خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ بہبود آبادی کااجلاس

  خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ بہبود آبادی کااجلاس

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)محکمہ بہبود آبادی خیبرپختونخوا نے ماں بچے کی صحت، بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ اور باوقار زندگی اپنانے کی خاطر خاندانی توازن برقرار رکھنے کے آگاہی مہم کے لئے اب تک مجمودی طور پر 2سو جید علماء کرام کو بطور ماسٹر ٹرینرز تربیت دی ہے، جن کے توسط سے اضلاع کی سطح پر مزید 4 ہزار علماء کرام کی  اس سلسلے میں تربیت کا عمل مکمل ہوا۔ محکمہ نے اپنی آگاہی مہم میں اب تک 400 اخباری، 739 ٹیلی وژن کے جبکہ 6ہزار ریڈیو اشتہارات نشر کراچکاہے۔ محکمہ نے 2018 تا اب تک صوبہ کے تقریباً 20 لاکھ خاندانوں تک اپنا پیغام پہنچایا ہے جو اب باقاعدگی سے خاندانی مراکز صحت سے رہنمائی بھی حاصل کرتے ہیں۔ یہ انکشاف قائمہ کمیٹی برائے محکمہ بہبود آبادی کا اسمبلی کانفرنس ہال پشاور میں بروز جمعرات کو منعقدہ اجلاس کے موقع پر ہوا۔ کمیٹی کی چیئرپرسن و ایم پی اے نگہت یاسمین اورکزئی اجلاس کی صدارت کر رہی تھی۔اس موقع پر صوبہ بھر میں قائم و فعال کل 632 خاندانی فلاحی مراکز، مزید 320 مراکز، جن میں ضم اضلاع کے 120 خاندانی فلاحی مراکز بھی شامل ہیں، کے قیام کے لئے محکمانہ اقدامات، موضوع بحث کے حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کی روشنی میں وفاقی و صوبائی سطح پر قائم ٹاسک فورس میں کمیٹی ممبران کو شامل کرانے کی سفارشات سمیت بچوں سے بدسلوکی و زیادتی، نوجوانوں میں نشہ آور ادویات کے استعمال میں اضافہ جیسے مسائل پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ چیئرپرسن نگہت یاسمین اورکزئی نے اجلاس میں محکمہ سماجی بہبود کے حکام کی عدم شرکت پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اگلے کمیٹی اجلاس میں طلب کرنے کے احکامات بھی جاری کئے۔ انہوں نے پشاور، مالاکنڈ اور ایبٹ آباد میں محکمے کی قائم کردہ ریجنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کی طرز پر جنوبی و ضم قبائلی اضلاع میں بھی آر ٹی آئیز کے قیام کے لیے فی الفور اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔ایم پی اے نگہت یاسمین اورکزئی نے محکمہ بہبود آبادی کا تمام محکموں کیساتھ بلواسطہ یا بلا واسطہ قریبی تعلق ہونے کی وجہ سے ان کے آپس میں بھر پور ہم آہنگی قائم رکھنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی ہدایات بھی جاری کیں۔چیئرپرسن و ایم پی اے نگہت یاسمین اورکزئی نے محکمہ بہبود آبادی کی ذمہ داریوں و اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آبادی کو منظم و باقاعدہ بنانے سے نہ صرف ترقیاتی، اقتصادی و سماجی مسائل پر بآسانی قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ ملک کی مجموعی ترقی کی رفتار میں کو بھی مزید تیز و بہتر کیا جاسکتا ہے۔ اجلاس میں ممبران قائمہ کمیٹی و اراکین صوبائی اسمبلی ملیحہ علی اصغر خان، ستارہ آفرین، مدیحہ نثار، بصیرت بی بی، صوبیہ شاہد اور ایم پی اے شاہدہ وحیدسمیت محکمہ بہبودِ آ بادی کے ایڈیشنل سیکرٹری، ڈائریکٹر جنرل و ڈپٹی ڈائریکٹر ضم اضلاع، ڈپٹی و اسسٹنٹ سیکرٹریز صوبائی اسمبلی، اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل، سیکشن آفیسر محکمہ قانون اور دیگر متعلقہ افسران بھی شریک ہوئے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -