1958 ء سے آج تک آئی ایم ایف 22 پروگرام دے چکا،حسان خاور

    1958 ء سے آج تک آئی ایم ایف 22 پروگرام دے چکا،حسان خاور

  

لاہور (نمائندہ خصوصی)معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب حسان خاور نے کہا ہے کہ نجی ہسپتالوں میں صحت کارڈ کے موثر نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ عام آدمی کو نجی ہسپتالوں سے علاج کی سہولت کسی انقلاب سے کم نہیں۔ ریاست مدینہ کا خواب بھی یہی تھا کہ عام آدمی کا بلاتفریق علاج معالجے کی سہولت میسر آئے۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے 400 ارب کا پیکج بھی مختص کیا ہے۔ یہ ایسا اقدام ہے جو ماضی میں نہیں اٹھایا گیا۔ اس اقدام سے 3 کروڑ خاندان مستفید ہوں گے۔ بالخصوص آج سے قبل سے سرکاری ہسپتالوں میں علاج کیلئے لوگوں کو سالوں انتظار کرنا پڑتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ اب وہی سہولت عوام کو صحت کارڈ کی بدولت نجی ہسپتالوں میں میسر آئے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز الحمرا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ ڈیمز، سڑکیں، صحت کارڈ، کسان کارڈ، آفٹر نون سکول پروگرام جیسے دیگر منصوبے اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ معیشت کو ٹھیک کرنے کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند سیاسی شعبدہ باز معاشی ڈاکٹروں کے روپ میں سامنے آکر نت نئے ٹوٹکے بتا رہے ہیں۔ ان ٹوٹکوں سے بچنا ہے۔ حسان خاور نے مزید کہا کہ پاکستان میں آئی ایم ایف کا چلنے والا پروگرام پہلا پروگرام نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی 1958 سے آج تک آئی ایم ایف پاکستان کو 22 پروگرام دے چکا ہے۔ سابقہ حکومتیں سمجھتی تھیں کہ آئی ایم ایف ایک ٹائٹینک بن چکا ہے جس کا رخ نہیں موڑا جا سکتا۔ لیکن تحریک انصاف نے اس مفروضے کی نفی کی۔ عمران خان کی قیادت میں نہ صرف اس ٹائیٹینک کا رخ موڑا گیا بلکہ حادثے سے بچا کر معیشت کو صحیح ٹریک پر کھڑا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھانے والے عوام کو پہلے ان 22 پروگرامات کا جواب دیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کیلئے مشکل فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ عوام کیلئے آنے والا کل آسان بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکومت ملک کو قرضوں سے واپس کھینچ کر خودانحصاری پر فوکس کر رہی ہے۔ معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب حسان خاور سے ورلڈ بنک کے وفد کی ملاقات ہوئی جس میں مری سمیت دیگر سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی سہولیات کیلئے مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔ اس موقع پر ورلڈ بنک کے تعاون سے بالخصوص مری میں ریسکیو سنٹرز کھولنے اور لوڈ مینجمنٹ کیلئے بیشتر نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ معاون خصوصی وزیر اعلی نے مری میں ٹریفک مینجمنٹ کے لیے جامع پلان تیار کرنے اور اس ضمن میں آگاہی مہم پر زور دینے کی ہدایت بھی کی۔ 

حسان خاور

مزید :

صفحہ اول -