انتہا پسندانہ نظریات کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی اور ایک ایسی نسل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی جو اپنے مذہب کی اصل روح اور بنیاد کو با خوبی سمجھتی ہے۔انصاف دوپہر اسکول پروگرام:مزید بر آں صوبے کے ہر بچے تک معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے انصاف آفٹر نون اسکول پروگرام(آئی اے ایس پی)متعارف کرایا گیا ہے،اس پروگرام کے ذریعے اتنے بڑے ہدف سے منسلک انفرا اسٹریکچر سے متعلق اخراجات کو ختم کردیا گیا ہے،اور یہ وسائل کے اصلاح کی شاندار مثال ہے،جہاں حکومت کو لگ بھگ240ارب روپے کی بچت ہوگی۔یہ دوپہر کی شفٹوں میں پرائمری اسکولوں کو ابتدائی سطح تک اپ گریڈ کرکے کیا گیا ہے۔اس منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اب تک7008پرائمری اسکولوں کو ابتدائی سطح تک اپ گریڈ کیا گیا ہے،جبکہ دوسرے مرحلے میں ابتدائی سطح کے اسکولوں کو ثانوی سطح تک اپ گریڈ کیا جائیگا۔خواجہ سراؤں کی تعلیم:پی ٹی آئی کے جامع تعلیمی نظام کے تحت،اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ پنجاب نے خواجہ سراء کمیونٹی کیلئے مخصوص اسکولوں کا اعلان کیا ہے،جہاں پرائمری سے ہائی اسکول تک تعلیم دی جائیگی۔ملتان میں اس ضمن میں شاندار پذیرائی کے بعد اسکول ایجوکیشن پنجاب کے وزیرمرادراس نے پنجاب کے 9ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں اس منصوبے کو توسیعی دینے کا فیصلہ کیا۔ان میں سے دو اسکول آئندہ ماہ سے لاہور میں فعال ہوجائینگے۔اس اقدام کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ خواجہ سراء کمیونٹی کے بچوں کو عام اسکول میں جانے سے روکا جائے،اس کے بجائے اس اقدام کا مقصد خواجہ سراء کمیونٹی کے رسمی تعلیم کے انتخاب کو متاثر کرنے والی رکاوٹوں کو دور کرنا اور سماجی خلیج کو ختم کرنا ہے۔موجودہ قیادت کے تحت اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ،پنجاب معیاری تعلیم تک رسائی میں اضافہ کے مسائل سے نمٹنے کیلئے بڑے پیمانے پر کچھ اور اقدامات شروع کرنے جارہا ہے،جس میں تمام تر توجہ سروس ڈلیوری میں ہر سطح پر ڈیجیٹل سالوشنز کو شامل کرنے پر مرکوز ہے،تا کہ پائیداری اور توسیع پذیری کو ممکن بنایا جاسکے۔  

مزید :

کامرس -