وقت آگیا ہے کہ اختیارات کا صحیح استعمال کیا جائے،مرتضی وہاب

وقت آگیا ہے کہ اختیارات کا صحیح استعمال کیا جائے،مرتضی وہاب

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایڈمنسٹریٹر کراچی، مشیر قانون و ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ شہر کو بہتر بنانے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو دوبارہ فعال کرنا ہوگا، وقت آگیا ہے کہ اختیارات کا صحیح استعمال کیا جائے، سب کا اپنا سیاسی نکتہ نظر ہوسکتا ہے مگر ہمیں اپنے شہر کو اون کرنا چاہئے، تنقید کا احترام کرتے ہیں شہر کی بہتری کے لئے کام کررہا ہوں اور کرتا رہوں گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کی صبح کے ایم سی ہیڈ آفس میں کلک کے تحت ”کراچی شہر کیسے کام کرتا ہے“ کے موضوع پر اوپن فورم سے خطاب اور شرکاء کے سوالو ں کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر سید افضل زیدی بھی موجود تھے، اوپن فورم میں بڑی تعداد میں کراچی کے مختلف کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات، ممتاز شہریوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ ہمیشہ یہی کہا ہے کہ چار ماہ میں چالیس سال کے مسائل حل نہیں کرسکتا، سیاسی بلیم گیم پر نہیں جاؤں گا، شہریوں کو چاہئے کہ اپنے ادارے کے ایم سی سے تعاون کریں، ماضی میں کراچی کی بہت منفی برانڈنگ کی گئی حالانکہ یہ شہر اتنا برا نہیں ہے، انہو ں نے کہا کہ 2021 میں نئی حلقہ بندیوں کا وقت آیا تو لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ریفارم کی گئیں اور اس مقصد کے تحت تما م سیاسی پارٹیوں او راسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد فیصلے کئے گئے، نئے نظام میں بلدیاتی اداروں کو مکمل اختیارات دیئے گئے ہیں تاکہ شہریو ں کے مسائل حل ہوں اور ان کا معیار زندگی بہتر ہوسکے، فنڈز جمع ہونگے تو عوام منتخب نمائندوں سے پوچھ سکیں گے کہ پیسے کہاں خرچ کئے گئے، ماضی میں تواتر کے ساتھ اختیارات نہ ہونے کا رونا رویا گیا جس پر یہ ایک عام تاثر بن گیا، ہمیں بحیثیت شہری فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اداروں کو پائیدار بنیادوں پر چلانا چاہتے ہیں یا نہیں، ریونیوجمع کئے بغیر کوئی گھر یا ادارہ نہیں چل سکتا جس دن صحیح طریقے سے پیسے اکھٹے کرنے شروع ہوگئے پتا چل جائے گا کیا کیا بہتر ی کے کام ہوسکتے ہیں، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ ملک میں پانی کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے جسے حل کرنے کیلئے لوکل، صوبائی اور وفاقی حکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا، کراچی میں ڈی سیلی نیشن پلانٹ کی تنصیب میں صوبائی حکومت ہماری مدد کررہی ہے، ہم نے فیصلہ کیا کہ پی ٹی وی لائسنس کی طرح بلدیاتی ٹیکس فی گھرانہ 200 روپے بجلی کے بلو ں کے ذریعہ وصول کیا جائے مگر اس پر شدید تنقید شروع کردی گئی اور کہا گیا کہ شہریوں پر بوجھ ڈال رہے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ نئے نظام میں پراپرٹی ٹیکس بھی بلدیاتی اداروں کے ذریعہ وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بمبئی جیسے شہر میں پراپرٹی ٹیکس سے 53 بلین روپے جمع ہوتے ہیں جبکہ کراچی میں صرف 1.6 بلین روپے جمع ہوتے ہیں،کراچی کے شہریوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس شہر کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں،شہر کو صاف ستھرا بنانے کے لئے شہری حکومت کا ساتھ دیں، شہریوں کو ترقی کے عمل میں شراکت داری کرنا ہوگی اور شہر کو اپنانا ہوگا۔ 

مزید :

صفحہ اول -