حکومت ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی، بوجھ عدالتوں پر پڑ رہا ہے: چیف جسٹس پاکستان

حکومت ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی، بوجھ عدالتوں پر پڑ رہا ہے: چیف جسٹس ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے حکومت ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی، بوجھ عدا لتوں پر پڑ رہا ہے۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں سابق جج جسٹس شبر رضا رضوی کی کتاب کی تقریب کی رونمائی ہوئی۔تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا لوگوں کے بنیادی حقوق سلب ہو رہے ہیں۔ حکومت وہ چھوٹے اور عام کام نہیں کر رہی ہے جو حکومت کو کرنے چاہئیں عوام مشکل حالات اور مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، آئین کے بینیفشری عوام ہیں، بطور چیف جسٹس ذمہ داری عائد ہوتی ہے آئین کی عملداری کروائیں۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے خطاب کرتے ہوئے کہا ملک دو لخت ہوا تو ملک میں متفقہ آئین نہیں تھا، ہمارا قومی سانحہ ہے ملک کے قیام کے بعد 1973ء میں جا کر آئین پر اتفاق رائے ہوا۔ پاکستان بننے کے بعد انتخابات میں کہا گیا مسلم لیگ کیخلاف ووٹ دینے والا مسلمان نہیں ہو گا، جوڈیشل کمیشن میں فیصلے جمہوری روایات کے مطابق کیے جا تے ہیں۔ وہ لمحہ نا قابل فراموش تھا جب جوڈیشل کمیشن نے پہلی خاتون جج کی سپریم کورٹ تعیناتی کی سفارش کی۔ ملک میں آئین نے مار شل لاء کے دور دیکھنے کے بعد کچھ تسلسل حاصل کیا ہے، امید ہے ملک میں آئین کی مکمل بالادستی قائم رہے گی۔سابق چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کتاب میں آئین کی تشریح کی گئی ہے، ملک میں چار مارشل لاز نے آئینی بالادستی کو پامال کیا، مارشل لا ایڈمنسٹریٹرز نے آئین کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا۔ ملک میں صدارتی اور پارلیمانی نظام کے تجربے کیے گئے، ملک میں سوشلزم، فری مارکیٹ، اسلامزم اور فلاحی ریاست کا تجربہ کیا گیا، ملک نے عدالتی نظام میں مختلف تجربے بھی دیکھے،وقت بتائیگا کون سا تجربہ سب سے زیادہ کامیاب رہا۔ ملک خوشحال تھا لیکن پچھلے کچھ دہائیوں سے یکسر حالات تبدیل ہو گئے، ملک میں بھوک، افلاس اور خوف ہے، اللہ کی نا شکری سے معاشرے میں مسائل جنم لیتے ہیں۔ بڑے مسائل کو حل نا کیا جائے تو ملک میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے جس کا ملک کو ابھی سامنا ہے، ملک میں چار پانچ بڑے مسائل ہیں جن کو سمجھ کر مشاورت کر کے حل کرنے کی ضرورت ہے، دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ریا ست کا مذہبی فراہمی میں کیا کردار ہونا چاہیے۔ 

چیف جسٹس پاکستان

مزید :

صفحہ اول -